Tafseer e Namoona

Topic

											

									  موسٰیؑ آگ کے شعلے کی امید لے کرآئے

										
																									
								

Ayat No : 7-14

: النمل

إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهْلِهِ إِنِّي آنَسْتُ نَارًا سَآتِيكُمْ مِنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ آتِيكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ۷فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۸يَا مُوسَىٰ إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۹وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ ۱۰إِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ ۱۱وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ ۖ فِي تِسْعِ آيَاتٍ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ ۱۲فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ۱۳وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ ۱۴

Translation

اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے اہل سے کہا تھا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے اور عنقریب میں اس سے راستہ کی خبر لاؤں گا یا آگ ہی کا کوئی انگارہ لے آؤں گا کہ تم تاپ سکو. اس کے بعد جب آگ کے پاس آئے تو آواز آئی کہ بابرکت ہے وہ خدا جو آگ کے اندر اور اس کے اطراف میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے اور پاک و پاکیزہ ہے وہ پروردگار جو عالمین کا پالنے والا ہے. موسیٰ! میں وہ خدا ہوں جو سب پر غالب اور صاحبِ حکمت ہے. اب تم اپنے عصا کو زمین پر ڈال دو اس کے بعد موسیٰ نے جب دیکھا تو کیا دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح لہرا رہا ہے موسیٰ الٹے پاؤں پلٹ پڑے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا آواز آئی کہ موسیٰ ڈرو نہیں میری بارگاہ میں مرسلین نہیں ڈرا کرتے ہیں. ہاں کوئی شخص گناہ کرکے پھر توبہ کرلے اور اس برائی کو نیکی سے بدل دے تو میں بہت بخشنے والا مہربان ہوں. اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈال کر نکالو تو دیکھو گے کہ بغیر کسی بیماری کے سفید چمکدار نکلتا ہے یہ ان نو معجزات میں سے ایک ہے جنہیں فرعون اور اس کی قوم کے لئے دیا گیا ہے کہ یہ بڑی بدکار قوم ہے. مگر جب بھی ان کے پاس واضح نشانیاں آئیں تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ کِھلا ہوا جادو ہے. ان لوگوں نے ظلم اور غرور کے جذبہ کی بنائ پر انکار کردیا تھا ورنہ ان کے دل کو بالکل یقین تھا پھر دیکھو کہ ایسے مفسدین کا انجام کیا ہوتا ہے.

Tafseer

									  تفسیر
              موسٰیؑ آگ کے شعلے کی امید لے کرآئے 
 جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ اس سورت میں قرآن مجید کی اہمیت کو بیان کرنے کے بعد ، خدا کے پانچ عظیم انبیاء اور ان کی ا قوام کے حالات کا تذکرہ ہے جن میں مومنین کی کامیابی 

اور کافروں کی سزا کا واضح طور پر وعدہ موجود ہے۔ 
  سب سے پہلے خدا کے ایک اولوالعزم نبی جناب موسٰی علیہ اسلام کے واقعات بیان کیے گئے ہیں اور براہ راست ان کی زندگی کے نہایت حساس لمحات کا ذکر فرمایا 

گیا ہے۔ بات اس لمحے سے شروع ہوتی ہے جب وحی کی پہلی کرن ان کے دل پر پڑی اور وہ خداوند عالم کے پیغام اور کلام سے آشنا ہوئے ۔ ارشاد ہوتا ہے : اس وقت کو یاد کیجیے جب موسٰیؑ نے 

اپنے گھر والوں سے کہا : مجھے دور سے آگ دکھائی دی ہے (اذ قال موسٰی لاهله انى انست نارًا) ۔؎1 
 تم یہیں ٹھہر جاؤ میں ابھی تمھارے لیے کوئی خبر لاتا ہوں یا آگ کا شعلہ تاکہ تم اسے تاپ سکو (ساتیکم 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    "انست" "ایناس" کے مادہ سے ہے جس کا معنی کسی چیز کو آرام و اطمینان سے دیکھنا اور انسان کو انسان بھی اسی معنی کہا جاتا ہے۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
منها بخیر او اتیکم بشهاب قبس لعلکم تصظلون۔ ؎1 
 اور یہ اس بات کا واقعہ ہے جب جناب موسٰی علیہ اسلام اپنی زوجہ دختر شعیب کے ہمراہ مصر جارہے تھے تو راستے میں ایک بیانان تاریک میں پھنس گئے اور انہیں رات پڑگئی ، 

