1- قومی اور قبائلی تعصبات
وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ ۱۹۸فَقَرَأَهُ عَلَيْهِمْ مَا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ ۱۹۹كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ ۲۰۰لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ۲۰۱فَيَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۲۰۲فَيَقُولُوا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُونَ ۲۰۳
اور اگر ہم اسے کسی عجمی آدمی پر نازل کردیتے. اور وہ انہیں پڑھ کر سناتا تو یہ کبھی ایمان لانے والے نہیں تھے. اور اس طرح ہم نے اس انکار کو مجرمین کے دلوں تک جانے کا رستہ دے دیا ہے. کہ یہ ایمن لانے والے نہیں ہیں جب تک کہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں. کہ یہ عذاب ان پر اچانک نازل ہوجائے اور انہیں شعور تک نہ ہو. اس وقت یہ کہیں گے کہ کیا ہمیں مہلت دی جاسکتی ہے.
چند ایک نکات
1- قومی اور قبائلی تعصبات:
اس میں شک نہیں کہ انسان جب سرزمین، قوم یا قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اسی سے اس کوعشق کی حد تک محبت ہوتی ہے اور اس کا جغرافیائی ، قومی اور قبائی تعلق نہ صرف معیوب ہی نہیں بلکہ معاشرتی زندگی کے لیے ایک مؤثرعامل بھی ہے لیکن اس تعلق کے لیے کوئی حد اور حساب ہے کہ اگر اس سے بڑھ جائے تویہ نقصان دہ ہے بلکہ ہولناک مصیبت کا سبب بھی بن جاتا ہے ۔ لہذا جب قومی اور قبائلی تعصب کی مذمت کی گئی ہے وہ یہی حد سے بڑھ جانے والاتعلق ہوتا ہے۔
"تعصب" اور" عصبیت" دراصل"عصب" کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے وہ چربی جو اعضاء کے جوڑوں کو آپس میں مربوط رکھتی ہے ۔ اسی مناسبت سے ہرقسم کے ارتباط اور باہمی وابستگی کو" تعصب "اور "عصبیت" کہنے لگے ، لیکن عام طور پر یہ لفظ افراط اور مذموم مفہوم میں بولا جاتا ہے۔
تاریخی طور پر قوم، قبیلے ، نسل اور وطن کا حد سے زیادہ دفاع بہت سی جنگوں کا سبب بنا ہے اور قبائلی اورنسلی آداب و رسوم کے نام پر بہت سی برائیاں ایک سے دوسری قوم کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہیں۔
یہی دفاع اور حد سے بڑھ جانے والی طرفداری بسا اوقات اس حد تک جاپہنچتی ہے کہ انسان کی نگاہ میں اپنی قوم اور قبیلے کا بدترین انسان، بہترین انسان بن جاتا ہے اور دوسری قوم اور قبیلے کا بہترین شخض بھی بدترین شخص سمجھا جاتا ہے اور یہی آداب و رسوم کا بھی محال ہے گویا نسلی تعصب خود پرستی اور جہالت کا ایک پردہ ہوتا ہے جو انسان کی عقل وادراک پر پڑجاتا ہے جس سے وہ صحیح فیصلہ کرنے کی قوت کھو بیٹھتا ہے۔
بعض قوموں میں تعصب زبردست حد تک پایا جاتا ہے جن میں سے وہ عرب بھی ہیں جو اپنے تعصب میں عالمی شہرت حامل ہیں اوران کے بارے میں ہم ابھی آیات بالامیں بھی پڑھ چکے ہیں ان میں جاہلیت عرب کا تعصب اس حد تک پایا جاتا تھا کہ اگر قرآن مجید کسی غیر عرب پر نازل ہوتا تو وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔
روایات میں بھی تعصب کے اخلاق مذمومہ کی فہرست میں شمار کیا گیا ہے اور اس کی زبردست مذمت کی گئی ہے حتٰی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں :-
من كان في قلبه حبة من خردل من عصبية بعثه الله يوم القيامة
مع اعراب الجاهلية
ہر شخص کے دل میں رائی برابر بھی تعصب ہوگا خدا وند عالم اسے قیامت کے دن زمانه جاہلیت
کے اعراب کے ساتھ محشور فرمائے گا۔ ؎1
ایک اور حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :-
من تعصب او تعصب له فقدخلع ربقة الايمان من عنقه
جس شخص نے تعصب برتا یا جس کے لیے تعصب برتا گیا اس نے ایمان کے حلقے کواپنی گردن
سے اتار پھنیکا۔ ؎2
روایات ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ "ابلیس پہلا وہ شخص ہے جس نے تعصب کام مظاہرہ کیا۔
جیساکہ نہج البلاغہ میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے تعصب کے سلسلے میں ایک نہایت ہی جامع و مانع اور مدلل گفتگو فرمائی ہے جو کہ "خطہ قاصعہ" میں موجود ہے ہم اس کا ایک حصہ ذیل میں درج کرتے ہیں، امام فرماتے ہیں:-
اما ابلیس فتعصب على أدم لاصله وطعن عليه في خلقته، فقال اناناری
وانت طيني
ابلیس نے ان تخلیق کے بل بوتے پر آدمؑ کے ساتھ تعصب برتا اور آدم کی تخلیق پر طعن تشنيع
کرتے ہوئے کہا کہ میں آگ سے ہوں اور تو مٹی سے.
