Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1- انبیاء کی دعوت میں مکمل ہم آہنگی

										
																									
								

Ayat No : 185-191

: الشعراء

قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ ۱۸۵وَمَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَإِنْ نَظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ ۱۸۶فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ۱۸۷قَالَ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ۱۸۸فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۱۸۹إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۱۹۰وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۱۹۱

Translation

ان لوگوں نے کہا کہ تم تو صرف جادو زدہ معلوم ہوتے ہو. اور تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو اور ہمیں تو جھوٹے بھی معلوم ہوتے ہو. اور اگر واقعا سچے ہو تو ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا نازل کردو. انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے. پھر ان لوگوں نے تکذیب کی تو انہیں سایہ کے دن کے عذاب نے اپنی گرفت میں لے لیا کہ یہ بڑے سخت دن کا عذاب تھا. بیشک اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار بہت بڑا عزت والا اور مہربان ہے.

Tafseer

									  چند اہم نکات
 1- انبیاء کی دعوت میں مکمل ہم آہنگی :- 
 ان سات عظیم بنیاد کے واقعات کی جو حقیقت تربیتی دروس کے سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہیں ، ان کے آخر میں اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ انہی انبیاء کی داستانیں قرآن مجید کی اور سورتوں میں بھی بیان ہوئی ہیں لیکن اس انداز سے بیان نہیں ہوئیں جیسا کہ اس سورت میں کہ جن کا آغاز بھی ایک جیسا اور انجام بھی ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو۔
 ان داستانوں کے پانچ حصوں میں ان کی دعوت کا موضوع تقوٰی ہے پھر ان کی امانت کا بیان ہے اورکسی قسم کی اجرت طلب نہ کرنے کا ذکر ہے۔
 پھراس دورمیں پائی جانے والی لغزشوں اورغلطیوں پر دوستانہ طریقے سے تنقید کی گئی ہے ۔
 پهران گمراہ لوگوں کے برے ردعمل اور نہایت ہی بھونڈے طریقے کا ذکر ہے آخر کار موقع کی مناسبت سے نازل ہونے والے دردناک عذاب کا بیان ہے۔
 ان ساتوں داستانوں میں سے ہر ایک کے آخر میں اسے آیت اور عبرت کی نشانی بتایا گیا ہے اوران گراه قوموں کی اکثریت کے ایمان لانے کا تذکرہ ہے۔
 اور پھر ان سب کے آخر میں خدا کی "قدرت" اور "رحمت" کا ذکر ہے۔
 یہ ہم آہنگی سب سے پہلے اس بات کا پتہ دیتی ہے کا انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں "توحید" کی جھلک پائی جاتی ہے کہ ان سب کا "واحد" پروگرام تھا اور جس کا آغاز اور انجام ہم آہنگ ہے۔ سب انبیاء انسان سازی کی کلاسوں کے معلم تھے ہر چند کہ مرورزمان کے ساتھ اور انسانی معاشرے کی پیش رفت کی بناء پران کلاسوں کے مضامین تبدیل ہوتے رہے لیکن ان سب کے اصول ، بنیاديں اور نتائج ایک جیسے تھے اور پھر یہ بھی کہ یہ داستانیں اسلام اور اوائل کے بند گنے چنے مومنین کے دلوں کے لیے ڈھارس اور تسلی کا کام بھی دیتی ہیں بلکہ ہر دور کی مومنین کے لیے موجب تسلی ہیں کہ وہ مخالفین کی کثرت اور گمراہ قوم کی اکثریت سے ہرگز نہ گھبرائیں اور اپنے کام کے منانے کی نتائج کی سو فیصد امید رکھیں۔
 نیز ہر دور اور ہر عصر کے ظالم اور ستمگر اورگمراہ لوگوں کے لیے ایک زبردست تنبیہ بھی ہیں کہ وہ سزائے الہی کو کسی بھی لمحے اپنے سے دور تصور نہ کریں کیونکہ ان پر زلزلوں ، بجلیوں ، ہولناک طوفانوں ، آتش فشاں پہاڑوں ، زمین کے پھٹنے کی صورتوں اور سیلاب اور بارشوں سے عذاب بھی نازل ہوسکتے ہیں اور آج کا انسان بھی ایسے عذاب کے سامنے اسی طرح سے بے بس ہے جس طرح گزشتہ زمانے کے لوگ ۔ کیونکہ موجودہ دور کا انسان اپنی تمام صنعتی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود اس طرح کے عذابوں کے سامنے عاجزاور بے بس ہے۔
 قرآن مجید کا ان تمام داستانوں کے بیان کرنے کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ انسان رشد اور ارتقاء کے مراحل طے کرے،اپنے قلب و روح میں نور اور روشنی پیدا کرے ، اپنی سرکش خواہشات کو کنٹرول کرے اور ظلم و ستم اور ہرقسم کی لغزشوں کا مقابلہ کرے۔