Tafseer e Namoona

Topic

											

									  قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت

										
																									
								

Ayat No : 213-220

: الشعراء

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ ۲۱۳وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ۲۱۴وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۲۱۵فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ ۲۱۶وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ۲۱۷الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ ۲۱۸وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ ۲۱۹إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۲۲۰

Translation

لہذا تم اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو مت پکارو کہ مبتلائے عذاب کردیئے جاؤ. اور پیغمبر آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے. اور جو صاحبانِ ایمان آپ کا اتباع کرلیں ان کے لئے اپنے شانوں کو جھکا دیجئے. پھر یہ لوگ آپ کی نافرمانی کریں تو کہہ دیجئے کہ میں تم لوگوں کے اعمال سے بیزار ہوں. اور خدائے عزیز و مہربان پر بھروسہ کیجئے. جو آپ کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب آپ قیام کرتے ہیں. اور پھر سجدہ گزاروں کے درمیان آپ کا اٹھنا بیٹھنا بھی دیکھتا ہے. وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے.

Tafseer

									  تفسیر
          قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت
 خداوند عالم نے گزشتہ آیات میں اسلام اور قرآن کے بارے میں مشرکین کے موقف کو بیان کرنے کے بعد زیر نظر آیات میں اپنے پیغمبر کو ان مشرکین کے سامنے اپنی 

واضح کردینے  کا حکم صادر فرمایا ہے۔ اس ضمن میں پانچ امور کی نشاندہی کی گئی ہے۔
 خداوند عالم سب سے پہلے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو توحید پر عقیدہ راسخ کرنے کی دعوت دیتا ہے کیونکہ توحید ہی تمام انبیاء کی دعوت کا بنیادی عنصر 

ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : خدا کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو مت پکارو ، ورنہ سزا پاؤگے (فلاتدع و مع الله الها أخر فتكون من المعذبين)۔
 اس میں ذرہ برابر شک نہیں ہے کہ پیغمبراسلام صلی الله علیه واله وسلم علمبردار توحید تھے اور آپ کے بارے میں اس عقیدے سے انحراف کا تو تصور نہیں کیا 

جاسکتا لیکن مسئلہ
اس قدر اہم ہے سب سے پہلے آپ ہی کی ذات کو مخاطب کیا گیا ہے تاکہ دوسرے لوگ اپنا حساب خود کرلیں دوسرا مقصد یہ ہے کہ دوسروں کی تربیت کا آغاز خودسازی سے کیا جائے۔
 پھراس سے بھی بڑھ کر ایک اور مرحلے کا حکم دیاگیا ہے : اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤڈ اور شرک اورحکم الٰہی کی نافرماني سے خوف دلاؤ ( وانذر عشيرتك 

الاقربين) ۔ ؎1
 اس میں شک نہیں کہ کسی وسیع انقلابی پروگرام کو سب سے پہلے ایک محدود اور مختصرحلقوں سے شروع کیا جاتا ہے اور کیا ہی بہتر ہو کہ پیغمبراسلام صلی اللہ 

علیہ والہ وسلم اپنی دعوت کا آغاز اپنے قریبی رشتہ داروں سے کریں کیونکہ ایک تو وہ آپ کے پاکیزہ ماضی کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں اور دوسرے قریبی رشتہ داری کی محبت 

اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یہی لوگ دوسروں سے زیادہ آپ کی باتوں کو سنیں اس لیے کہ قریبی رشتے دار عمومًا دوسروں کی نسبت حسد ، کینہ اور دشمنی سے دور ہوتے ہیں۔
 علاوہ ازیں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پیغمبر اکرام کسی سے نہ تو سودے بازی کرتے ہیں اور نہ ہی دوغلی پالیسی اپناتے ہیں بلکہ اپنے قریبی رشتہ 

داروں تک کو توحید ، حق اور عدالت کی دعوت سے مستثنٰی نہیں فرماتے۔
 جب یہ آیت نازل ہوئی تو اسلام کے اس عظیم پیغمبر نے اس پرعمل درآمد کے لیے ایک منصوبہ بنایا جس کی تفصیل انشاء الله آپ نکات کے ذیل میں پڑھیں گئے۔
 تیسرے مرحلے میں دائرہ تبلیغ اور وسیع ہوتا ہے ، حکم ہوتاہے : جومومنین تمھاری اتباع کرتے ہیں (ان کا محبت اور تواضع کے ساتھ
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   "عشيرة" "عشرة" (دس کا عدد) سے مشتق ہے اور چوںکہ دس کا عدد اپنی حد تک ایک مکمل عدد سمجھا جاتا ہے، اسی لیے قریبی رشت دروں "عشيره " کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے 

ذریعے انسان کا ایکی مکمل گروپ بنتا ہے ۔ ممکن ہے کہ "معاشرت" کا مادہ بھی اسی معنی سے لیا گیا ہوکیونکہ معاشرت ہی سےانسانوں کو ایک کامل مجموعہ تشکیل پاتا ہے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
استقبال کرو اور اپنے بال و پر ان کے لیے جھکا دو (واخفض جناحك لمن اتبعك من المؤمنين)۔
 یہ عمدہ تعبیرایسی تواضع کے لیے کنایہ ہے جس میں مہر و محبت اور نرمی پائی جائے جیسا کہ پرندے جب اپنے بچوں سے محتب کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو اپنے 

