Tafseer e Namoona

Topic

											

									  اگرقرآن کسی عجمی پرنازل ہوتاتو ......؟

										
																									
								

Ayat No : 198-203

: الشعراء

وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ ۱۹۸فَقَرَأَهُ عَلَيْهِمْ مَا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ ۱۹۹كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ ۲۰۰لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ۲۰۱فَيَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۲۰۲فَيَقُولُوا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُونَ ۲۰۳

Translation

اور اگر ہم اسے کسی عجمی آدمی پر نازل کردیتے. اور وہ انہیں پڑھ کر سناتا تو یہ کبھی ایمان لانے والے نہیں تھے. اور اس طرح ہم نے اس انکار کو مجرمین کے دلوں تک جانے کا رستہ دے دیا ہے. کہ یہ ایمن لانے والے نہیں ہیں جب تک کہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں. کہ یہ عذاب ان پر اچانک نازل ہوجائے اور انہیں شعور تک نہ ہو. اس وقت یہ کہیں گے کہ کیا ہمیں مہلت دی جاسکتی ہے.

Tafseer

									  تفسیر
          اگرقرآن کسی عجمی پرنازل ہوتاتو ......؟
 ان آیات میں سب سے پہلے کفار کے ایک اور احتمالی ہہانے کی پیش بندی کی گئی ہے اور گزشتہ آیات میں قرآن مجید کے واضح عربی زبان میں ہونے کے بارے میں جو گفتگوتھی اس کی تکمیل کی گئی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے ، اگرہم اس قرآن کو کسی عجمی (غیر
عرب اورغیر فصیح ) پر نازل کرتے ...... (ولو نزلناه على بعض الاعجمین۔ 
 اور وہ ان آیات کو ان لوگوں کے سامنے پڑھتا تو وہ ہرگزایمان نہ لاتے (فقرأه عليهم ما كانوابه مؤمنين)۔
 ہم پہلے بتا چکے ہیں "عربی" کا لفظ کبھی تو ان لوگوں پر بولا جاتا ہے جواہل عرب کی نسل سے ہوں اور کبھی فصیح کلام کے معنی میں آتا ہے اسی طرح اس کا مقابل لفظ "عجمی" ہے اس کے بھی دومعنی ہیں ایک غیرعرب نسل اور دوسرے غیر فصیح کلام اور مندرجہ بالا آیت میں دونوں معانی کا احتمال ہے لیکن جو بات زیادہ قرین عقل معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں پر "غیرعرب نسل" کی طرف اشارہ ہے۔
 یعنی عربوں کی نسل پرستی اور قومی تعصب اس قدر شدید ہے کہ اگر قرآن مجید کسی غیرعرب شخص پر نازل ہوتا تو ان کے تعصب کی موجیں انھیں اس کے قبول کرنے سے مانع ہوتیں حالانکہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ایک حقیقی عرب خاندان کے شریف انسان پر فصیح و بلیغ بیان کے ساتھ نازل ہوا ہے اور کتب آسمانی میں بھی اس کے بارے میں بشارت آچکی ہے اور بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی گواہی دے چکے ہیں پھربھی ان میں سے بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے اگر رسول میں یہ اوصاف بالکل نہ ہوتے تو وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے؟
 پھر تاکید مزید کے طور پر فرمایا گیا ہے :- ہم قرآن مجید کو اسی طرح مجرموں کے دلوں میں سے گزارتے ہیں (کذلك سلكناہ في قلوب المجرمين )-
 واضع بیان اور ایسے شخص کی زبان کے ذریعے جو انھی میں سے ہے اور وہ لوگ اس کے اخلاق اور طرز کلام سے بھی آشنا ہیں اور وہ ایسے مطالب پیش کرتا ہے کہ جن کی تائید سابقہ کتابوں میں بھی آچکی ہے۔ المختصراس قرآن کو ان تمام اوصاف کے ساتھ جس کی قبولیت ہرایک کے لیے آسان ہو اس گناہ گار قوم کی طرف بھیجا ہے لیکن یہ بیمار دل اسے قبول نہیں کرتے جس طرح صحیح و سالم اور مقوی غذا کو غیرسالم اور بیمارمعدہ قبول نہیں کرتا اور اسے واپس پلٹا دیتاہے۔
 (توجہ رہے کہ "سلكناه" "سلوک" کے مادہ سے ہے جس کا معنی "راستے سے گزرنا" ہے اور ایک راہ سے آنا اور دوسری راہ سے گزر جانا )۔
 اسی لیے فرمایا گیا ہے : ایسی صورت میں یہ ہٹ دھرم لوگ اس پراس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک دردناک عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں (لا يؤمنون به حق يروا العذاب الأليم).
 بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیرمیں ایک اور احتمال کا ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ "كذلك سلكناه في قلوب المجرمين" سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اس عصبيت ، ہٹ دھرمی اور قبول نہکرنے کی عادت کو ان کے اپنے جرائم اور گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں میں اتار دیا۔
 اس معنی کی رو سے یہ آیت بعنینہ "ختم الله على قلوبهم" یعنی خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگادی کے مانند ہوجاۓ گی۔
 لیکن پہلی تفسیراول و آخر کی آیات سے زیادہ ہم آہنگ ہے لہذا بہت سے مفسرین نے اسے ہی اختیار کیا۔ ؎1 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     مندرجہ بالا چند آیات میں مفرد کی پانچ ضمیریں ہیں ان الفاظ میں  ملتی ہیں "نزلناه"  "قرأه" "وما كانوابه"  " سلكناه " اور " لا يؤمنون به " پہلی تفسیر کے مطابق یہ سب کی سب قرآن کی طرف لوٹ رہی ہیں لیکن دوسری تفسیر کے مطبق بعض ضمیریں قرآن کی طرف اور بعض ہٹ دھرمی اور عدم قبولیت کی جانب پلٹ رہی ہیں لیکن جب تک قرینہ موجود نہ ہو ایسا کرنا مشکل ہے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 ہاں ہاں! وہ اس وقت کا ایمان نہیں لائیں گے جب تک عذاب الہی ناگہانی طور پران کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لےاور انھیں اس کا خیال بھی نہ ہو (فياتیهم بغتة وهم لا يشعرون)۔ ؎1
 اس میں شک نہیں کہ اس عذاب الہی سے مراد جو انھیں اچانک اپنی لپیٹ میں لے کے گا یہی دنیاوی عذاب ، نیست ونابود کر دینے والی بلائیں ہیں جسے "استیصالی عذاب" کہتے ہیں۔
 اسی لیے اس آیت کے بعد فرمایا گیا ہے: ایسی صورت میں وہ اپنی صحیح حالت کی طرف لوٹ آئیں گے ، اپنے شرمناک ماضی پر پچھتائیں گے ، اپنے خطرناک مستقبل سے سخت خوف کھائیں گے "اورکہیں گئے کیا ہمیں کچھ مہلت مل جائے گی" تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور اپنے برباد ماضی کو آباد کریں (فيقولوا هل نحن منظرون)۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
   ؎1    توجہ ہے کہ " فيأتيهم " کاجملہ منصوب ہے اور "حتی یروا" پراس کا عطف پڑ رہا ہے لہذااس تناظر میں اس کا معنی بیان کرنا چاہیے۔