2- دنیا کی طرف لوٹ جانے کی درخواست
وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ ۱۹۸فَقَرَأَهُ عَلَيْهِمْ مَا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ ۱۹۹كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ ۲۰۰لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ۲۰۱فَيَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۲۰۲فَيَقُولُوا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُونَ ۲۰۳
اور اگر ہم اسے کسی عجمی آدمی پر نازل کردیتے. اور وہ انہیں پڑھ کر سناتا تو یہ کبھی ایمان لانے والے نہیں تھے. اور اس طرح ہم نے اس انکار کو مجرمین کے دلوں تک جانے کا رستہ دے دیا ہے. کہ یہ ایمن لانے والے نہیں ہیں جب تک کہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں. کہ یہ عذاب ان پر اچانک نازل ہوجائے اور انہیں شعور تک نہ ہو. اس وقت یہ کہیں گے کہ کیا ہمیں مہلت دی جاسکتی ہے.
2- دنیا کی طرف لوٹ جانے کی درخواست:-
مرنے کے فورًا ہی بعد گناہ گار اور مجرم لوگوں کی آہ وحسرت کا دور شروع ہو جاتا ہے اور ان کے اندر دنیا کی طرف پلٹ جانے کی امنگ پیدا ہوجاتی ہے اور پھر بے فائده آه وفریاد اور ناقابل قبول دعائیں شروع ہوجاتی ہیں۔
آیات قرآنی میں اس کے بہت سے نمونے موجود ہیں جن میں سے ایک سادہ ترین نمونہ انھی آیات میں موجود ہے جن کی ہم تفسیر بیان کر رہے ہیں یعنی :-
"هل نحن منظرون" یعنی آیا ہمیں مہلت ملے گی؟
سوره انعام کی آیت 27 میں ہم پڑھتے ہیں:-
ياليتنا نرد ولا يكذب بایات ربنا
اے کاش ہم واپس لوٹ جاتے اور اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہ کرتے۔
سوره احزاب کی آیت 66 میں آیا ہے:-
يا ليتنا اطعنا الله و اطعنا الرسولا
اے کاش ہم نے اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔
سورمومنون کی آیات 99 تا 100 میں آیا ہے :
حتى اذا جاء احد ھم الموت قال رب ارجعون لعلى اعمل صالحًا
فيما تركت۔
مجرم لوگوں کی کیفیت برقرار رہے گی یہاں تک کہ ان میں سے ایک کے پاس موت آجائے گی تو
وہ کہے گا خداوندا ! مجھے واپس پلٹادے تاکہ میں اپنے گزشتہ تاریک اعمال کی تلافی کرکے اعمال صالح
انجام دوں۔
یہی صورت حال رہے گی یہاں تک کہ گناہ گار لوگ آتش جہنم کے کے کنارے لاکھڑے کیے جائیں گے تو وہاں پر بھی وہ اپنی یہی بات دہرائیں گے ۔ ملاحظ بو سورہ انعام آیہ 27:
ولوترٰی از وقفوا على النار فقالوا یا لیتنا نرد ولا نكذب بآيات ربنا
ونكون من المؤمنين
اگر آپ مجرموں کو اس وقت دیکھیں تومعلوم ہوگا کہ آتش جہنم کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے اور
کہیں گے اے کاش! ہم پلٹ جاتے اور اپنے پروردگار کی آیات کو نہ جھٹلاتے اور مومنین سے ہوتے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بحارالانوار جلد 73 ، ص 289۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
لیکن ظاہر ہے کہ امر الٰہی میں ایسی بازگشت ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر ناپختہ میوہ اپنے درخت کی طرف واپس جاکر پک سکتا ہے اور ناقص پیدا ہونے والا بچہ رحم مادر کی طرف واپس پلٹایا جاسکتا ہے توایسی بازگشت بھی ممکن ہوسکتی ہے لیکن ایسا کبھی بھی نہیں ہوا لہذا مجرم ٹولہ بھی واپس نہیں پلٹایا جائے گا۔
لہذا اس افسوس کے تدارک کا بہترین راستے یہی ہے کہ یہیں پر رہ کرعمل صالح انجام دیئے جائیں اور گناہوں سے توبہ کی جاۓ کیونکہ ابھی فرصت باقی ہے وگرنہ باقی سب بے فائدہ ہے.