راستہ کھو بیٹھے اور طوفانی ہوائیں چلنے لگیں پھر یہ کہ اسی وقت ان کی بیوی کو وضع حمل کی تکلیف شروع ہوگئی ۔ جناب موسٰیؑ نے سردی دور کرنے کے لیے آگ کی بہت ضرورت محسوس کی 

لکین اس بیابان میں کچھ بھی نہیں تھا اچانک انھیں دور سے آگ کا شعلہ نظر آیا تو بہت خوش ہوئے اور اسے انسانوں کی موجودگی کی دلیل سمجھا انھوں نے کہا میں جاتا ہوں یا تو تمھارے لیے کوئی 

خبر لاؤں گا یا پھرآگ کا شعلہ جسے تم تاپ سکو۔ 
 یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ موسٰیؑ فرماتے ہیں میں "تمھارے لیے کوئی خبر لاؤں گا یا آگ کا شعلہ (" تمھارےلیے" جمع کی ضمیر ہے) ہوسکتا ہے یہ اس لیے ہو کہ آپ کی بیوی کے 

علاوہ آپ کے ساتھ کوئی اوربھی بچہ یا بچے ہوں کیونکہ  مدین میں آپ کی شادی کو دس سال گزر چکے تھے یا پھر اس لیے کہ بیابان میں اس قسم کی گفتگو مخاطب کے بیشتر اطمینان اور سکون کا 

باعث بنتی ہے ۔ 
 چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام  نے اپنے اہل خاندان کو وہیں چھوڑا اور اس طرف کوچل دیئے جدھر آگ جلتی دیکھی تھی "جب اس کے نزدیک پہنچے تو آواز آئی بابرکت ہے وہ جو 

اس آگ میں ہے اور جو اس کے اطراف میں ہے اور پاک و منزہ ہے وہ اللہ جو عالمین کا پروردگار ہے (فلما جاء هانودی ان بورك من في النار و من حولها وسبحان الله رب العالمین)۔  
 "جو اس آگ میں ہے" اور "جو اس کے اطراف میں ہے" سے کون مراد ہے؟  مفسرین نے اس بارے میں کئی احتمال پیش کئے ہیں ان میں سے جو احتمال زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے وہ 

یہ ہے کہ "جوآگ میں بے" سے مراد جناب موسٰیؑ ہیں کیونکہ آگ کے وہ شعلے جو سبز درخت کے درمیان سے ظاہر ہورہے تھے موسٰی علیہ اسلام سے اس قدر نزدیک تھے کہ گویا وہ خود اس کے 

اندر تھے اور "جو اس کے اطراف میں ہے" سے مراد خداوند عالم کے مقرب فرشتے ہیں جو اس خاص لمحے اس مقدس سرزمین کو گھیرے ہوئے تھے ۔ یا پھر اس کے برعکس یعنی جواس آگ میں ہیں 

سے مراد فرشتے ہیں اور جو اطراف میں ہے سے مراد موسٰی علیہ السلام ہیں۔ 
 بہرحال بعض روایات میں ہے کہ جب موسٰی علیہ السلام آگ  کے نزدیک پہنچے تورک گئے اور خوب غور سے دیکھنے لگے تو نظرآیا کہ درخت کی سبزٹہنی سے شعلہ آتش بھڑک 

رہا ہے جوں جوں یہ شعلہ بڑھتا جارہا ہے ، سبردرخت مزید روشن اور خوبصورت ہوتا جارہا ہے۔ نہ تو آگ کی حرارت درخت کو جلاتی ہے اور نہ ہی درخت کی رطوبت آگ کو بجھاتی ہے ۔ یہ منظر 

