قرآن ایک حکیم دانا کی طرف سے ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ طس ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْقُرْآنِ وَكِتَابٍ مُبِينٍ ۱هُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ۲الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ۳إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ ۴أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَهُمْ سُوءُ الْعَذَابِ وَهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ ۵وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ ۶
طسۤ یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں. یہ صاحبانِ ایمان کے لئے ہدایت اور بشارت ہیں. جو نماز قائم کرتے ہیں زکوِٰ ا دا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں. بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے ان کے اعمال کو ان کے لئے آراستہ کردیا ہے اور وہ ان ہی اعمال میں بھٹک رہے ہیں. ا ن ہی لوگوں کے لئے بدترین عذاب ہے اور یہ آخرت میں خسارہ والے ہیں. اور آپ کو یہ قرآن خدائے علیم و حکیم کی طرف سے عطا کیا جارہا ہے.
تفسیر
قرآن ایک حکیم دانا کی طرف سے ہے
اس سورت کے آغاز میں ہم ایک بار پھر حروف مقطعات کا سامنا کر رہے ہیں اور پھر یہ کہ ان حروف کے فورًا ہی بعد قرآن مجید کی عظمت کی بات ہوتی ہے جس سے
معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس کا ایک راز یہ ہو کہ یہ عظیم کتاب اور اس کی آیات مبیب تو الف ، با جیسے ساده و معمولی حروف سے بنی ہیں لیکن تعریف کے لائق تو وہ آفرید گار ہے جس نے
ایسا میحرالعقول کارنامہ معمولی اور سادہ سے مواد کے ذریعے ظاہر کیا ۔ اس سلسلے میں ہم سوره بقره ، آل عمران اور سورہ اعراف کے آغاز میں کافی اور مفصل گفتگو کرچکے ہیں (
تفسیر نمونہ کی جلد اول ، دوم اور ششم کے مطالعہ فرمائیے)۔
پھر فرمایا گیا ہے : یہ قرآن اور کتاب مبین کی آیات ہیں (تلک ايات القران و کتاب مبین)۔
لفظ "تلك" دور کے لیے اسم اشارہ ہے ۔ یہاں یہ ان آسمانی آیات کی عظمت کے اظہار کے لیے ہے اور "مبین" کی تعبیر اس بات کی تاکید ہے کہ یہ قرآن خود بھی
واضح اور آشکار ہے اور حقائق کو آشکار کرنے والا بھی ہے۔ ؎1
اگرچہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ "قرآن" اور " کتاب مبین" کے دو الگ الگ معنی ہیں اور کتاب مبین سے مراد" لوح محفوظ" ہے لیکن آیت کاظاہر بتاتا ہے کہ دونوں ہی
حقیقت کو بیان کر رہے ہیں ۔ پہلا الفاظ اور تلاوت کے لباس میں اور دوسرا تحریر و کتابت کے لباس میں۔
اسی سلسلے کی دوسری آیت میں قرآن مجید کی ایک اور نعمت بیان ہوئی ہے اور وہ یہ کہ "یہ ایسا قرآن ہے جو مومنین کے لیے ہدایت کا ذریعہ اور بشارت کا واسیلہ
ہے" (هدًی و بشرٰى للمؤ منین )۔
" وہ وہی لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں" (الذین یقیمون الصلوة ويؤتون الزکوة وهم بالاخرة ھم يوقنون)۔
اس لحاظ سے ایک تو ان کا مبداء اور معاد پر پختہ عقیدہ ہے۔ دوسرے ان کا خدا اور خلق خدا کے ساتھ محکم تعلق ہے اسی لیے مندرجہ بالا اوصاف ان کے مکمل عقیدے
اور طرز عمل کی طرف اشارہ ہے۔
یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مومنین اعتقادی اور عملی لحاظ سے صاف اور واضح راستہ اختیار کرچکے ہیں توپھر کیا ضرورت ہے کہ قرآن ان کی ہدایت
کے لیے آئے؟
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 " مبين " "ابانہ" کے مادہ سے ہے اور جیسا کہ بعض مفسرين نے (جیسے آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں)کہا ہے کہ یہ مادہ کبھی فعل لازم کے معنی آتا ہے اورکبھی فعل
متعدی کے معنی میں - پہلی صورت میں "مبین" کا معنی ہے واضح اور آشکاراور دوسری صورت میں آشکار کرنے والا۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اگر توجہ کی جائے تومعلوم ہوگا کہ ہدایت کے مختلف مراحل ہیں اور ہر مرحلہ اپنے سے بالاتر مرحلے کے لیے مقدمہ اور زینہ ہوتا ہے اسی طرح یہ سلسلہ اوپر کو
