قرآن پاک پرایک اور تہمت
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ۲۰۴أَفَرَأَيْتَ إِنْ مَتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ ۲۰۵ثُمَّ جَاءَهُمْ مَا كَانُوا يُوعَدُونَ ۲۰۶مَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يُمَتَّعُونَ ۲۰۷وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنْذِرُونَ ۲۰۸ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَالِمِينَ ۲۰۹وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ ۲۱۰وَمَا يَنْبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ ۲۱۱إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ ۲۱۲
تو کیا لوگ ہمارے عذاب کی جلدی کررہے ہیں. کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہم انہیں کئی سال کی مہلت دے دیں. اور اس کے بعد وہ عذاب آئے جس کا وعدہ کیا گیا ہے. تو بھی جو ان کو آرام دیا گیا تھا وہ ان کے کام نہ آئے گا. اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لئے ڈرانے والے بھیج دیئے تھے. یہ ایک یاد دہانی تھی اور ہم ہرگز ظلم کرنے والے نہیں ہیں. اور اس قرآن کو شیاطین لے کر حاضر نہیں ہوئے ہیں. یہ بات ان کے لئے مناسب بھی نہیں ہے اور ان کے بس کی بھی نہیں ہے. وہ تو وحی کے سننے سے بھی محروم ہیں.
تفسیر
قرآن پاک پرایک اور تہمت
چونکہ گزشتہ آیات اس جملے پر ختم ہوگئیں تھیں کہ جب مجرم اور گناه گار لوگ عذاب الٰہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور موت کی وادی میں اتر چکے ہوں گے تو دوبارہ پلٹ جانے کی درخواست کریں گے تاکہ اپنے گناہوں کی تلافی کرسکیں تو موجوده آیات انھیں دو طرح سے جواب دے رہے ہیں۔
پہلا ؎1 یہ کہ آیا وہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی کرتے ہیں (فبعذابنا يستعجلون).
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کئی مرتبہ طنزیہ اپنے پیغمبر سے اس عذاب کے جلد آنے کا تقاضا کیا کرتے تھے جس کے متعلق وہ تمہیں پیش گوئی کرچکے تھے لیکن اب جبکہ تم اسی عذاب میں پھنس چکے ہو تو اس سے مہلت اور چھٹکارے کی درخواست کررہے ہو تاکہ اس طرح سے تم اپنے ماضی کی تلافی کرسکو؟ ایک دن اس تم کو اس چیز کو مذاق سمجھتے تھے لیکن آج اسے حقیقت سے بالاترحقیقت دیکھ رہے ہو۔
بهر صورت بات خواہ کچھ بھی ہو پروردگار عالم کا طریقہ کار یہی ہے کہ جب تلک مہلت نہ دے اور اتمام حجت نہ کرلے کسی قوم کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا لیکن جب اتمام حجت ہوجائے اور کہنے کے لائق باتیں کہی جاچکی ہوں اور کافی حد تک لوگوں کو مہلت مل جائے اور پھر بھی وہ راہ راست پر نہ آئیں تو پھر اللہ انھیں ایسے عذاب میں مبتلا کردیتا ہے کہ جس سے چھٹکارا ناممکن ہوتا ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ: اگر ہم انھیں اور بھی کئی سال اس دنیاوی زندگی سے بہرہ مند کردیں ...... (افرءیت آن متعناهم سنین)۔
پھر جس عذاب کا ان سے وعدہ کیاگیا تھا ان کے دامن گیر ہوگا .....(ثم جاء هم ما كانوا يوعدون )۔
یہ سامان حیات انہیں کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچائےگا (ما اغنی عنهم ما كانوا يمتعون :
بالفرض اگرانھیں مہلت دے بھی دی جائے ــــــــــ جبکہ اتمام حجت کے بعد کوئی مہلت نہیں دی جائے گی ۔ـــــ اور بالفرض کئی اور سال بھی وہ یہیں پر رہ جائیں اور غرور و غفلت میں مگن رہیں تو کیا اس دنیاوی زندگی میں بیشترمادی مفادات کے علاوہ اور کوئی کام کریں گے ؟ کیا وہ اپنے گزشتہ دور کی تلافی کریں گے ؟ یقینًا نہیں اور بالکل نہیں ، پھر جب عذاب نازل ہو توکیا یہ چیزیں اس وقت ان کی کوئی مشکل حل کرسکیں گی ؟ یا ان کے انجام میں کوئی تبدیلی پیدا کردیں گی؟