دیکھ کر وہ تعجب کرنے لگے۔ ہاتھ میں ایک چھوٹی ٹہنی لیے ہوئے تھے وہاں سے آگ لینے کی غرض سے تھے تو آگ خود بخود ان کی طرف آنے لگی ، 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     "شہاب" اس روشنی کے معنی میں ہے جو آگ کے ستون کی مانند چمکتی ہے اور جس روشنی میں بھی ستون کی ماننده چمک ہو اسے "شہاب" کہاجاتاہے اور دراصل شہاب ان سرگرداں 

آسمانی پتھروں کو کہا جاتا ہے جو اطراف زمین میں پائی جانے والی ہواؤں سے نہایت تیزی کے ساتھ ٹکراتے ہیں تو ان سے آگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں اور فضا میں آگ کا ستون بنادیتے ہیں ۔ 
 "قبس" (قفس کے وزن پر)آگ کے اس شعلے کو کہتے ہیں جو آگ سے الگ کیا جاتا ہے۔  
 "نصطلون" "اسطلاء) کے مادہ سے ہے جس کا معنی آگ تاپنا ہے۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ڈرکر پیچھے ہٹے ، کبھی وہ آگ کی طرف بڑھتے اورکبھی آگ ان کی طرف لپکتی کہ اسی اثناء میں ایک اور آواز آئي اورانھیں وحی کی بشارت دی گئی۔ 
 مراد یہ ہے کہ موسٰی علیہ السلام آگ سے اس قدر نزدیک تھے کہ "من في النار" کے جملے کا مصداق بن گئے۔ 
 تیسری تفسیر جو اس جملہ کی بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ "من في المنار" سے مراد خدا کا نور ہے جوآگ کے شعلے میں جلوہ نمائی کر رہا تھا اور "من حولها" سے مراد جناب 

موسٰی علیہ اسلام ہیں جو اس شعلہ کے نزدیک موجود تھے اور تمام صورتوں میں خدا کے بارے میں "جسم" ہونے کے تصور اور تو ہم کو دور کرنے کے لیے آیت کے آخر میں " سبحان الله رب 

العلمين “ کا جملہ لایا گیا ہے جو خدا کے ہر قسم کے عیب و نقص ، جسم وجسمانیت اورجسمانی عوارض سے مبرا، منزہ اور پاک ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ 
 ایک بار پھر آواز بلند ہوئی اور موسٰیؑ کو مخاطب کرکے کہا : اے موسٰیؑ ! میں عزیز اور حکیم اللہ ہوں ( یا موسٰی انه انا الله العزيز الحكيم )۔
 یہ جملہ اس لیے تھا تاکہ موسٰی علیہ اسلام سے ہر قسم کا شک و شبہ دور کیا جاسکے اور وہ جان لیں کہ یہ خداوند عالم ہی ہے جو ان سے مخاطب ہے نہ کہ آگ کا شعلہ یا درخت۔ 

وہ خدا جو "ناقابل شکست" اور "صاحب حکمت و تدبیر" ہے۔ 
 یہ تعبیر درحقیقت اس معجزے کے لیے مقدمہ کے طور پر ہے جو بعد والی آیت میں بیان ہوگا ۔ کیونکہ اعجاز بھی پروردگار عالم کی ان دوصفات کی وجہ منصہ شہود پرآتا ہے۔ ایک 

قدرت اور دوسری حکمت ۔ لیکن بعد والی آیت تک پہنچنے سے پہلے یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موسٰی علیہ اسلام کو کیسے یقین پیدا ہوا کہ یہ خدائی ندا بے ، غیرخدا کی آواز نہیں؟ 
 تواس کا جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ اس آواز کے ساتھ کی روشن معجزہ بھی تو ہے اور وہ ہے سبز درخت کی ٹہنیوں میں سے آگ کے شعلے کا بلند ہونا ، جو اس بات کا زندہ گواہ تھا 