پھرگے چل کر امامؑ فرماتے ہیں :-
فان كان لابد من العصبية فلیکن تعصبكم لمكارم الخصال و محامد
الافعال و محاسن الأمور ۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 ، ؎2 اصول کافی جلد 2 ص 232 (باب، العصبیہ )۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تعصب کے بغیر چار نہیں ہے تو پھرتمھارا یہ تعصب پسندیدہ اخلاق، نیک افعال اور اچھے
کاموں کے لیے ہوناچاہیے۔ ؎1
ضمنی طور پر اس حدیث سے بھی بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ ایک پسندیدہ اور مستحسن واقعیت پرڈٹ جانا نہ صرف قابل مذمت نہیں بلکہ انسان کے جاہلیت کے غلط رسم ورواج اور ربط و ضبط کی وجہ سے پیدا ہونے والے روحانی خلا کوبھی پر کرسکتا ہے۔
اسی لیے توحضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے جب "تعصب" کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:-
العصبية التي يأثم علیها صاحبها ان يرى الرجل شرارتومه خیرًا من
خیار قوم أخرين، وليس من العصبية ان يحب الرجل قومه ، و لكن من العصبية
أن يعين قومه على الظلم
حبس تعصب کی وجہ سے انسان گناہ گار ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنی قوم کے بڑے لوگوں کو دوسری
قوموں کے اچھے افراد سے بہتر سمجھا جائے اگر کوئی شخص اپنی قوم اور قبیلے سے محبت رکھتا ہے تو
یہ تعصب نہیں ہوگا کی عصبیت تواس بات میں ہے کہ انسان اپنے قبیلے اور قوم کی ظلم وستم میں امداد کرے ۔ ؎2
آیات اور روایات میں عصبیت کو "حمیت" سے بھی تعبیر کیا گیا ہے یا اسے " حمیۃ جاہلیہ" کا نام دیاگیا ہے۔
اسی سلسلے میں کرنے کی بہت سی باتیں ہیں لیکن اپنی گفتگو کو دو حدیثوں کے بیان پر ختم کرتے ہیں:-
امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :-
ان الله عزوجل يعذب ستة بست، العرب بالعصبية والدها قنة بالكبر، والامراء
بالجور، والفقهاء بالحسد، والتجار بالخيانة، واهل الرستاق بالجهل
خداوند عالم چھ طرح کے لوگوں کو چھ طرح کی صفات کی وجہ سے معذب کرے گا عربوں کو
ان کے تعصب کی بنا پر ، جاگیرداروں (اور صاحبان ثروت) کو ان کے تکبر کی وجہ سے،
حکمرانوں کوان کے ظلم وجبر کی وجہ سے ، فقہاء کو ان کے حسد کی بنا پر ، تاجروں کو خیانت کی
وجہ سے اور دیہاتیوں کو ان کی جہالت کی بناءپر۔ ؎3
پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر روز چھ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے:
كان رسول اللہ (ص) یتعوذ في كل يوم من ست من الشك والشرك والحمية والغضب
والبغي و الحسد ؎4
شک ، شرک ، حمیت (تعصب)، غضب، ظلم اور حسد سے ۔ ؎5
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 نہج البلاغہ ، خطبہ قاصعہ نمبر192۔
؎2 اصول کافي (باب العصبیہ) جلد 2 ص 233۔
؎3 ، ؎4 بحار جلد 73 ص 289۔
؎5 بحارالانوار جلد 73 ، ص 289۔