Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- سب کی دعوت کا آغاز تقوٰی ہے

										
																									
								

Ayat No : 185-191

: الشعراء

قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ ۱۸۵وَمَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَإِنْ نَظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ ۱۸۶فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ۱۸۷قَالَ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ۱۸۸فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۱۸۹إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۱۹۰وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۱۹۱

Translation

ان لوگوں نے کہا کہ تم تو صرف جادو زدہ معلوم ہوتے ہو. اور تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو اور ہمیں تو جھوٹے بھی معلوم ہوتے ہو. اور اگر واقعا سچے ہو تو ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا نازل کردو. انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے. پھر ان لوگوں نے تکذیب کی تو انہیں سایہ کے دن کے عذاب نے اپنی گرفت میں لے لیا کہ یہ بڑے سخت دن کا عذاب تھا. بیشک اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار بہت بڑا عزت والا اور مہربان ہے.

Tafseer

									 2- سب کی دعوت کا آغاز تقوٰی ہے :- 
 یہ بات قابل غور ہے کہ ان انبیاء علیہم اسلام کی انھی داستانوں کے اہم حصے سورہ ہود اور سورہ اعراف میں بھی آ چکے ہیں لیکن ان کا آغاز عمومًا خدا کی توحید اور یگانگت سے ہوا ہے مثلًا اس جملے سے " يا قوم اعبدوا الله مالكم من إله غيره " یعنی اے میری قوم خدا کی عبادت کرو کیونکہ اس کے علاوہ تمھارا کوئی معبود نہیں ہے۔
 لیکن جیسا کہ آپ ملاخطہ فرما چکے ہیں اس سورہ میں "الاتتقون" کہہ کر دعوت تقوٰی سے آغاز کرتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو ہردو کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کیونکہ جب تک کسی انسان میں تقوی کی کم ازکم حدود یعنی حق طلبی اورحق جوئی نہ پائی جائیں  ، اس وقت تک ا س پر نہ توحید کی دعوت موثر ہوسکتی ہے اور نہ ہی کوئی اور چیز۔ لہذا سورۂ بقرہ کے آغاز میں ہم پڑھتے ہیں۔
  ذلك الكتب لاریب فیه هدی للمتقين 
  یہ وہ آسمانی کتاب ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں اور پرہیزگاروں کے لیےہدایت کا ذریعہ ہے۔ 
 البتہ تقوٰی کے کئی مرتب ہوتے ہیں اور ہر مرتبہ دوسرے مرتبے کے لیے ایک بنیاد ہوتا ہے۔
 سورہ شعراء اور سورہ اعراف سورہ ہود کے مضامین میں ایک اور فرق بھی نظر ہے کہ اعراف اور میں انبیاء کابت پرستی کے خلاف جہاد کا تذکرہ ہے اور دوسرے مسائل اس کے تحت ہیں ، لیکن یہاں فخروغرور ، تکبرونخوت ، اسراف وہ حوس  ، جنسی بے راہروی لوٹ کھسوٹ کم فروشی اور دھوکے بازی سے اخلاقی اور سماجی جرائم کے خلاف زور دیاگیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے قرآن مجید میں ایسی داستانوں کے بار بار دہرانے کا بھی کوئی خاص مقصد ہوتا ہے اور ہر دفعہ کسی خاص مقصد کو بیان کیا گیا ہے۔