کہ یہ ایک خدائی امرہے۔ 
 اس کے علاوہ اگلی آیت میں دیکھیں گے کہ اس آواز کے فورًا بعد موسٰیؑ علیہ اسلام کو حکم ہوتا ہے جس کے تحت وہ عصا اور یدبیضا کا معجزہ حاصل کرتے ہیں اور یہ دو سچے 

گواہ تھے اس آواز کی حقانیت اور صداقت پر ۔ 
 ان سب سے قطع نظر قاعدہ کے مطابق خدائی آواز کی اپنی خصوصیت ہوتی ہے جو اسے تمام دوسری آوازوں سے ممتاز کرتی ہے اور جب انسان اسے سنتا ہے تواس کے قلب و روح 

پا ایسا اثر ہوتا ہے کہ اس کے ندائےالٰہی ہونے میں ذره بھربھی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ 
 چونک رسالت کے امور بجالانے کے لیے ظاہری قدرت و طاقت اور حقانیت کی سند کی ضرورت ہوتی ہے خاص کر جب امور رسالت کی ادائیگی فرعون جیسے ظالم اور جابر شخص 

کے سامنے ہو تو اس مقام پرحکم ہوتاہے: اپنا عصا زمین پر پھینکو (والق عصاك )۔ 
 موسٰی علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر دے مارا تو اچانک وہ بہت بڑا سانپ بن گیا "جب موسٰی علیہ اسلام نے اس پر نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ وہ چھوٹے چھوٹے سانپوں کی طرح ادھر 

ادھر دوڑ رہا ہے تو ڈر کر واپس ہوئے اور پیچھے مڑکربھی نہ دیکھا (فلماراها تهتز كانها جان ولى مدبرًا ولم یعقب)۔ ؎1  
 یہ احتمال بھی ہے کہ عصا پہلے تو چھوٹے سے سانپ میں تبدیل ہوا ہو پھر مختلف مراحل کے بعد بہت بڑے اژدہا میں تبدیل ہوگیا ہو۔ 
 یہاں پر ایک بار پھر موسٰی علیہ اسلام سے خطاب ہوتا ہے : اے موسٰی ! ڈرو نہیں کیونکہ رسول میرے حضور ڈرا نہیں کرتے (یا موسٰی لا تخف اني لايخاف لدى المرسلون)۔ 
 یہ قرب پروردگار کا مقام ہے وہ پروردگار جو قادر و توانا ہے۔ یہ اس کی بارگاہ امن ہے۔ یہاں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں پرخوف و ہراس کا وجود ہی نہیں ہے یعنی 

اے موسٰی ! تم عظیم پروردگار کے سامنے ہو اور اس کی ذات کے سامنے ہونے کا خاصہ یہ ہے کہ یہاں پر مطلق امن وسکون ہے۔ 
 اسی طرح کی ایک اور تعبیر سورہ قصص کی آیت 31 میں بھی ہے: 
  یاموسٰی اقبل ولاتخف انك من الأمنين 
  اے موسٰی ! لوٹ جاؤ اور گھبراؤ نہیں کیونکہ تم امن میں آچکے ہو۔ 
 لیکن بعد والی آیت میں "انى لايخاف لدى المرسلون" کے جملے کا استثناء کرتے ہوئے فرمایا ہے مگر جن لوگوں نے ظلم کیا ہے پھر توبہ کرکے اپنے گناہوں کی تلافی کی ہے اور اپنی 

برائیوں کو نیکی میں تبدیلی کردیا ہے تومیں بھی غفورو رحیم ہوں (الا من ظلم ثم بدل حسنًا بعد سوء فاني غفور رحیم)۔ 
 اس استثناء کا پہلے جملے سے کیا ربط ہے ؟ مفسرین کی طرف سے اس دو مختلف نظریئے ہیں۔  
 پہلا تو یہ کہ گزشتہ آیت میں ایک محذوف موجود ہے اور وہ کہ "پیغمبروں کے علاوہ دوسرے لوگ امان میں نہیں ہیں" پھر استثناء کرکے کہتا ہے مگر جن لوگوں نے ظلم و گناہ کے 

