Tafseer e Namoona

Topic

											

									     گزشتہ کتابوں میں قرآن کی عظمت

										
																									
								

Ayat No : 192-197

: الشعراء

وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۱۹۲نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ۱۹۳عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ ۱۹۴بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ ۱۹۵وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ ۱۹۶أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ۱۹۷

Translation

اور یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل ہونے والا ہے. اسے جبریل امین لے کر نازل ہوئے ہیں. یہ آپ کے قلب پر نازل ہوا ہے تاکہ آپ لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں. یہ واضح عربی زبان میں ہے. اور اس کا ذکر سابقین کی کتابوں میں بھی موجود ہے. کیا یہ نشانی ان کے لئے کافی نہیں ہے کہ اسے بنی اسرائیل کے علمائ بھی جانتے ہیں.

Tafseer

									  تفسیر
         گزشتہ کتابوں میں قرآن کی عظمت
 گزشتہ انبیاء کی سات داستانوں کے بیان کرنے اور ان کی تاریخ میں پوشیدہ درس ہائے عبرت کا ذکر کرنے کے بعد قرآن مجید ایک بار پھر اسی گفتگو کی طرف لوٹ جاتا ہے جس سے اس سورت کا آغاز ہوا تھا۔ یعنی قرآن مجید کی عظمت اور خدا کے کلام مبین کی حقانیت کی طرف ، چنانچہ فرماتا ہے : یہ عالمین کے پروردگار کی جانب سے نازل ہوا ہے(وانه لتنزيل رب العالمين)۔
 اصولی طور پرگزشتہ انبیا کی سرگزشت اوروہ بھی نہایت صحیح اور دیقیق انداز میں کہ جس میں توکوئی خرافات ہے اور نہ جھوٹے افسانے ہیں جب کہ وہ ماحول افسانوں اورقصے کہانیوں کا تھا اور پھران صحیح واقعات اور داستانوں کو وہ شخص بیان فرما رہا ہے جس نےمطلقًا کسی کے سامنے زانوئے تلمذتہ نہیں کیا یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ کتاب رب العالمین کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور یہ اعجاز قرآن کی ایکی علامت ہے۔
 اسی وجہ سے آگے چل کر ارشاد فرمایا گیا ہے:- اسے روح الامین خدا کی طرف سے لایا ہے (نزل به الروح الامین)۔
 اگروحی کا وہ فرشتہ اور "پروردگار کا روح امین" اسے خداوندعالم کی طرف سے نہ لاتا تو کلام اس قدر روشن ، تابناک اور ہرقسم کے خرافات اور باطل قصے کہانیوں سے قطعًا پاک نہ ہوتا۔
 یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یہاں پر وحی کے فرشتے کی دوعنوانوں سے توصیف کی گئی ہے ۔ ایک عنوان ہے " روح" اور دوسرے "امین "- روح جو حیات کا سرچشمہ ہوتی ہے اور "امانت" جو ہدایت اور رہبری کی شرط اولین شمار ہوتی ہے۔
 جی ہاں اسی "روح الامین" نے قرآن مجید خداوند عالم کی طرف سے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تم لوگوں کو ڈراۓ (على قلبك لتكون من المنذرین )۔ ؎1
 مقصد یہ ہے کہ تم لوگوں کو ڈرائے اور انھیں اس خطرناک انجام سے مطلع کرے جو توحید سے منحرف ہوجانے کی وجہ سے ان کے دامن گیر ہوگا۔ گزشتہ لوگوں کی تاریخ بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ موجودہ لوگوں دل بہلایا جائے اور انھیں قصے کہانیوں میں ہی مشغول رکھا جائے بلکہ اصلی مقصد یہ ہے کہ ان کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کیا جائے اورانھیں بیدار کیا جائے۔ اصل مدعا یہ ہے کہ ان کی صحیح تربیت کی جائے اور انھیں انسان بنایا جائے۔
 تاکہ کسی شخص کے لیے کسی قسم کے عذر کی گنجائش باقی نہ رہے ۔ اسے واضع عربی زبان میں نازل کیا گیا بے (بلسان عربی مبین)۔ 
 قرآن مجید فصیح عربی میں نازل ہوا ہے اور ہرقسم کے ابہام سے بھی خالی ہے تاکہ ڈرانے اور بیدار کرنے کے لیے بہت واضح اور گویا ہو کیونکہ اس دور کے لوگ نہایت ہی بہانہ ساز اور ہٹ دھرم تھے۔
