سوره شعراء / آیه 221 - 227
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ ۲۲۱تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ۲۲۲يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ ۲۲۳وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ۲۲۴أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ ۲۲۵وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ۲۲۶إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا ۗ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ ۲۲۷
کیا ہم آپ کو بتائیں کہ شیاطین کس پر نازل ہوتے ہیں. وہ ہر جھوٹے اور بدکردار پر نازل ہوتے ہیں. جو فرشتوں کی باتوں پر کان لگائے رہتے ہیں اور ان میں کے اکثر لوگ جھوٹے ہیں. اور شعرائ کی پیروی وہی لوگ کرتے ہیں جو گمراہ ہوتے ہیں. کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ وہ ہر وادئی خیال میں چکر لگاتے رہتے ہیں. اور وہ کچھ کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں. علاوہ ان شعرائ کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور بہت سارا ذکر خدا کیا اور ظلم سہنے کے بعد اس کا انتقام لیا اور عنقریب ظالمین کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس جگہ پلٹا دیئے جائیں گے.
(221) هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِيْنُ
(222) تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْـمٍ
(223) يُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُهُـمْ كَاذِبُـوْنَ
(224) وَالشُّعَـرَآءُ يَتَّبِعُهُـمُ الْغَاوُوْنَ
(225) ٍاَلَمْ تَـرَ اَنَّـهُـمْ فِىْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيْمُوْنَ
(226) وَاَنَّـهُـمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ
(227) اِلَّا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللّـٰهَ كَثِيْـرًا وَّانْـتَصَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ۗ وَسَيَعْلَمُ الَّـذِيْنَ ظَلَمُـوٓا اَىَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ
ترجمہ
(221) کیا تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں؟
(222) ہر جھوٹے گناہ گار پر نازل ہوتے ہیں۔
(223) وہ جو کچھ بھی سنتے ہیں (دوسروں کو) بتا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں ۔
(224) (پیغمبر شاعرنہیں) شاعر تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں ۔
(225) کیادیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہروادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ؟
(226) اور وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جن پر خود عمل نہیں کرتے۔
(227) مگر وہ لوگ جوایمان لائے ہیں اور نیک اعمال انجام دیئے ہیں اور خدا کو زیادہ یاد کرتے ہیں اور جب ان پرظلم کیا جاتا ہے تو وہ اپنے (اور دوسرے مومنین )کے دفاع کے
لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں (اور اپنے شعری ذوق کو کام میں لاتے ہیں) اورجنھوں نے ظلم کیا ہے انھیں جب معلوم ہوجائے گا کہ انھیں کہاں لوٹ کر جانا ہے۔