بعد توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی تو وہ بھی خدا کی حدود امن میں داخل ہوجائیں گے۔ 
 دوسرا یہ کہ خود جملہ مذکورہ ہی سے استثناء ہے اور ظلم سے ترک اولٰی کی طرف اشارہ ہے ، جو کبھی کبھار انبیاء سے سرزد ہوجاتا ہے اور مقام عصمت کے بھی منافی نہیں ہے 

یعنی اگر انبیاء ترک اولٰی کا ارتکاب کریں تو وہ بھی امن وامان میں نہیں ہیں اورخدا ان کا بھی سخت مواخذه اور محاسبہ کرتا ہے جیسا کہ جناب آدم اور جناب نوح عليہ السلام کے بارے میں قرآنی آیات 

میں مذکور ہے۔ 
 مگروہ انبیاء جو اپنے ترک اولٰی کی جانب فورًا متوجه ہوجاتے ہیں اور خداوند کریم کے دامن محبت میں پناہ لیتے ہیں اور اپنے اعمال صالحہ اور حسنات کے ذریعے اس کی تلافی کرتے 

ہیں جیسا کہ موسٰی علیہ السلام کی داستان میں اس قبطی شخص کے قتل کا
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ "جان" وہی "جن" ہے جس کا معنی نہ دیکھی جانے والی مخلوق ہے کیونکہ چھوٹے اور باریک سانپ عمومًا گھاس پھونس اور زمین کی دراڑوں میں چھپے 

رہتے ہیں اور اندر ہی اندر چلتے رہتے ہیں - 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تذکره آتا ہے جس میں جناب موسٰی علیہ اسلام نے اپنے ترک اولٰی کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کی : 
  رب انى ظلمت نفسى فاغفرلی 
  پروردگار میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے مجھے بخش دے (قصص / 16)
 پھر خدا نے انہیں دوسرا معجزہ دکھایا اور فرمایا اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں لے جاؤ جب وہ نکلے گا تو چمک رہا ہوگا بغیراس کے
کہ اس میں کسی قسم کا عیب ہو (و ادخل يدك في جيبك تخرج بيضاء من غير سوء)۔  
 یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سفیدی ، برص کی بیماری کی وجہ سے پیدا ہونے والی نہیں بلکہ وہ نورانیت اور روشنی ہےجو بذات خود ایک معجزے اور خارق العادت امر 

کے وجود پر دلالت کرتی ہے۔ 
 پھرموسٰی علیہ اسلام پرمزید مہربانی کے طور پر اور راہ راست سے انحراف کرنے والوں کے لیے ہدایت کے مزید امکانات کے لیے فرمایا گیا ہے : تمھارے معجزات صرف یہی دو 

نہیں بلکہ یہ دو ان نو معجزوں میں سے ہیں جنہیں لے کر تم فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجے جاؤ گے کیونکہ وہ باغی اور فاسق لوگ چلے آرہے ہیں اورانھیں ایسی ہدایت و رہنمانی کی 

ضرورت ہے جس کے ہمراہ بہت بڑے معجزات ہوں (في تسع آيات الى فرعون وقومه انهم كانوا قومًا فاسقین)۔ ؎1 
 اس آیت کے ظاہر سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو معجزے بھی موسٰی علیہ السلام کے ان نو مشہور معجزوں میں شامل ہیں ، جو اللہ نے انہیں عطا کیے تھے۔ اس کے بارے میں ہم 

تفصیلی گفتگو سورہ بنی اسرائیل کی آیت 101 کے ذیل میں کرچکے ہیں اور یہ واضح کرچکے ہیں کہ دوسرے سات معجزے یہ تھے : طوفان زرعی آفات ٹڈی دل ، مینڈکوں کی فراوانی اور دریائے 