 وہی عربی زبان جو دنیا کی کامل ترین زبان ہے اور دنیا کے مفید ترین اور غنی ترین ادبیات پرمشتمل رہے۔
 اس نکتے کی جانب بھی توجہ ضروری ہے کہ لفظ "عربي" کا ایک معنی خود فصاحت اور بلاغت بھی ہے البتہ کیفیت زبان سے قطع نظر کرتے ہوئے ..... جیسا کہ راغب اصفہانی مفردات میں لکھتے ہیں :-
  والعربي ، الفصيح البين من الكلام۔
  عربی فصیح اور آشکارا گفتگو کو کہتے ہیں۔ 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      ظاہر ہے کہ یہاں پر "قلب" سے مراد پیغمبر اکرم کی پاک و پاکیزہ روح ہی ہے نہ کہ گوشت کا وہ لوتھڑا گردش خون کا سبب ہوتا ہے یہاں پر یہ تعبیر اس بات کی طرف اشاره
ہے کہ آپ نے اپنی روح کے ساتھ قران مجید کو قبول فرمایا ہے اور اس عظیم آسمانی معجزے کا مرکز آپ کا قلب ہی ہے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ابن منظور نے بھی "لسان العرب" میں یہی معنی لکھا ہے :۔
 تواس صورت میں یہ مقصد نہیں ہوگا کہ عربی زبان پر انحصار کیاگیا ہے بلکہ مدعایہ ہوگا ک قرآن مجید کی صراحت اور مفہوم کی وضاحت کو پیش نظر رکھا گیا ہے آئنده آیات بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہیں اور سور الم سجدہ کی آیت 44 میں بھی آیا ہے۔
  ولو جعلناہ قرانًا اعجميا لقائوالولا فصلت ایاته 
  اگر ہم اس قرآن کو گونگا اور مبہم نازل کرتے تو وہ لوگ کہتے کہ اس قرآن کی آیات روشن اور واضح کیوں نیں بیان کی گئیں؟ 
 یہاں پر عجمی کامعنی غیر فصیح کلام ہے۔
 اس کے بعد قرآن مجید کی حقانیت کے دلائل میں سے ایک اور دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس کتاب کی توصیف گزشتہ لوگوں کی کتابوں میں بھی بیان کی جاچکی ہے اور انھوں نے آئندہ زمانے میں اس کے ظہور کی خوشخبری دی ہے (وانه لفی زبرالاولین)۔ ؎1
 خصوصًا جناب موسٰی علیہ السلام کی تورات میں اس پیغمبر اور اس آسمانی کتاب کے اوصاف کی طرف اشارہ موجود تھا اورعلماء بنی اسرائیل ان اوصاف سے بخوبی واقف تھے یہاں تک کہ بھی کہا جاتا ہے کہ "اوس" اور "خزرج" کے دو قبیلوں کا پیغمبراسلامؐ پر ایمان لانے کا سبب بھی وہ پیش گویاں تھیں جو بنی اسرائیل کے علماء اس پیغمبر کے ظہور اوراسی آسمانی کتاب کے نزول کے بارے میں کیا کرتے تھے۔
 اس لیے قرآن مجید فرماتا ہے : آیا ہی نشانی ان کے لیے کافی نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کے علماء اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ (اولم يكن لهم اية ان یعلمه علماء بنی اسرآیل)۔
 ظاہر سی بات ہے کہ جس ماحول میں بنی اسرائیل کے اس قدر علماء موجود تھے اور مشرکین کے ساتھ مکمل طور پر ان کی نشت و برخاست تھی یہ بات قطعًا ناممکن تھی کہ قرآن مجید اپنے بارے میں بغیر کسی ثبوت کے اتنی بڑی بات کہہ دے کیونکہ اس کی تردید میں ہر سے شروغوغا بلند ہوجاتا لہذا معلوم ہوتا ہے کہ نزول آیات کے موقع پریہ اس قدر واضح اور اظہر من الشمس تھا کہ کوئی بھی اس کا انکار نہ کرسکا۔
 سورہ بقرہ کی آیت 89 میں بھی ہے:-
  وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا فلما جاءهم ماعرفوا كفروا به 
  وہ (یہودی) لوگ اس سے پہلے ، مشرکین کے ظلم وستم کے سامنے (پیغمبر اسلام کے ظہور کے ذریعہ) فتح و کامرانی 
  کی آرزو کیا کرتے تھے ، لیکن جب وہی کتاب اور پیغمبر جنھیں وہ پہلے سے پہچانتے تھے ان کے پاس آگئے تووه اسکے منکرہوگئے۔ 
 یہ سب کچھ قرآن کی صدق گفتار اور اس کی حقانیت دعوت کا روشن گواہ ہے  
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   "زبر" "زبور" کی جمع ہے جوکتاب کے معنی میں ہے اور دراصل یہ "زبر" (بروزن" ابر" کے مادہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے " لکھنا"۔