بال و پرکھول کر نیچے لے جاتے ہیں اور اپنے بچوں کو ان کے اندر لے لیتے ہیں تاکہ ایک تو وہ درپیش احتمالی خطرے سے بچ جائیں دوسرے انتشار اور افتراق کا شکار نہ ہوں اسی 

طرح پیغمبر اسلامؐ  کو بھی حکم ہے کہ وہ سچے مومنین کو اپنے پروں کے نیچے لے لیں۔
 معنی خیز تعبیر مومنین کے ساتھ محبت کے مختف اہم پہلوؤں کو بیان کر رہی ہے جس میں اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو سب کچھ واضح ہوجاتا ہے۔
 ضمنی طور پر بھی بتاتے چلیں کہ ڈرانے اور خوف دلانے کے حکم کے فورًا بعد اس جملے کا ذکر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اگر تربیتی مسائل بیان کرنے کے لیے 

کہیں سختی سے کام لینے کا حکم دیاگیا ہے تو فورًا ہی مہر و محبت اور نرمی سے کام لینے کا امر بھی کر دیا گیا ہے تاکہ ان دونوں کو ملاکر مناسب نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔
 پھر چوتھاحکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اگر وہ تمھاری دعوت قبول نہ کریں اور مخالفت پر کمر بستہ ہوجائیں تو تم گھبراؤ نہیں بلکہ ان سے کہہ دو کہ میں تمھارے 

طرز عمل سے بیزار ہوں "۔ اس طرح سے اپنا لائحہ عمل ان پر واضح کردو (فان عصوك فقل اني بریء مما تعملون)۔
 ظاہر یہ ہے کہ "عصوک" میں جوضمیر ہے وہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیکی رشتہ داروں کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی آپ کی دعوت الی الحق کے بعد 

بھی انھوں نے آپ کا حکم نہ مانا اوراپنی مخالفت کو جاری رکھا تو آپ بھی ان کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کردیں ۔
 قرآن کی یہ پیش گوئی بھی پوری ہو کر رہی - نکات کے ذیل میں اس تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی چناچہ علی علیہ السلام کے سوا سب لوگوں نے آخرت کی یہ 

دعوت مسترد کر دی کچھ لوگوں نے تو خاموشی اختیار کرلی اور کچی نے تمسخراڑا کر اپنی مخالفت اظہار کیا۔
 آخر کار مذکورہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے اپنے پیغمبرؐ کو الله تعالی پانچواں حکم دیتا ہے : 
 اور خداوند عزیزورحیم پر توکل کرو (وتوکل علی العزیز الرحیم)۔
 اس طرح کی مخالفتوں سے قطعًا نہ گبھرؤ ، دوستوں اور پیروکاروں کی قلت کی بناء پر اپنے آہنی عزائم پر کار بند رہو تم اکیلے نہیں ہو تمھاری پناہ گا ذات خداوند عالم 

ہے جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا اور وہ بے حد رحیم ومهربان ہے۔
 وہی خداوند جہاں جس کے عزیز و رحیم  ہونے کی توصیف کی گئی ہے۔
 وہی خدا جس نے اپنی عظیم قدرت سے فرعون اوراہل فرعون کے ظلم ، نمرود اور اس کے حواریوں کے غرور ، قوم نوح کے تکبر اورخود خواہی ، قوم عاد کی دنیا 

پرستی اور قوم لوط کی ہوس پرستی کو خاک میں ملادیا اور ان عظیم انبیاء اور مومنین کو نجات دلائی اور اپنی رحمت کاملہ میں شامل فرمایا جو اقلیت میں تھے۔
 وہی خدا جوتجھے حالت قیام میں بھی دیکھتا ہے (الذي يراك حين تقوم)۔ 
 اور سجدہ گزاروں میں بھی تمھاری نقل وحرکت کوملاحطہ کرتاہے (وتقلبک في الساجدین)۔ 
 جی ہاں! وہی تو ہے سننے اور دیکھنے والا ( انه هو السميع العليم)۔
 اس طرح سے خداوندعالم کی عزیز اور رحیم کی صفات کے علاوہ تین اور صفات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن سے دلوں کومزید تقویت ملتی ہے اور پہلے سے زیادہ 

ڈھارس بندھ جاتی ہے اور وہ یہ کہ اللہ اپنے رسول کی تکالیف کو دیکھ رہا ہے اوران کے قیام ، سجدے اور حرکت اور سکون سے پوری طرح باخبر ہے۔
 آپ کی آواز کو سنتا ہے۔ 
 اورآپ کی ضروریات سے آگاہ ہے۔ 
 اسی لیے ایسے خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اپنی تمام کام اسی کے سپرد کر دینا چاہییں ۔