نیل کے پانی کا خون کے رنگ میں تبدیل ہوجانا ، ان پانچ حوادث میں سے ہرایک فرعون اور اس کے ساتھیوں کے لیے کی تنبیہ تھی ۔ وہ جب بھی ان میں سے کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے تو فورًا موسٰی 

علیہ السلام کے دامن سے وابستہ ہوجاتے تاکہ یہ بلائیں دور ہوں ۔ 
 دوسرے دو معجزات ایک تو خشک سالی "اور دوسرا "میووں کی قلت" تھی ۔ جن کی طرف سورہ اعراف کی آیت 130 میں ارشاد موجود ہے کہ : 
  ولقد اخذنا ال فرعون بالسنين ونقص من الثمرات لعلهه 
  يذكرون 
  ہم نے فرعون والوں کو خشک سالی اور میووں کی قلت میں مبتلا کردیا تاکہ وہ سنبھل جائیں ۔ 
 اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے تفسیرنمونہ کی جلد 12 صفحہ 277 (اردو ترجمہ) ملاحظہ فرمائیں ۔ 
 آخر کار جناب موسٰی علیہ السلام معجزے کے نہایت طاقتور ہتھیار سے مسلح ہوکر فرعون اور اس کے ساتھیوں کے پاس پہنچ گئے 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1       "في تسع ابات" میں جار اور مجرور یا تو "اذهب" سے متعلق ہیں یا پھرکسی ایسے عمومی فعل سے جو تقدیری ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے "في" کا لفظ "مع" کے معنی میں ہو اور"الٰى 

فرعون" بھی یا اسی مقدر جملے سے متعلق ہے یا پھر ایک اور مقدر جملے" انت مرسل بها" سے متعلق ہے ۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
اور انھیں دین حق کی طرف دعوت دی ، قرآن مجید بعد والی آیت میں فرماتا ہے : جب ہماری روشنی عطا کرنے والی آیات ان کے پاس آئیں تو انھوں نے کہا یہ تو بالکل کھلا جادو ہے ( فلما جاء تھم  

ياتنامیصرۃ قالو اھذ اسحر مبین). 
 ہم جانتے ہیں کہ یہ تہمت تنہا جناب موسٰی پر نہیں لگائی گئی بلکہ متعصب اور ہٹ دھرم لوگوں نے انبیاء کے ساتھ مخالفت کی توجہیہ اور دوسروں کا راستہ روکنے کے لیے تمام 

انبیاء پر تہمت لگائی اور یہ ان کے مشن کی عظمت کی واضح دلیل ہے. 
 جبکہ ہم جانتے ہیں کہ انبیاء کرام خداوند عالم کے برگزیدہ ، حق طلب اور پارسا بندے تھے اور جادوگر تو منحرف ، مادیت پرست اور ٹھگ کے لوگ ہوتے ہیں ۔ 
 اس کے علاوہ جادوگر ہمیشہ ایسا کام کرسکتے ہیں جو بالکل محدود ہوتا ہے اور انبیاء کے معجزات غیر محدود ہوتے ہیں اور ان کی دعوت کے مطالب اوران کے تمام پروگرام حق و 

حقیقت پر مشتمل ہوتے ہیں ان کا اور جادوگروں کا کیا مقابلہ ؟ 
 اور پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن نے زیر منظر آیات کے آخر میں ایک اور اہم انکشاف کیا ہے اور وہ یہ کہ ان کے یہ اتہلمات اس لیے نہیں تھے کہ وہ سچ مچ شک و شبہ میں 

مبتلا تھے بلکہ "انھوں نے ان معجزات کا انکار ظلم اور تکبر کی وجہ سے کیا جبکہ ان کے دل میں مکمل یقین اور اطمینان تھا " (وجحد وابها و استيقنتها انفسهم ظلمًا وعلوا)۔ 
 اس تعبیر سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان ایک علحیدہ حقیقت ہے علم و یقین علیحدہ حقیقتیں ! اور یہ بات بالکل ممکن ہے کہ علم و آگاہی کے ہوتے ہوۓ بھی انکار سرزر ہوتا 

