حق بینی اورایمان
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ طس ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْقُرْآنِ وَكِتَابٍ مُبِينٍ ۱هُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ۲الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ۳إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ ۴أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَهُمْ سُوءُ الْعَذَابِ وَهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ ۵وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ ۶
طسۤ یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں. یہ صاحبانِ ایمان کے لئے ہدایت اور بشارت ہیں. جو نماز قائم کرتے ہیں زکوِٰ ا دا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں. بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے ان کے اعمال کو ان کے لئے آراستہ کردیا ہے اور وہ ان ہی اعمال میں بھٹک رہے ہیں. ا ن ہی لوگوں کے لئے بدترین عذاب ہے اور یہ آخرت میں خسارہ والے ہیں. اور آپ کو یہ قرآن خدائے علیم و حکیم کی طرف سے عطا کیا جارہا ہے.
حق بینی اورایمان
انسانی زندگی کا اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ وہ حقائق کو اسی طرح سمجھے جیسا کہ وہ ہیں اور ان کے بارے میں میں صحیح موقف رکھتا ہو۔ نظریات ، خواہشات ،
انحرافی میلان اور حب و بغض حقائق کو صحیح طور پر دیکھنے اور سمجھنے میں مانع نہ ہوں اورفلسفہ کی جو سب سے اہم تعریف کی گئی ہے وہ بھی یہی ہے یعنی "حقائق کا ادراک جیسا
کہ وہ ہیں"۔
یہی وجہ ہے معصومین نے خدا وند عالم سے جو اہم ترین تقاضا کیا ہے وہ بھی یہی ہے کہ:
اللهم ارني الاشياء كما هي
خداوندا ! حقائق اور موجودات کو ہمیں ویسے ہی دکھا جیسے وہ ہیں (تاکہ ہم اقدار کو صحیح معنوں میں
سمجھ کر ان کا حق ادا کریں)۔
اور یہ حالت ایمان کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ سرکش خواہشات نفسانی اس راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں ۔۔ یہ رکاوٹیں تقوٰی کے بغیر اور خواہشات نفسانی پر
کنٹرول کیے بغیر دور نہیں ہو سکتیں۔
اسی لیے ہم نے مندرجہ بالا آیات میں پڑھاہے:
جولوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم ان کے برے اعمال کو زنیت دیتے ہیں اور وہ سرگرداں ہوجاتے ہیں۔
اس کا ظاہری نمونہ ہم اپنی آنکھوں کے ساتھ اپنے دور کے دنیا پرست افراد کی زندگی میں دیکھ رہے ہیں۔
وہ ایسی چیزوں پر فخرکرتے ہیں اور ایسے امور کو اپنے تمدن کا حصہ شمار کرتے ہیں جو درحقیقت ننگ و عار ، گناہ اور رسوائی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں۔
وہ بے لگامی اور بے مہاری کو "آزادی" کی علامت ،
عورتوں کی عریانی اور فحاشی کو "تہذیب" کا نشان ،
مقابلہ حسن کو "شخصیت" کی علامت ،
مختلف گناہوں میں آلودگی کو"حریت" کی نشانی ،
آدم کشی ، جرائم کے ارتکاب اور تباہ کاری کو "طاقت" کی دلیل ،
تخریب کاری اور دوسروں کے سرمایے کی لوٹ مارکو"نوآبادیات" ،
ذرائع ابلاغ کو فحاشی اور اخلاق باختگی میں استعمال کرنے کو "احترام آدمیت" ،
مظلوموں کے حقوق کی پامالی کو "انسانی حقوق کااحترام" ،
نشے کی عادت ڈالنے ، ہوا و ہوس اور ننگ و رسوائی میں مبتلا کرنے کو "آزادی کی ایک صورت" ،
دروغ ، ٹھگ بازی اور لوٹ کھسوٹ اور ہرجائز و ناجائز ذریعے سے دوسروں کے مال وثروت
کے اصول کو "استعداد اور صلاحیت کی علامت" ،
عدل و انصاف کے اصولوں کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کے احترام کو "نااہلی اور نالائقی کی علامت" ،
جھوٹ ، وعدہ خلافی ، دورنگی اور فریب کاری کو "سیاست" قرار دیتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ برے اور باعث ننگ و عار کاموں کو ان کی نظروں میں اس حد تک بنا سجا کر پیش کیا گیا ہے کہ یہی نہیں کہ وہ اس سے شرم محسوس نہیں کرتے
بلکہ ان پر فخر بھی کرتے ہیں ۔ جب صورت حال ایسی ہو تو واضح ہے کہ ایسی دنیا کا چہرہ مہرہ کیسا ہونا چاہیئے اور یہ بھی معلوم ہے کہ جو راستہ وہ اختیار کیے ہوئے ہیں کہاں کوجارہا ہے؟