چلاجاتا ہے اسی سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہدایت کا دائم اور برقرار رہنابھی ایک اہم مسئلہ ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کی ہم اپنی شب و روز کی نمازوں میں ان الفاظ کے ساتھ دعامانگا
کرتے ہیں " اهدنا الصراط المستتيم" کہ خداوندا! ہمیں اس راہ پر ثابت قدم رکھ اوراس پرقائم و دائم رکھ کیونکہ تیری مہربانی کے بغیر ایسا قطعًا ناممکن ہے۔
اس کے علاوہ قرآن اور کتاب مبین کی آیات سے استفادہ کرنا صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جن کے اندرحقیقت طلبی اور حق جوئی کی تڑپ پائی جاتی ہو ہرچند کہ
وہ مکمل ہدایت تک نہ بھی پہنچے ہوں۔
اگرہم یہ دیکھتے ہیں کہ کہیں پر قرآن مجید کو "پرہیز گاروں" کے لیے ہدایت کہا گیا ہے (بقرہ ـــــ 2) کہیں پر" مسلمانوں" کے لیے ہدایت کہاگی ہے (نحل / 103)
اور یہاں پر "مومنین" کے لیے ہدایت کہا گیا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب تک کم از کم تقوی ، تسلیم اور حقیقت پر ایمان انسان کے دل میں نہ تو اس وقت تک وہ حق کی تلاش میں
نہیں نکل سکتا اور کتاب مبین کے نورسے بہرومند نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ ظرف میں استعداد اور قابلیت کا ہونا بھی شرط ہے ۔
اس سے قطع نظر "ہدایت" اور "بشارت" باہمی طور پر صرف مومنین کے لیے ہیں ۔ دوسرے لوگوں کے لیے ایسی بشارت نہیں ہے۔
یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اگر قرآن کی بعض آیات میں آیت کو عام لوگوں کے لیے شمار کیا گیا ہے۔ اور "هدًی للناس"(بقرہ / 185) کہا گیا ہے تو
اس سے مراد تمام وہ لوگ ہیں جن کے اندر حق کی قبولیت کے لیے قابلیت پائی جاتی ہے ورنہ متعصب قسم کے ہٹ دھرم لوگ تو دل کے ایسے اندھے ہوتے ہیں کہ اگر ایک کی بجائے
ہزاروں سورج ان کے لیے چمکنے لگ جائیں تو بھی وہ ذرہ برابر بہرہ یاب نہیں ہوپائیں گے۔
پھر قرآن ان لوگوں کے حالات بیان فرماتا ہے جو مومنین کے برعکس ہیں اور ان کے نہایت الم ناک حالات کا ایک رخ یوں بیان فرماتا ہے : جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں
رکھتے ہم ان کے برے اعمال کو بنا سنوار کر پیش کریں گے ۔ وہ زندگی کی راہوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں (ان الذين لا يؤمنون بالأخرة زينالهم أعمالهم فهم يعمهون)۔
ان کی نگاہوں میں نجاست ، طہارت ہوتی ہے ، برائی ، بھلائی ہوتی ہے ، پستی بلندی ہوتی ہے اور بدبختی سعادت و کامیابی ہوتی ہے۔
جی ہاں ! یہی انجام ہوتا ہے ان لوگوں کا جوغلط راہ پر گامزن ہوتے ہیں اور اسی راہ پر ڈٹے رہتے ہیں ۔
جب انسان غلط کام کرتا ہے تو آہستہ آہستہ برائی اس کی نظروں میں کم ہوجاتی ہے اور وہ اس کا عادی ہوجاتا ہے جب ایک عرصے تک اس سے مانوس ہوجاتا ہے تو
پھراس کے لیے مختلف توجیہات گھڑنا شروع کر دیتا ہے اور پھرایک مدت کے بعد وہ برائی اس کی نگاہوں میں خوبصورت چیز بلکہ ایک فریضہ بن جاتی ہے اور دنیا میں کتنے مجرم لوگ ہیں
جو اپنے ان ناشاستہ اور غلط کاموں پر فخرو مباہات کرتے اور انھیں مثبت کام شمار کرتے ہیں ۔
اقدار اور معیار جب یوں بدل جاتے ہیں تو انسانی زندگی بے راہ اور سر گرداں ہوکر رہ جاتی ہے اور یہ انسانی زندگی کی بد ترین کیفیت ہے۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اسی آیت میں اور سورہ انعام کی آیت 108 میں "زینت دینے" کی نسبت "خدا" کی طرف دی گئی ہے جبکہ آٹھ مقامات پر "شیطان" کی
طرف اور دو جگہوں میں فعل مجہول"زین" آیا ہے ، اگر غور سے دیکھا جائے تو سب ہی حقیقت کو بیان کررہے ہیں۔
یہ جوخدا کی طرف نسبت دی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ "مسبب الاسباب" ہے یعنی اسباب کا پیدا کرنے والا وہی ہے اس لحاظ سے ہرکام کے نتیجے کا تعلق خدا