زیر بحث آیات کی تفسیرمیں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ لوگ دنیا کی طرف دوبارہ واپس جانے کی درخواست اس لیے نہیں کریں گے کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں گے یا اپنے گناہوں کی تلافی کریں گے بلکہ ان کی درخواست اس لیے ہوگی کہ وہ دنیامیں جاکر اس جہان و کی نا پائیدار نعتوں سے بہرمند ہوں اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں لیکن یہ بات بھی انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی اور جلد یا بدیر وہ اس فانی دنیا سے عالم بقا کو کوچ ضرور کریں گے اور اپنے اعمال کے نتائج ضرور بھگتیں گے۔
یہاں پرایک یا کئی سوال پیدا ہوتے ہیں بعد والی آیات جن کا جواب دیتی ہیں اور وہ یہ کہ: اصولی طور پرجب خداوند عالم کو ہر قوم کے مستقبل کا علم ہے تو پھر مہلت دینے کی کیا ضرورت ہے؟
اور یہ بھی کہ جب گزشتہ امتوں نے پے در پے اپنے انبیاء کو جھٹلایا اور جیساکہ ان میں سے بہت سے انبیاء کی داستان کے آخر میں "وما کان اكثرهم مؤمنین" آیا ہے یعنی ان میں سے اکثریت ایمان نہیں لاتی رہی تو پھر انبیاء کے پے درپے بھیجنے کا کیا یہی مقصد تھا کہ وہ آئیں اور لوگوں کو ڈرائیں اور تبلیغ کریں؟
انھی سوالات کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ یہ خدائی طریقہ کار ہے کہ ہم کسی بستی کو اس وقت تک بلاک نہیں کرتے جب تک ان کی طرف خبردار کرنے والے نہ بھیجیں اور انبیاء وعظ و نصیحت کے لیے اور اتمام حجت کے لیے بھیجے جاتے ہیں (وما اهلكنا من قرية الالها منذرون).
تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور بیدار ہوجائیں اوران کے لیے حق کی طرف پلٹ آنے کا موقع موجود ہو (ذكرٰی)۔ ؎1
اور اگر ہم اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں کو ڈراتے اور تمام حجت کیے بغیر انھیں عذاب میں مبتلا کر دیتے تو یہ ظلم ہوتا حالانکہ ہم ہرگز ظالم وستم گار نہیں ہیں بلکہ اصولی طور ظلم وستم ہمارے شایان شان ہی نہیں ہے (وما كنا ظالمین)۔
یہ ظلم ہوگا کہ ہم غیر ظالم لوگوں کو بلاک کر ڈالیں یا ظالموں کو کافی حدتک اتمام حجت کیے بغیر نیستو نابود کردیں۔
جوکچھ ان آیات میں ذکر ہوا ہے درحقیقت وہ مشہور ومعروف عقلی اصول ہے جسے "قاعده قبح عقاب بلا بیان" کہتے ہیں۔ اسی کی مانند سورہ بنی اسرائیل کی آیت 15 میں بھی آیا ہے:
وما كنا معذبين حتٰى نبعث رسولا
ہم لوگوں کو اس وقت تک ہرگز عذاب نہیں دیتے جب تک ان میں کسی رسول کو نہ بھیج دیں
جوانھیں حقائق بتائے۔
یقینا کافی حد تک حقائق بیان کیے بغیر سزا دیناقبیح اور ظلم ہے اور خداوند حکیم عادل ہرگز ایسا نہیں کرتا اور یہ وہی چیز ہے جسے علم اصول میں "اصل برائت" کے نام سے تعبیر کیاجاتاہے یعنی جس حکم کے ثبوت کے لیے کافی حد تک دلیل موجود نہ ہو۔ اسی اصول کی بناء پراس کی نفی ہوجاتی ہے (مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد 12 سورة بنی اسرائیل کی 15 ویں آیت کی تفسیر کا مطالعہ فرمائیں)۔
پھرایک اور بہانے یا دشمنان قرآن کی ایک اور ناجائز تہمت کا جواب دیا گیا ہے کیونکہ وہ کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم) کا رابط کسی جان کے ساتھ ہے۔ وہ انھیں یہ آیات تعلیم دیتا ہے جبک قرآن باربار کہتا ہے کہ یہ تنزيل من رب العالمین ہے۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 یہاں پر "ذکرٰی" کا کیا اعراب بنتا ہے ، مفسرین نے چاراحتمال کا ذکر کیا ہے پہلا یہ کہ ممکن ہے یہ کلمہ" منذرون"کا "مفعول له" ہو(میں جو مندرجہ بالا تفسیر بھی اسی بنیاد پر ہے) دوسرا یہ کہ "منذرون" کا "مفعول مطلق" ہو کیونکہ "نذار" اور "تذکر" اور قریب المعنی ہیں ۔ تیسرا یہ کہ "منذرون" میں جو ضمیر ہے یہ کلمہ اس سے حال بن رہا ہے اور چوتھا یہ کہ (هذه) مبتدا محذوف کی خبرہویعنی" هذه ذكرٰی ")۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
یہاں پر ارشاد فرمایا گیا ہے: شیاطین اور جنات نے ان آیات کو نازل نہیں کیا ہے (وماتنزلت به الشياطين)۔
پھر دشمنوں کے اس بے بنیاد الزام کے جواب میں فرمایاگیا ہے : جنوں اور شیطانوں کے ہرگز لائق نہیں ہے کہ وہ اس جیسی کتاب نازل کریں (وما ينبغي لهم).
