Tafseer e Namoona

Topic

											

									  داؤدؑ اور سلیمانؑ کی حکومت

										
																									
								

Ayat No : 15-16

: النمل

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ ۱۵وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ۱۶

Translation

اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا تو دونوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بہت سے بندوں پر فضیلت عطا کی ہے. اور پھر سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور انہوں نے کہا کہ لوگو مجھے پرندوں کی باتوں کا علم دیا گیا ہے اور ہر فضیلت کا ایک حصہ عطا کیا گیا ہے اور یہ خدا کا کھلا ہوا فضل و کرم ہے.

Tafseer

									  تفسیر
             داؤدؑ اور سلیمانؑ کی حکومت 
 جناب موسٰی علیہ السلام کی داستان کا ایک گوشہ بیان کرنے کے بعد خدا دو اورعظیم انبیاء "داؤد اور "سلیمان" کے واقعات بیان کرتا ہے البتہ داؤد کے بارے میں ایک 

اشارہ ساہے لیکن سلیمان کے بارے میں مفصل گفتگو ہے۔ 
 ان دو انبیاء کی داستان کا یہ حصہ جناب موسٰی کی داستان کے بعد اس سے ذکر ہوا ہے کیونکہ یہ باپ بیٹا بھی بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے ان کی اور دوسرے 

انبیاء کی تاریخ کا فرق یہ ہے کہ انھوں نے بنی اسرائیل کی فکری اور اجتماعی آمادگی کے پیش نظر ایک عظیم حکومت تشکیل دی اوراسی حکومت کے ذریعے دین الٰہی کو وسعت ملی لہذا 

یہاں پر دوسرے انبیاء کی نسبت گفتگو کا انداز بھی کچھ اور ہے ۔ دوسرے انبیاء کے بارے میں ہے کہ انھیں اپنی قوم کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ بعض کو تو ان کی قوم نے 

شہر بدر کر دیا لیکن یہاں پر ایسی چیزوں کا تذکرہ نہیں ہے ۔ یہاں بات بالکل مختلف ہے۔ 
 یہاں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اگر خداوند عالم کی طرف دعوت دینے والے افراد کو حکومت تشکیل دینے کی توفیق حاصل ہوجائے توکس قدر 

مشکلات حل ہوسکتی ہیں اور کس حد تک حالات سدھر سکتے ہیں؟ 
 بہرحال یہاں پر علم قدرت اور عظمت کے بارے میں گفتگوں کی گئی ہے۔  
  جن وانس سمیت تمام مخلوقات کے حکومت الٰہیہ کے آگے سرتسلیم خم کرنے کا تذکرہ ہے۔ 
 اس کے علاوہ پرندوں کا بھی اس حکومت کے تابع ہونے کا ذکر ہے۔ 
 اور آخر میں منطقی اور مدلل دعوت کے ذریعے بت پرستی کے خلاف زبردست معرکے اور پھرحکومت کی طاقت سے صحیح صحیح سے فائدہ اٹھانے کا تذکرہ ہوگا ۔ 
 یہی ده امتیازات ہیں جو ان دو پیغمبروں کو دوسرے انبیاء سے جدا کرتے ہیں ۔ 
 قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے علم عطا کرنے کے ذکر سے ان انبیاء کی داستان کا ذکر کیا ہے جو کسی صالح اور طاقتور حکومت کا بنیادی عنصرہے، فرمایا 

گیا ہے: ہم نے داؤد اور سلیمان کو اچھا خاصا علم عطا فرمایا۔ (ولقد أتينا داؤد و سلیمان علمًا)۔ 
 بعض مفسرین نے یہاں پر اپنے آپ کو خواہ مخواہ زحمت میں ڈالا ہے اور یہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس علم سے مراد کون سا علم ہے جو داؤد اور سلیمان کو 

