Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- دعوت ذوالعشیره 

										
																									
								

Ayat No : 213-220

: الشعراء

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ ۲۱۳وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ۲۱۴وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۲۱۵فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ ۲۱۶وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ۲۱۷الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ ۲۱۸وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ ۲۱۹إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۲۲۰

Translation

لہذا تم اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو مت پکارو کہ مبتلائے عذاب کردیئے جاؤ. اور پیغمبر آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے. اور جو صاحبانِ ایمان آپ کا اتباع کرلیں ان کے لئے اپنے شانوں کو جھکا دیجئے. پھر یہ لوگ آپ کی نافرمانی کریں تو کہہ دیجئے کہ میں تم لوگوں کے اعمال سے بیزار ہوں. اور خدائے عزیز و مہربان پر بھروسہ کیجئے. جو آپ کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب آپ قیام کرتے ہیں. اور پھر سجدہ گزاروں کے درمیان آپ کا اٹھنا بیٹھنا بھی دیکھتا ہے. وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے.

Tafseer

									 2- دعوت ذوالعشیره : 
 تاریخ اسلام کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بعثت کے تیسرے سال اس دعوت کاحکم ہوا کیونکہ اب تک آپ کی دعوت مخفی طور پر جاری تھی اور اس 

مدت میں بہت کم لوگوں نے اسلام قبول کیاتھا لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی" وانذر عشيرتك الاقربین" اور یہ آیت بھی "فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشركين " (سورہ الحجر آیہ 94) تو آپ 

کھلم کھلا دعوت دینے پر مامور ہوگئے ۔ اس کی ابتداء اپنے قریبی رشتہ داروں سے کرنے کا حکم ہو ۔ ؎1
 اس دعوت و تبلیغ کی اجمالی کیفیت کچھ اس طرح سے ہے : آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو جناب ابوطالب کے گھرمیں دعوت دی اس 

میں تقریبًا چالیس افراد شریک ہوئے آپ کے چچاؤں میں سے ابوطالب، حمزہ اور ابولہب نے بھی شرکت کی ۔
 کھانا کھا لینے کے بعد جب آنحضرت نے اپنا فریضہ اداکرنے کا ارادہ کیا تو ابولہب نے بڑھ کچھ ایسی باتیں کیں جس سارا مجمع منتشر ہوگیا لہذا آپ نے انہیں کل کے 

کھانے کی دعوت دے دی۔  دوسرے دن کھانا کھانے کے بعد آپ نے انھیں فرمایا :
  "اے عبدالمطلب کے بیٹو!  پورے عرب میں مجھے کوئی ایسا شخص دکھائی نہیں دیتا جواپنی قوم کے
  لیے مجھ سے بہتر چیز لایا ہو ، میں تمھارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کرآیاہوں اورخدا نے 
  مجھے حکم دیا ہے کہ تمھیں اس دین کی دعوت دوں ، تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میرا ہاتھ بٹاۓ   
  تاکہ وہ میرا بھائی ، میروصی اور میرا جانشین ہو"؟ 
 سب لوگ خاموش رہے سوائے علی بن ابی طالب کے جوسب سے کم سن تھے۔ علی اٹھے اور عرض کی :
  "اے اللہ کے رسول! اس راہ میں میں آپ کا یارو مددگارہوں گا"۔ 
 آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ علی کی گردن پر رکھا اور فرمایا:
  ان هذا اخي ووصي و خليفتي فيكم فاسمعوا له و اطیعوه 
  یہ (علی) تمھارے درمیان میرا بھائی میروصی اورجانشین ہے اس کی باتوں کو سنو اوراس کے
  فرمان کی اطاعت کرو ۔ 
 یہ سن کر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور تمسخر آمیز مسکراہٹ ان کے لبوں پرتھی ،ابوطالب سے کہنے لگے "اب تم اپنے بیٹے کی ان باتوں کو سنا کرواوراس کے فرمان 

پرعمل کیا کرو"۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     سیرت ابن هشام جلد 1 ص 280۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اس روایت کو بہت سے اہل سنت علماء نے نقل کیا ہے جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں:
 ابن ابی جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، ابونعیم ، بہیقی ، ثعلبی اور طبری - مؤرخ ابن اثیرنے پر واقع اپنی کتاب "کامل" میں اور "ابوالفداء" نے اپنی تاریخ میں اور 

دوسرے بہت سے مورخین نے اپنی اپنی کتابوں میں اسے درج کیا ہے ۔ ؎1
 اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیه والہٖ وسلم ان دنوں کس حدتک تنہاتھے اور لوگ آپ کی دعوت کے جواب میں کیسے کیسے تمسخرآمیز جملے 

کہا کرتے تھے۔ اورعلی علیہ السلام ان ابتدائی ایام میں جبکہ آپ بالکل تنہا تھے کیونکر آنحضرتؐ  کے مدافع بن کرآپ کے شانہ بشانہ چل رہے تھے۔
 ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس وقت قریش کے ہر قبیلے کا نام لے لے کر انہیں بلایا اور انھیں جہنم کے عذاب سے ڈرایا کبھی 

فرماتے:
  یابنی کعب انقذوا انفسكم من النار 
  اے بنی کعب ! خود کو جہنم سے بچاؤ۔
 کبھی فرماتے
 یابنی عبدالشمس ................... کبھی فرماتے  یابنی عبدمناف .................... 
 کبھی فرماتےيا نبي هاشم ...........
  کبھی فرماتے ۔
ی یابنی عبد المطلب ...... انقذوا انفسكم من النار 
 تم خود اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ ، ورنہ کفر کی صورت میں تمھارا دفاع نہیں کرسکوں گا ۔ ؎2
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
   ؎1   مزید تفصیل کے لیے کتاب المراجعات ص  130 کے بعد اور کتاب احقاق الحق جلد 4 ص 96 کے بعد کا مطالعہ فرمائیں ۔ 
  ؎2     تفسیرقرطبی جلد 7 ص 4859 اسی آیت کے ذیل میں (تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ)۔