سے بنتا ہے اور خداوند عالم نے یہ خاصیت تکرار عمل میں رکھ دی ہے کہ آہستہ آہستہ جب انسان اس کا عادی ہوجاتا ہے تو پہچان کی حس تبدیل ہو جاتی ہے اوراس سے انسان بھی جواب
دہ رہتا ہے اور خدا پر بھی کوئی اعترض وارد نہیں ہوتا (غور کیجیئے گا)
اوراگر شیطان یا خواہشات نفسانی کی طرف اس کی نسبت دی گئی ہے تو اس لیے کہ اس کے نزدیکی اور بلا واسطہ عوامل یہی ہوتے ہیں۔
اور اگر کہیں پر فعل مجہول کی صورت میں آیا ہے تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عمل کی فطرت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ بار بار کے ارتکاب سے انسان
کے اندر یہ عمل "حالت" "ملکہ" اور "عشق" کی صورت اختیار کرلیتاہے۔
پھر"اعمال کے مزین کرنے" کا نتیجہ بیان فرماتے ہوئے ایسے لوگوں کا انجام اس طرح بیان کیاگیا ہے : یہی وہ لوگ میں جن کے لیے سخت اور درناک انجام ہے (اولئك
الذين لهم سوء العذاب) ۔
دنیا میں سرگرداں، مایوس ، حیران و پریشان ہوں گے اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلاہوں گے ۔
"اور وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے "(وهم في الاخرة هم الأخسرون)۔
ان کے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے کی وجہ وہی ہے جو سورہ کہف کی آیه 103 ــــــــ 104 میں آئی ہے۔
قل هل ننبئکم بالاخسرين اعمالاً ه الذين ضل سعيهم في الحيوة الدنيا
وھم یحسبون انهم يحسنون صنعًا
کہہ دیجئے کہ آیا میں تمھیں اعمال کے لحاظ سے زیادہ نقصان اٹھانے والے لوگوں کا تعارف کراؤں؟
وہ وہی لوگ ہیں جن کی کوششیں دنیاوی زندگی میں بیکار ہوگئی ہیں جبکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ
نیک اعمال انجام دے رہے ہیں۔
اس سے بڑھ کر اور کیا نقصان ہوگا کہ انسان اپنے برے اعمال کو نیک اعمال سمجھے اور اپنی تمام توانائیاں ان پرصرف کر دے اور مثبت کام سمجھ کر انھیں بجا
لاتارہے لیکن ان کا انجام بدبختی ، سیاہ بختی اور عذاب کے سوا اور کچھ نہ ہو۔
اسی سلسلے کی آخری آیت جو قرآنی مضامین کی عظمت کے سلسلے میں گزشتہ اشاروں کی تکمیل کے طور پراور انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات زندگی کے لیے
زندگی کے لیے جو ابھی شروع ہونے والے ہیں کے مقدمے کی صورت میں ہے ، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :
اس میں ذرہ بھربھی شک نہیں ہے کہ یہ قرآن خداوند حکیم و دانا کی طرف سے تیری جانب بھیجا جاتا ہے (و انك لتلقى القران من لدن حکیم علیم) -
اگرچہ "حکیم" اور "علیم" ہردو خدا کی دانائی کی طرف اشارہ ہیں لیکن " حکمت" عام طور پرعملی پہلو کو بیان کرتی ہے اور "علم" نظری پہلوکو باالفاظ دیگر "علیم"
خداوند عالم کے بے انتہا علم کی خبر دیتا ہے اور "حکیم" کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اس عالم کے معرض وجود میں لانے اور قرآن کے نازل کرنے میں حساب و کتاب اور
ہدف و مقصد کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔
اوراس طرح کا قرآن جب ان صفات کے مالک پروردگار کی طرف سے نازل ہو تو اسے مبین اور آشکار کرنے والی کتاب ہی ہوناچاہیئے جو مومنین کے لیے ہدایت اور
بشارت کا سبب ہو اور اس کی داستانیں ہر طرح کی خرافات اور تحریف سے پاک ہوں۔ ؎1
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "تلقی" باب تفعيل کا فعل مضارع ہے اور مجہول کا صیغہ ہے جس کا ثلاثی مجرد کا صغیہ ایک معفول کی طرف متعدی ہوتا ہے (لقی) اور ثلاثی مزید فیہ کا صیغہ دو مفعلوں کی
طرف متعدی ہوتا ہے اس امت میں خداوند عالم فاعل اور قرآن کا نازل کرنے والا ہے ، پیغمبراکرمؐ مفعول اول ہیں اور قران مفعول دوم ہے یہاں پرچونکہ فعال مجہول کی صورت میں آیا ہے لہذا پہلا مفعول نائب فاعل ہے اور دوسرا مفعول ظاہری طور پر ذکر ہوا ہے۔