عطا کیا گیا ہے۔ 
 بعض مفسرین نے دوسری آیت کے قرینے سے قضا اور فیصل کا علم مراد لیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: 
  وأتيناه الحكمة وفصل الخطاب 
  "ہم نے داؤد کو حکمت عطا کی اور جھگڑوں کے ختم کرنے کا طریقہ بتایا۔ (ص / 20) 
  وكل أتينا حکمًا و علمًا 
  ہم نے ان میں سے ہرایک (داؤد اور سلیمان) کو فیصلے کرنے کی قوت اور علم عطا کیا۔ (انبیاء / 79)۔
 بعض مفسران نے انھی آیات میں موجود منطق الطیر (پرندوں کی زبان) کے قرینے سے پرندوں کے ساتھ گفتگو کا علم مراد لیا ہے۔ 
 بعض دوسرے مفسرین نے قرآنی آیات کے قرینے سے زرہ وغیرہ کے بنانے کا علم مراد لیا ہے ۔ 
 لیکن ظاہر ہے کہ یہاں پر "علم" وسیع معنوں میں ہے جس میں توحید ، مذہبی عقائد اور دینی قوانین کا علم بھی شامل ہے اور قضا کا علم بھی بلکہ وہ تمام علوم بھی جو اس 

طرح کی وسیع اور طاقت ورحکومت کے لیے ضروری ہوتے ہیں کیونکہ کسی حکومت الٰہیہ کی تشکیل جو عدل و انصاف کی بنیادوں پر قائم ہو اور آباد و آزاد ہو وہ ایک وسیع اور سرشار علم 

کے بغیر ناممکن ہے۔ اس طرح سے قرآن مجید نے انسانی معاشرے اور حکومت کی تشکیل میں علم کے مقام کو واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ معاشرے اور حکومت کے لیے اس کی حیثیت 

عمارت کے بنیادی پتھر کی سی ہے۔  
 اوراس کے بعد جناب داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی زبانی یہ جملہ نقل کیا گیا ہے : اور انھوں نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے 

بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے (وقالا الحمد لله الذي في فضلنا على كثير من عباده المؤمنین)۔ 
 اور یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ "علم" کی عظیم نعمت کے فورًا بعد "شکر" کی بات آئی ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ ہرنعمت کا شکر لازم ہے اور شکر کی حقیقت یہ ہے کہ 

جس نعمت کو جس کام کے لیے خلق کیا گیا ہے اسے اسی کے لیے استعمال کیا جائے اور خدا کے ان دو عظیم پیغمبروں نے اپنے خداد علم سے ایک حکومت الٰہیہ کو منظم کرنے میں بھرپور 

فائدہ اٹھایا۔ 
 ضمنی طور پر یہ بھی آپ کو بتاتے چلیں کہ انھوں نے اپنی دوسروں  ہر فضلیت کا معیار "علم" کو قرار دیا ہے نہ کہ اقتدار اور حکومت کو۔ نیز شکربھی علم کی نعمت 

عطا ہونے پر ادا کیا ہے کیونکہ گرکسی کی قدروقیمت ہے تو علم سے ہے اور ہر قدرت و طاقت علم ہی سے میسرآتی ہے۔ 
 یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کردہ ایک باایمان قوم پرحکومت کرنے پرشکر ادا کر رہے ہیں کیونکہ فاسد اور بے ایمان لوگوں پر حکومت کوئی قابل فخر بات نہیں ہے۔ 
 یہاں پر سوال پیش آتا ہے کہ انھوں نے شکر کے موقع پر کیوں فرمایا ہے کہ خدا نے ہمیں بہت سے مومنین پرفضلیت عطا فرمائی ہے یہ کیوں نہیں فرمایا تمام مومنین 

پرجبکہ وہ اپنے دور کے تمام لوگوں سے افضل تھے۔ 
 ممکن ہے کہ ان کے یہ الفاظ ادب اور انکساری کے پیش نظر ہوں کیونکہ ایسے انسان کبھی بھی اپنے آپ کو تمام دوسروں سے برتر نہیں سمجھتے۔ 
 یہ پھر اس لیے کہ انھوں نے کسی خاص زمانے کو مدنظر نہ رکھا ہو بلکہ تمام زمانے ان کے پیش نظر ہوں اورمعلوم ہے کہ تاریخ بشریت میں ان سے بھی عظیم کئی 

