1- دین اور سیاست
وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ ۱۵وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ۱۶
اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا تو دونوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بہت سے بندوں پر فضیلت عطا کی ہے. اور پھر سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور انہوں نے کہا کہ لوگو مجھے پرندوں کی باتوں کا علم دیا گیا ہے اور ہر فضیلت کا ایک حصہ عطا کیا گیا ہے اور یہ خدا کا کھلا ہوا فضل و کرم ہے.
چند اہم نکات
1- دین اور سیاست:
بعض کوتاہ نظریہ سمجھتے ہیں کہ دین وعظ نصیحت یا انسان کی شخصی اور نجی زندگی کے مسائل کا نام ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کہ دین مجموعہ ہے تمام قوانین
حیات کا اور ایسا وسیع پروگرام ہے جو تمام انسانی زندگی خصوصًا اس کے اجتماعی مسائل کو اس کے اندر لیے ہوئے ہے۔
انبیاء کو اس لیے بھیجا گیا تاکہ وہ عدل کو قائم کریں۔ (حدید / 24)۔
دین انسان کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے اور بنی نوع انسان کی آزادی کے تحفظ کے لیے ہے۔ (سوره اعراف / 175)۔
دین مستضعفین کو ظالموں کے چنگل سے آزاد کروانے اور ظالموں کو تسلط ختم کرنے کے لیے ہے۔
مختصر یہ کہ دین نفس کی راہ پر تعلیم وتربیت کرکے انسان کامل بنانے کے لیے آیا ہے ۔ (جمعہ / 2)۔
ظاہر ہے کہ عظیم مقاصد حکومت تشکیل دیئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتے۔ کون شخص اخلاقی نصیحتوں کے ذریعے عدل وانصاف کا راج قائم کرسکتا ہے اور ظالموں کے
کے ہاتھوں کو مظلوموں کے گریبانوں تک جانے سے کون شخص وعظ و نصیحت کے ذریعے روک سکتا ہے؟
کون شخص غلاموں کے ہاتھوں سے غلامی کی زنجیریں طاقت کا سہارا لیے بغیر توڑ سکتا ہے؟
جس معاشرے میں ذرائع ابلاغ اور پروپگینڈہ مشینری فاسد اور مفسد لوگوں کے ہاتھ میں ہو ، وہاں تعلیم و تربیت کے صحیح اصولوں کا نفاذ کون شخص کرسکتا ہے ؟ اور
کون شخص اخلاقی فضائل کو انسان کے اندر اس کے بغیر پروان چڑھا سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے ہم کہتے ہیں کہ "دین" "سیاست" سے جدا نہیں ہے اور یہ دونوں ایسے عناصر ہیں جو ایک دوسرے کا اٹوٹ حصہ ہیں ۔اگر دین سیاست سے جدا ہوجائے
تو دین اپنا انتظامی بازو کھو دے گا۔ اگر سیاست دین سے جدا ہوجائے تو ایک ایسے تخریبی عنصری تبدیل ہوجائیگی ، جو خود سر لوگوں کے مفادات کی حفاظت کرے گی۔
اگر پیغمبراسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ آپ نے اپنے آسمانی دین کو دنیا بھر میں بڑی تیزی سے متعارف کروایا تو اس کی وجہ بھی یہی
تھی کہ آپؐ نے موقع ملتے ہی ایک حکومت تشکیل دی اوراسی حکومت الٰہیہ کے ذریعے آپ خدا کے بتائے ہوئے مقاصد کو عملی جامہ پہنایا۔
اگر کچھ اور انبیاء کو بھی اس قسم کا موقع ملا تو انھوں نے بھی بہتر انداز میں دعوت حقہ پیش کی لیکن جو انبیاء مشکلات میں گھرے ہوئے تھے اور حالات نے انھیں
حکومت تشکیل دینے کی اجازت نہیں دی تو وہ اپنی دعوت کو اس انداز میں پیش کرکے زیادہ کامیاب نہیں ہوسکے۔