Tafseer e Namoona

Topic

											

									  3-  شرک سب برائیوں کی بنیاد ہے 

										
																									
								

Ayat No : 185-191

: الشعراء

قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ ۱۸۵وَمَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَإِنْ نَظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ ۱۸۶فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ۱۸۷قَالَ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ۱۸۸فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۱۸۹إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۱۹۰وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۱۹۱

Translation

ان لوگوں نے کہا کہ تم تو صرف جادو زدہ معلوم ہوتے ہو. اور تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو اور ہمیں تو جھوٹے بھی معلوم ہوتے ہو. اور اگر واقعا سچے ہو تو ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا نازل کردو. انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے. پھر ان لوگوں نے تکذیب کی تو انہیں سایہ کے دن کے عذاب نے اپنی گرفت میں لے لیا کہ یہ بڑے سخت دن کا عذاب تھا. بیشک اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار بہت بڑا عزت والا اور مہربان ہے.

Tafseer

									 3-  شرک سب برائیوں کی بنیاد ہے :- 
 یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جن اقوام کا اس سورت کے مختلف مقامات پر ذکر ہوا وہ اصل توحید سے منحرف ہوکر شرک اور بت پرستی جیسی لعنت میں گرفتار ہوگئی تھیں اور یہ ان سب کے درمیان ایک قدر مشترک تھی اس کے علاوہ وہ خاص اخلاقی اور سماجی برائیوں میں بھی مبتلا ہوگئی تھیں۔ اور یہی چیز انھیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے؟
 کچھ  قومیں غرور میں مبتلا تھیں  (جیسے قوم ہود)۔ 
 کچھ قومیں فضول خرچ اورعیاش تھیں (جیسے صالح کی قوم)۔ 
 کچھ  قومیں جنسی بے رہروی کا شکار تھیں (جیسے جناب لوط کی قوم ) ۔
 کچھ بہت مال پرست تھیں جس کے لیے وہ اپنے کاروبار میں دھوکا دہی کامظاہرہ کرتی تھیں (جیسے شعیب کی قوم)۔ 
 کچھ قوموں کو اپنی ثروت مندی کا گھمنڈ تھا(جیسے نوح علیہ اسلام کی قوم )۔
 لیکن انھیں جوعذاب دیا گیا وہ تقریبًا ایک دوسرے سے ملتا جلتا تھا۔ چنانچہ:-
 کچھ تو بجلی کی کڑک اور زلزلے سے نابود ہوگئیں (جیسے شعیب ، صالح ، لوط اور ہود علیم اسلام کی قومیں)۔
 کچھ طوفان اور سیلاب کے ذریعے صفحہ ہستی سے مٹ گئیں (جیسے نوح علیہ اسلام کی قوم )۔ 
 درحقیقت جوزمین ان کے عیش و آرام کا گہوارہ تھی وه ایک دن ان کے لیے وبال جان بن گئی اور انھیں صفحہ ہستی سے مٹادیا اور جو ہوا اور پانی ان کی زندگی کے ضامن تھے ان کی موت پرعمل درآمد کرنے کے لیے تیارکیے گئے ۔
 کس قدر عجیب کیفیت ہے انسان کی کہ اس کی زندگی و موت کے منہ میں ہے اور موت زندگی کے سایے میں ، اس کے باوجود بھی غافل اور مغرور ہے۔