انبیاء گزرے ہیں ۔ 
 بعد والی آیت میں پہلے حضرت داؤدؑ سے جناب سلمانؑ کے وراثت پانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: 
 اورسلیمان ، داؤد کے وارث ہوتے (وورث سلیمان داؤد)۔ 
 یہاں پر "ارث" سے کیا مراد ہے ؟ اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں : 
 بعض مفسرین اسے علم و دانش کی میراث سمجھتے ہیں کیوں کہ ان کی سمجھ کے مطابق انبیاء کی کوئی میراث نہیں ہوتی ۔ 
 بعض نے اسے مال اور حکومت کی میراث میں منحصر قرار دیا ہے کیونکہ اس کلمہ سے سب سے پہلے ذہن میں یہی معنی آتا ہے بعض نے پرندوں کے ساتھ گفتگو 

کرنے کے علم کو میراث بتایا ہے (منطق الطیر )۔ 
 لیکن اگر آیت پر توجہ دی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ آیت مطلق ہے اور بعد والے جملوں میں علم کا بیان بھی آیا ہے اور دوسری نعمتوں کا بھی (اوتینا من كل شي ء) تو پھر 

کوئی وجہ نہیں کہ ہم آیت کے مفہوم کو محدود کر دیں لہذا جناب سلیمان علیہ اسلام اپنے باپ کی ہرچیز کے وارث بنے۔ 
 جو روایات اہل بیت اطہا علیہم السلام کے ذریعے سے ہم تک پہنچی ہیں ان سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہلبیت علیهم السلام کے سامنے جو بھی یہ کہتا کہ انبیاء اپنی 

میراث نہیں چھوڑتے اور" نحن معاشر الانبياء لانورث "(ہم انبیاءکاگروہ اپنی کوئی  میراث نہیں چھوڑتے) سے استدلال کرتا تو وہ اس کے جواب میں یہی آیت تلاوت فرماتے اوراس سے یہ 

ثابت کرتے کہ مذکورہ حدیث چونکہ کتاب خدا کے مخالف ہے لہذا قطعًا قابل اعتبار نہیں۔ 
 جو حدیث اہل بیت سے وارد ہوئی ہے اس میں ہے: 
 جب  ابوبکرنے مصمم ارادہ کرلیا کہ فدک کو جناب فاطمہ علیہ السلام سے چھین لے اور یہ بات جناب فاطلمہ تک پہنچی تو آپ ابوبکر کے پاس تشریف لے گئیں اور 

فرمایا: :
   افی كتاب الله أن ترث اباك ولاارث ابي ، لقد جئت شيئا فريا، فعلى عمد 
  تركتم کتاب الله ونبذتموه وراء ظهور کم اذ يقول، وورث سلیمان داؤد 
  کیا کتاب خدا میں ہے کہ تم تو اپنے باپ کے وارث بنو لیکن میں اپنے باپ کی وارث نہ بنوں 
  یہ تو عجیب بات ہے !! کیا تم نے کتاب اللہ کو جان بوجھ کر پس پشت ڈال دیا ہے ؟ جبکہ خدا 
  فرماتا ہے کہ سلیمان داؤد کے وارث بنے۔ ؎1
  پھرقرآن فرماتا ہے: سلیمان نے کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی گفتگو کی تعلیم دی گئی ہے ( وقال يايها الناس علمنا منطق الطیر)۔ 
 اور ہمیں سب کچھ دیا گیا ہے ، اور یہ واضح اور رون فضیلت ہے ( واو تینا من كل شي ان هذا لهوا الفضل المبین)۔ 
 اگرچہ بعض لوگوں کا دعوٰی ہے ک نطق اور بولنے کا لفظ انسان کے علاوہ کسی اور کے لیے صحیح نہیں البتہ مجازی معنی کی اور بات ہے لیکن اگر غیرانسان بھی 

اپنے منہ سے ایسی آواز اور الفاظ نکالیں جو معانی اور مطالب کو بیان کرتے ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے  نطق نہ کہیں : کیونکہ "نطق " ہروہ لفظ ہوتا ہے جوکسی حقیقت اور 

مفہوم کو بیان کرتا ہو۔ ؎2 
 البتہ ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ مخصوص آوازیں جو بعض جانور غم و غصے کے وقت یا خوشی کے موقع پر یا درد کے موقع پر یا اپنے بچوں سے پیار کے وقت نکالتے 

ہیں وہ بھی نطق ہے ایسا نہیں ہے بلکہ ایسی آوازیں ہیں جو خاص حالت کے ساتھ منہ سے نکلتیں ہیں لیکن جیسا کہ آگے چل کرآیات سے مفصل معلوم ہوگا کہ جناب سلیمان علیہ السلام ہدہد 

