Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره نمل / آیه 7 - 14

										
																									
								

Ayat No : 7-14

: النمل

إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهْلِهِ إِنِّي آنَسْتُ نَارًا سَآتِيكُمْ مِنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ آتِيكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ۷فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۸يَا مُوسَىٰ إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۹وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ ۱۰إِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ ۱۱وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ ۖ فِي تِسْعِ آيَاتٍ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ ۱۲فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ۱۳وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ ۱۴

Translation

اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے اہل سے کہا تھا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے اور عنقریب میں اس سے راستہ کی خبر لاؤں گا یا آگ ہی کا کوئی انگارہ لے آؤں گا کہ تم تاپ سکو. اس کے بعد جب آگ کے پاس آئے تو آواز آئی کہ بابرکت ہے وہ خدا جو آگ کے اندر اور اس کے اطراف میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے اور پاک و پاکیزہ ہے وہ پروردگار جو عالمین کا پالنے والا ہے. موسیٰ! میں وہ خدا ہوں جو سب پر غالب اور صاحبِ حکمت ہے. اب تم اپنے عصا کو زمین پر ڈال دو اس کے بعد موسیٰ نے جب دیکھا تو کیا دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح لہرا رہا ہے موسیٰ الٹے پاؤں پلٹ پڑے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا آواز آئی کہ موسیٰ ڈرو نہیں میری بارگاہ میں مرسلین نہیں ڈرا کرتے ہیں. ہاں کوئی شخص گناہ کرکے پھر توبہ کرلے اور اس برائی کو نیکی سے بدل دے تو میں بہت بخشنے والا مہربان ہوں. اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈال کر نکالو تو دیکھو گے کہ بغیر کسی بیماری کے سفید چمکدار نکلتا ہے یہ ان نو معجزات میں سے ایک ہے جنہیں فرعون اور اس کی قوم کے لئے دیا گیا ہے کہ یہ بڑی بدکار قوم ہے. مگر جب بھی ان کے پاس واضح نشانیاں آئیں تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ کِھلا ہوا جادو ہے. ان لوگوں نے ظلم اور غرور کے جذبہ کی بنائ پر انکار کردیا تھا ورنہ ان کے دل کو بالکل یقین تھا پھر دیکھو کہ ایسے مفسدین کا انجام کیا ہوتا ہے.

Tafseer

									(7) اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِـهٓ ٖ اِنِّـىٓ اٰنَسْتُ نَارًاۚ سَاٰتِيْكُمْ مِّنْـهَا بِخَبَـرٍ اَوْ اٰتِيْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ 
(8) فَلَمَّا جَآءَهَا نُـوْدِىَ اَنْ بُوْرِكَ مَنْ فِى النَّارِ وَمَنْ حَوْلَـهَاۚ وَسُبْحَانَ اللّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ 
(9) يَا مُوْسٰٓى اِنَّهٝٓ اَنَا اللّـٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ 
(10) وَاَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّـهَا جَآنٌّ وَّلّـٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوْسٰى لَا تَخَفْۚ اِنِّىْ لَا يَخَافُ لَـدَىَّ الْمُرْسَلُوْنَ 
(11) اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُـمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوٓءٍ فَاِنِّـىْ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ 
(12) وَاَدْخِلْ يَدَكَ فِىْ جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْـرِ سُوٓءٍ ۖ فِىْ تِسْعِ اٰيَاتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهٖ ۚ اِنَّـهُـمْ كَانُـوْا قَوْمًا فَاسِقِيْنَ 
(13) فَلَمَّا جَآءَتْهُـمْ اٰيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ 
(14) وَجَحَدُوْا بِـهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُـمْ ظُلْمًا وَّعُلُـوًّا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ 


  ترجمہ

(7) اس وقت کو یاد کرو جب موسٰی نے اپنے گھر والوں سے کہا : مجھے دورسے آگ دکھائی دے رہی ہے (تم یہیں ٹھرو) میں ابھی تمھارے لیے کوئی خبر لاتا ہوں یا آگ کا
 شعلہ تاکہ تم اسے تاپ سکو ۔
(8) جب وہ آگ کے نزدیک پہنیچے توایک آواز سنائی دی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس کے اطراف میں ہے اور پاک و منزہ ہے وہ اللہ جو عالمین کا 
 پروردگار ہے۔ 
(9) اور اے موسی میں عزیز و حکیم اللہ ہوں۔
(10)  تم اپنا عصا پھینک دو ، جب اسے دیکھا تو وہ ( جلدی کے ساتھ) جھوٹے چھوٹے ساپنوں کی مانند  ادھر اُدھر ڈور رہا ہے (تو وہ گھبرا گئے اور) واپس مڑے اور پلٹ کر 
 بھی نہ دیکھا ، اے موسی ! ڈرونہیں کہ رسول میرے حضور ڈرا نہیں کرتے۔
(11) مگریہ کہ کسی نے ظلم کیا ہو اور پھر وہ برائی کونیکی میں تبدیل کرے ۔ تو (میں اس کی توبہ کو قبول کرتا ہوں اور) میں غفور و رحیم ہوں۔ 
(12) اور اپنا ہاتھ ذرا اپنے گریبان میں ڈالو ، جب باہر نکلے گا تو چمکدار اور روشن ہوگا اور اس میں کوئی عیب نہیں ہوگا اور یہ ان نوں معجزوں سے ہے جن کے ساتھ تم
 فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجے جاؤ گے ، وہ فاسق اور سرکش لوگ ہیں ۔
(13) اور جب ہماری روشنی عطا کرنے والی بات ان کے پاس آئیں تو انھوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو بے۔
(14) اورظلم و تکبر کی بناء پر ان کا انکار کیا حالانکہ دل میں ان کا یقین رکھتے تھے ، پس(اے رسول ) دیکھو کہ آخر مفسدوں کا انجام کیا ہوا۔