رہے۔ 
 دوسرے لفظوں میں ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ "حق کے آگے ظاہری اور باطنی دونوں صورتوں میں جھک جانا"۔ 
 بنا بریں اگر کوئی شخص کسی چیز کے متعلق یقین تو رکھتا ہے لیکن ظاہر و باطن میں اس کے آگے جھکتا نہیں ہے تو اس پراس کا ایمان نہیں ہے بلکہ وه کافر اور منکر ہے اور یہ ایک 

لمبی بحث ہے جس سے فی الحال ہم انھی اشاروں کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ 
 حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام نے ایک حدیث میں کفرکی پانچ اقسام میں سے ایک کفر جحودی (انکاری کفر) بھی بتائی ہے اور "جحود" کے شعبہ جات میں سے ایک شعبہ یہ بتایا 

ہے : 
  هو ان يجحد الجاحد و هم  يعلم انه حق قد استقر عنده 
  اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی چیز کا انکار کرے جبکہ وہ جانتا ہوکہ وہ حق ہے اور یہ حق اس کے نزدیک ثابت بھی ہوچکا ہو۔
 پھر امام نے اسی آیت کو ثبوت کے لیے تلاوت فرمایا۔ ؎1 
 اور یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید نے فرعونیوں کے انکار کے اسباب دو بتاتے ہیں: ایک ظلم اور دوسرے "بڑا بننے کی خواہش"۔ 
 ممکن ہے کہ "ظلم" سے دوسروں کے حقوق غصب کرنے کی طرف اشارہ ہو اور"علوًا" سے مراد ان کی بنی اسرائیل پر 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     کافی جلد 2 باب وجوہ الکفر 287۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
فوقیت طلبی ہو یعنی وہ دیکھ رہے تھے کہ اگر وہ موسٰی علیہ السلام کے معجزات کوتسلیم کرتے ہیں تو ان کے غلط مفادات خطرے میں پڑجائیں گے اور ساتھ ہی وہ اپنے غلاموں یعنی بنی اسرائیل کی 

صف میں آکھڑے ہوں گے اور ان دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی ان کے لیے قابل نہ تھی۔ 
 یا پھر "ظالم " سے مراد اپنی ذات پر ظلم ہے اور "علوًا" سے مراد دوسروں پر ظلم ہے ۔ جیسا کہ سورہ اعراف کی آیت 9 میں آیا ہے:
  بما كانوا بایا نتنايظلمون 
  اس لیے کہ وہ ہماری آیات پر ظلم کرتے تھے۔ 
 بہرحال اسی آیت کے آخر میں ایک نہایت ہی مخصتر مگر جامع فقرے کے ذریعے فرعون اورفرعون والوں کے انجام کو درس عبرت کے طور پر بیان کیا گیا ان کے غرق اور نیست و 

نابود ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : دیکھیے مفسد لوگوں کا کیا انجام ہوا ( فانظر كيف كان عاقبة المفسدین). 
 قران مجید نے اس مقام پر اس بات سے پردہ نہیں اٹھایا کیونکہ اس قوم کی عبرت ناک کہانی وہ دوسری آیات میں پڑھ چکے تھے اوراس مختصر سے اشارے سے وہ جو کچھ سمجھ 

سکتے تھے سمجھ لیا۔ 
 ساتھ ہی یہ بھی بتاتے چلیں کہ فرعونیوں کی تمام برائیوں کو لفظ "مفسد میں جمع کرکے بیان کردیا گیا ہے کیونکہ ایک تو اس کا مفهوم جامع ہے اور دوسرے عقیده  اور عمل کی تباہی 

دونوں اس میں شامل ہیں نیز انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی برائیوں کی طرف اشارہ اس میں موجود ہے۔ لفظ  "افساد" میں ان کے تمام اعمال کو اکٹھا کرکے بیان کردیا گیا ہے۔