Tafseer e Namoona

Topic

											

									  3- عجم کی ایک فضیلت

										
																									
								

Ayat No : 198-203

: الشعراء

وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ ۱۹۸فَقَرَأَهُ عَلَيْهِمْ مَا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ ۱۹۹كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ ۲۰۰لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ۲۰۱فَيَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۲۰۲فَيَقُولُوا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُونَ ۲۰۳

Translation

اور اگر ہم اسے کسی عجمی آدمی پر نازل کردیتے. اور وہ انہیں پڑھ کر سناتا تو یہ کبھی ایمان لانے والے نہیں تھے. اور اس طرح ہم نے اس انکار کو مجرمین کے دلوں تک جانے کا رستہ دے دیا ہے. کہ یہ ایمن لانے والے نہیں ہیں جب تک کہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں. کہ یہ عذاب ان پر اچانک نازل ہوجائے اور انہیں شعور تک نہ ہو. اس وقت یہ کہیں گے کہ کیا ہمیں مہلت دی جاسکتی ہے.

Tafseer

									 3- عجم کی ایک فضیلت :- 
 اسی آیت کے ذیل میں حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام کا ایک فرمان ہے جسے علی بن برایم نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے:
  لونزل القرآن على العجم ما أمنت بہ العرب . وقد نزل على العرب فامنت 
  به العجم فهذه فضيلة العجم،۔ 
  اگر قران عجم پرنازل ہوتا توعرب اس پر ایمان نہ لاتے لیکین عرب پر نازل ہوا ہے اور عجم اس پرایمان
  لے آئے ہیں اور عجمیوں کی ایک فضیلت ہے ۔ ؎1
  اس سلسل می تفسیر نمونہ کی چوتھی جلد (سورہ مائدہ کی آیت 54 کے ذیل ) میں بھی کچھ ذکر کیا گیا ہے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1       تفسیر ونرالثقلين جلد 4 ص 165 ۔