1- "تقلب في الساجدين" کی تفسی
فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ ۲۱۳وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ۲۱۴وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۲۱۵فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ ۲۱۶وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ۲۱۷الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ ۲۱۸وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ ۲۱۹إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۲۲۰
لہذا تم اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو مت پکارو کہ مبتلائے عذاب کردیئے جاؤ. اور پیغمبر آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے. اور جو صاحبانِ ایمان آپ کا اتباع کرلیں ان کے لئے اپنے شانوں کو جھکا دیجئے. پھر یہ لوگ آپ کی نافرمانی کریں تو کہہ دیجئے کہ میں تم لوگوں کے اعمال سے بیزار ہوں. اور خدائے عزیز و مہربان پر بھروسہ کیجئے. جو آپ کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب آپ قیام کرتے ہیں. اور پھر سجدہ گزاروں کے درمیان آپ کا اٹھنا بیٹھنا بھی دیکھتا ہے. وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے.
چند اہم نکات
1- "تقلب في الساجدين" کی تفسیر:-
"الذي يراك حين تقوم" "و تقلب في الساجدین" سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین نے ان دو جملوں کی مختلف تفسیر کی ہے.
آیات کا ظاہری مفہوم تو وہی ہے جو ہم اوپر بیان کرآئے ہیں کہ: جب آپ قیام کرتے ہیں تب بھی آپ کوخداوندعالم دیکھتا ہے اور جب آپ سجدہ کرنے والوں میں نقل و
حرکت کرتے ہیں تب بھی وہ آپ کو دیکھتا ہے۔
ممکن ہے قیام نماز کے لیے ہو یا عبادت کے واسطے نیند سے بیدار ہونا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کا قیام "فرادیٰ نماز" کے لیے ہو جبکہ ممکن ہے" تقلبك في
الساجدین" نماز باجماعت کی طرف اشارہ ہو۔
یہ بھی ممکن ہے کہ مذکورہ سب قیام مراد ہوں ۔
"تقلب" کا معنی چلنا پھرنا ، حرکت کرنا اور ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تعبیر آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے اس سجدے
کی طرف اشارہ ہو جو آپ دوسرے نمازیوں کے ساتھ بجا لاتے تھے ۔
یہ بھی ممکن ہے کے آپ کے اس چلنے پھرنے کی طرف اشارہ ہو جب آپ اپنے نمازی ساتھیوں کا حال معلوم کرنے کے لیے ان کی عبادت کی حالت میں چلتے پھرتے
تھے۔
بہر صورت مجموعی طور پر یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کے حالات میں سے کوئی حالت اور آپ کی کوششوں میں سے کوئی کوشش خواہ وہ انفرادی ہو
یا اجتماعی جس سے آپ ، لوگوں کے حالات سدھارتے اور دین حق کی نشرواشاعت فرماتے ہیں ، سب سے خداوند عالم آگاہ ہے (توجہ رہے کہ اس آیت میں آنے والے سب افعال کا تعلق
مضارع سے ہے جو حال اور مستقبل کا معنی دیتے ہیں)۔
لیکن یہاں پر دو اور تفسیریں بھی ہیں جو آیت کے ظاہر سے توہم آہنگ نہیں ہیں لیکن ہوسکتا ہے اس کی باطنی تفسیریں ہوں۔
پہلی یہ کہ نماز میں آنحضرتؐ کی نگاہیں جو کہ پس پشت سے ان پر پڑتی تھیں اس طرح تھیں کہ جس طرح آپ سامنے کی چیزوں کو دیکھ سکتے تھے پس پشت بھی اسی
طرح چیزوں کو دیکھ سکتے تھے جیسا کہ ایک حدیث میں آپؐ ارشاد فرماتے ہیں:
لاترفعوا قبلي ولا تضعوا قبلي ، ھنانی اراکم من خلقی کما او اکم من امامی
نہ تو مجھ سے پہلے سجدہ سے سراٹھا اور نہ ہی مجھ سے پہلےسجدہ میں سر رکھو کیونکہ میں تمھیں پس پیشت
بھی ویسا ہی دیکھتا ہوں جیسا کہ سامنے سے دیکھتا ہو۔
یہ فرمانے کے بعد آپ نے شاہد کے طور پر مندرجہ بالا آیت کی تلاوت فرمائی ۔ ؎1
دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد آنحضرت کا جناب آدمؑ نے جناب عبداللہ تک پاک و پاکیزہ انبیاء کی صلبوں میں منتقل ہونا ہے جو پروردگار عالم کی نظر کرم کے
تحت انجام پایا یعنی جب بھی آپ کا پاکیزہ نور ایک ساجد اور توحید پرست پیغمبر سے دوسرے موحد اور سجدہ گزار نبی میں منتقل ہوتا خدا اس سے آگاہ تھا۔
تفسیرعلی بن ابراہیم میں ہے کہ حضرت امام محمد باقرؑ نے" و تقلبك في الساجدین" کی تفسیر میں ارشاد فرمایا :
في اصلاب النبیین صلوات الله عليهم
انبیاء کی صلبوں میں خدا کی ان پر رحمت هو۔ ؎2
تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیهما السلام نے اس جملے کی وضاحت ان الفاظ میں فرمائی ہے:
في اصلاب النبيين نبی بعد نبی ، حتى اخرجه من صلب ابيه عن
نکاح غیر سفاح من لدن آدم
انبیاء کی صلبوں میں رکھا ، ایک پیغمبر سے دوسرے پیغمبر کی صلب ہیں ، یہاں تک کہ خداوندعالم نے
آپ کو آپ کے باپ کی صلب سے باہر نکالا ، پاکیزہ نکاح کے ساتھ اور ہر طرح کی ناپاکی
اور الائشوں سے دور رکھا۔ ؎3
البتہ آیت بالا اور ان کی تفسیر سے قطع نظر ہمارے پاس ایسے دلائل بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کے آباؤاجداد کبھی مشرک نہیں تھے اور ان کی
ولادت ہرقسم کے شرک و برائی سے پاک اور نہایت ہی مقدس ماحول میں ہوئی ہے (مزید
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر مجمع البیان ، اسی آیت کے ذیل میں۔
؎2 تفسير نورالثقلین جلد 4 ص 69۔
؎3 تفسير مجمع البیان ، اسی آیت کے ذیل میں۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفصیل کے لیے تفسیرنمونہ کی جلد 5 میں سورۃ انعام کی آیت 74 کی تفسیر ملاحظہ فرائیں)۔
مندرجہ بالاتفسیریں آیت کی باطنی تفسیریں ہیں ۔