کے ساتھ معانی اور مطالب پرمبنی گفتگو کرتے ہیں ۔ اس کے ذریعے پیغام بھیجتے اور اسے پیغام  کا جواب لانے کا حکم دیتے ہیں۔ 
 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حیوانات ان آوازوں کے علاوہ جو ان کے حالات بیان کر رہی ہوتی ہیں ، خداوند عالم کے حکم کے مطابق اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ 

خاص مواقع پرگفتگو کریں ۔ اسی طرح آینده آیات میں "چیونٹی" کی گفتگو کے بارے میں
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1      کتاب احتجاج طبرسی منقول ازتفسیر نورالثقلین جلد 4 ص  75 ۔ 
  ؎2      "ابن منظور" کتاب "لسان العرب میں کہتے ہیں کہ نطق کا معنی گفتگو کرنا ہے، پھر کہتے ہیں" وكلام كل شئ منطقه ومنه قوله تعالی علمنا منطق الطیر" ہرچیزکا کلام اس کا نطلق 

ہوتا ہے علمنا منطق الطیر والی آیت بھی اسی باب سے ہے پھر علماءادب میں سے ابن سیڈے یہ بات نقل کرتے ہیں 
 (یہ کوکہتے ہیں کہ بات کرنا صرف انسان ہی کے ساتھ مخصوص ہے اس کے برخلاف) کبھی غیرانسان کے لیے بھی نطق کا استعمال ہوتا ہے۔ اس نکتے کی طرف بھی  

توجہ لازمی ہے کہ علماۓ منطق اور فلاسفہ کے نزدیک نطق اس قدرت تفکر کو کہتے ہیں جو انسان کو بولنے کی طاقت عطا کرتی ہے۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
بھی بحث ہوگی۔ 
 البتہ قرآن مجید میں بعض مقامات پر نطق اپنے وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے جو "نطق" کی روح او نتیجہ کی حقیقت کو بیان کرتا ہے اور وہ ہے "مافی الضمیر کا بیان" 

اور یہ بیان خواہ الفاظ اور گفتگو کی صورت میں ہو یا دوسرے حالات کی صورت میں جیسے یہ آیت ہے: 
  هذا كتابنا ينطق علیکم بالحق 
  یہ ہماری کتاب ہے ہجو حق بات تمھیں بتاتی ہے۔   (جاثیہ /29 )۔ 
 لیکن جناب سلمان کی پرندوں کے ساتھ گفتگو کو اس معنی میں تفسیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حضرت سلیمانؑ ان مندرہ بالا آیات کے ظاہر کی رو سے پرندوں 

کے خاص الفاظ کو سمجھ سکتے تھے جو وہ اپنا مطلب بیان کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے اور پرندوں کے ساتھ گفتگو بھی کرسکتے تھے۔ 
 اس سلسلے میں مزید تفصیل انشااللہ چنداہم نکات کے ذیل میں آئے گی۔ 
 " اوتينا من كل شئ " (ہمیں ہر چیز سے عطا کیا گیا ہے) یہ جملہ اس محدودیت کے خلاف ہے جس کے بعض مفسرین قائل ہیں ۔ اس کا وسیع مفہوم ہے اوراس میں وہ تمام 

وسائل شامل ہیں جو مادی اور روحانی لحاظ سے حکومت الہیہ کی تشکیل کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور اصولًا اس کے بغیر یہ کلام ناقص ہوگا اور گذشتہ آیات کے ساتھ اس کا کوئی 

واضع تعلق نہیں ہوگا۔
  مقام پر فخرازی نے ایک سوال پیش کیا ہے اور وہ یہ کہ آیا "علمنا" اور "اوتينا" (ہم کو تعلیم دی گئی ، ہم کو عطا کیاگیا) متکبرین کا سا کلام نہیں ہے؟ 
 پھر اس کا جواب بھی انھوں نے خود ہی دیا ہے اور وہ یہ کہ یہاں جمع کی ضمیرسے مراد خود جناب سلیمان اور ان کے والد ہیں یا خود سلیمان اور ان کے رفقائے 

حکومت ہیں اور یہ معمول ہے کہ جب کوئی سربراہ مملکت گفتگو کرتا ہے تو جمع کا صیغہ استعمال کرتا ہے۔