یعںی اس عظیم کتاب کے مضامین ایسے ہیں جن میں حق کا راستہ ، پاکی ، عدالت تقوٰی اور ہر قسم کے شرک کی نفی موجود ہے ۔ ان سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب شیطانی افکار اور الہامات سے قطعًا کوئی مناسبت نہیں رکھتی جبکہ شیطانوں کا کام شروفساد کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ کتاب تو مجسم خیر اور فلاح و بہتری ہے ۔ بنا بریں صرف اس کے مضامین پر ہی اگر غور کیا جائے تو اس کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے پھر یہ کہ وہ ایسا کام کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا (وما يستطيعون)۔
اگر ایسا کام کرنا ان کے بس میں ہوتا تو "کاہنوں" جیسے افراد جو نزول قرآن کے زمانے میں شیاطین سے قریبی رابطہ رکھتے تھے وہ اس جیسی کتاب تیار کرلیتے (یاکم ازکم وہ مشرکین جن کا شیاطین کے ساتھ رابطہ مسلم تھا) لیکن وہ سب کے سب عاجز آگئے اور اپنے عجز سے ثابت کردیا کہ آیات ان کی طاقت سے باہر ہیں۔
اس کے علاوہ خود کاہنوں کو بھی اس بات کا اعتراف تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت با سعادت کے بعد ان شیاطین کا رابطہ آسمانی خبروں سے منقطع ہوگیا ہے جن کے ساتھ ان کا تعلق تھا اور وہ (آسمانی خبریں) سننے سے معزول اور برطرف کر دیئے گئے ہیں (انهم عن السمع لمعزولون)۔
کئی قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے شیاطین انسانوں میں چلے جایا کرتے تھے اور وہاں کی خبریں چرالاتے تھے اور باتیں فرشتوں کے درمیان ہوا کرتی تھیں وہ کبھی کبھی اپنے دوستوں کو بتادیاکرتے تھے لیکن اسلام کے عظیم الشان پیغمبر کی ولادت با سعادت اور آپؐ کے ظہور کے ساتھ ہی باتیں چرانے کا یہ سلسلہ بالکل منقطع ہوگیا اور خبریں دینے کارابطہ بھی ختم ہوگیا ان باتوں کا تو مشرکین کو بھی علم تھا۔ بالفرض اگر مشرکین نہ بھی جانتے ہوں تو قرآن یقینًا اس کی خبر دیتا ہے۔ ؎1
اسی بنا پر مندرجہ بالا آیات میں قرآن مجید نے ایک دلیل کے عنوان سے اس کو بیان کیا ہے ۔
اس طرح سے اس تہمت کا جواب تین طریقوں سے دیا گیا ہے:
1- قرآنی مضامین شیطانی القا سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔
2- شیاطین ایسا کام کر بھی نہیں سکتے۔
3- شیطانوں کو انسانی خبریں چرانے سے روک دیا گیا ہے ۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 شیاطین کو چوری سے باتیں سننے سے روک دینے کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے "سیرت ابن ہشام" جلد اول ص 217 کے بعد کے اوراق ملا حظہ فرمائیں ۔ ہم نے اس موضوع کی تفسیری تشریح اور شیاطین کے "شہاب ثاقب" کے ذریعے آسمانوں میں سے چوری چھپے باتیں سننے سے مار بھگائے جانے کوتفسیرنموںہ کی جلد 11 میں سوره حجر آیت 16 تا 18 کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