2- نظام حکومت الٰہیہ
وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ ۱۵وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ۱۶
اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا تو دونوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بہت سے بندوں پر فضیلت عطا کی ہے. اور پھر سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور انہوں نے کہا کہ لوگو مجھے پرندوں کی باتوں کا علم دیا گیا ہے اور ہر فضیلت کا ایک حصہ عطا کیا گیا ہے اور یہ خدا کا کھلا ہوا فضل و کرم ہے.
2- نظام حکومت الٰہیہ:
کتنی جاذب نظر بات یہ ہے کہ جناب سلیمانؑ داؤد نے شرک اور بت پرستی کے آثار کا بہت جلد خاتمہ کرکے نظام الٰہی کا نفاذ کردیا۔ ایک ایسا نظام جس کا اصلی اور
بنیادی عنصر علم و دانش اور مختلف شعبوں میں آگاہی ہے۔
ایسا نظام جس کے تمام پروگراموں اور منصوبوں میں "خدا" کا نام سرفہرست ہے۔
ایسانظام جس میں تمام لائق عناصر سے استفادہ کیا گیا ہے ۔ حتٰی کہ مقصد کے حصول کے لئے ایک پرندے سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔
ایسا نظام جس میں دیووں کو مقید کردیا گیا اور ظالموں کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔
مختصر یہ کہ ایسا نظام جس کے پاس فوجی طاقت بھی بہت حد تک تھی اور جاسوسی کے ذرائع بھی کافی تھے جو لوگ اقتصاديات اور پیداوار کے مختلف امور میں مہارت یا کافی حد تک واقفیت رکھتے تھے ان سب کو ایمان اور توحید کے پرچم تلے جمع کر دیا۔