اس سرکش قوم کا انجام
قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ ۱۸۵وَمَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَإِنْ نَظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ ۱۸۶فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ۱۸۷قَالَ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ۱۸۸فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۱۸۹إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۱۹۰وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۱۹۱
ان لوگوں نے کہا کہ تم تو صرف جادو زدہ معلوم ہوتے ہو. اور تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو اور ہمیں تو جھوٹے بھی معلوم ہوتے ہو. اور اگر واقعا سچے ہو تو ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا نازل کردو. انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے. پھر ان لوگوں نے تکذیب کی تو انہیں سایہ کے دن کے عذاب نے اپنی گرفت میں لے لیا کہ یہ بڑے سخت دن کا عذاب تھا. بیشک اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار بہت بڑا عزت والا اور مہربان ہے.
تفسیر
اس سرکش قوم کا انجام
اس ظالم اورستم گر قوم نے جب خود کو شعیب علیہ السلام کو منطقی باتوں کے مقابلے میں بے دلیل دیکھا تو اپنی برائیوں کو جاری و ساری رکھنے کے لیے ان پر تہمتوں کی بوچھاڑ کردی ۔
سب سے پہلے وہی پرانا لیبل جو مجرم اور ظالم لوگ ہمیشہ سے خدا کے انبیاء پرلگاتے رہے ہیں آپ پر بھی لگایا اور کہا :- توتو بس پاگل ہے (فالوا انما انت من المسحرين )
تیری گفتگو میں کوئی منطقی اور مد لل بات دکھائی نہیں دیتی ۔ تیرا خیال ہے کہ ایسی باتیں کرکے تو ہمیں اپنے مال میں آزادی عمل سے روک دے۔
اس کے علاوہ "تو بھی تو ہماری طرح کا ایک انسان ہے کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم تیری اطاعت کریں گے ۔ آخر تجھے ہم پر کون سی فضیلت اور برتری حاصل ہے (وما انت الا بشر متلنا)۔
تیرے بارے میں ہمارا یہی خیال ہے کہ تو ایکی جھوٹا شخص ہے (و ان نظنک لمن الکاذبین).
ان کی یہ گفتگو کیسی تضادات پر منبی ہے کبھی تو انھیں ایسا جھوٹا اور مفاد پرست انسان کہتے تھے جو دعوائے نبوت کی وجہ ان پرفوقیت حاصل کرنا چاہتا ہے اورکبھی انھیں مجنون کہتے تھے۔ ان کی آخری بات یہ تھی بہت اچھا "اگر تو سچاہے تو ہمارے سر آسمان سے پتھر برسا اور ہمیں اسی مصیبت میں مبتلا کر دے جس کی ہمیں دھمکی دے رہا ہے تاکہ تجھے معلوم ہوجائے کہ ہم ایسی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ( فاسقط علينا كسفًا من السماء ان كنت من الصادقين).
"کسف" (بروزن پدر) "کسفہ" (برورن "قطعہ") کی جمع ہے جس کا معنی ٹکڑا ہے اور آسمانی ٹکڑوں سے مراد پتھروں کے ٹکڑے ہیں جو آسمان سے برستے ہیں۔
یہ الفاظ کہہ کرانھوں نے اپنی ڈھٹائی اور بے حیائی کی انتہا کردی اور اپنے کفر تکذیب کا بدترین مظاہرہ کیا۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے ان ناموزوں الفاظ، قبیح اور نازیبا کلمات اور عذاب الہی کے تقاضے کے جواب میں صرف ایک ہی جملہ کہا اوریہ کہا کہ میرا پروردگاران اعمال سے زیادہ آگاہ بے جوتم انجام دیتے ہو۔ (قال ربی اعلم بما تعملعون)۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس چیز کاتقاضاکررہے ہو وہ مجھ سے متعلق نہیں ہے آسمان سے پتھروں کابرسنا | ہو یا کوئی دوسرا عذاب، میرے بس کی بات نہیں اور نہ ہی یہ اختیار مجھے دیا گیا ہے۔ خداوند تعالٰی ہی تمھارے اعمال کو جانتا اور
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 جیساکہ ہم پہلے بتاچکے ہیں" مسحر" اس شخص کو کہتےہیں کہ جس پر کئی مرتبہ سحر کیا جائے اور جادوگر اس کی عقل کو بے کار کردیں۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تمہارے استحقاق کے معیار سے باخبر ہے جب اس نے تمھیں سزاکا مستحق دیکھا اور واعظ ونصیحت نے بھی تم پر کوئی اثر نہ کیا اور کافی حد تک اتمام حجت بھی ہوگئی تو تم پر عذاب نازل کرکے تمھارا ستیاناس کر دے گا ۔
یہ جملہ اورانبیاء کی داستانوں میں اس جیسی دوسری تعبریں ، واضح کرتی ہیں کہ انبیاء کرام علیهم السلام ہر چیز کو خدا کے حکم اور امرکے تابع سمجھتے ہیں اورانھوں نے کبھی یہ دعوٰی نہیں کیا کہ وہ اپنی طرف سے کچھ کرسکتے ہیں۔
لیکن جوں توں کرکے آخر وہ وقت بھی آ پہنچا کہ روئے زمین کو ایسے مجرمین کے وجود سے پاک کیا جائے چنانچہ قرآن مجید بعد والی آیت میں کہتا ہے : انھوں نے شعیب کو جٹھلایاجس کانتیجہ نکلا کہ "سایہ ڈالنے والے بادل "کے دن عذاب نے ان کو آلیا (فکذ بوہ فاخذهم عذاب يوم الظلة).
اور "یہ عذاب ، بڑے دن کا عذاب تھا" (انه كان عذاب يوم عظيم)۔
"ظله " بادل کے اس ٹکڑےکو کہتے ہیں جو سایہ کر دیتا ہے بہت سے مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ مسلسل سات دن تک ان پر گرم ہوا چلتی رہی اس دوران میں بادنسیم کا ایک بھی جھونکا نہیں آیا۔ اسی اثنامیں آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا نمایاں ہوا اور بادنسیم بھی چلنے لگی وہ لوگ فورًا اپنے گھروں سے باہرنکل آئے اورسخت تکلیف کی وجہ سے جب بادل سائے تلے آگئے تو سکھ کا سانس لیا۔
لیکن اچانک بادلوں سے بجلی کی ایک ایسی کڑک سنائی دی جس سے ان کے کان چھوٹ گئے اس کے فورا بعد ان پرآگ برسنے لگی اور زمین میں بھونچال آگیا جس سے وہ سب ہلاک اور برباد ہوگئے۔
ہم جانتے ہیں کہ بادلوں اور زمین کے درمیان طاقت ور الیکٹریسٹی کے باہمی تبادلے کے نتیجے میں"صاعقہ" پیدا ہوتی ہے اور اس کی آواز بہت وحشت ناک ہوتی ہے اور اس کا شعلہ بھی بہت بڑا ہوتا ہے جہاں یہ بجلی گرے وہاں بعض اوقات زلزلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے قوم شعیب کے عذاب کے بارے میں قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں جو الفاظ آئے ہیں وہ دراصل ایک حقیقت کی مختلف تعبیریں ہیں جیسا کہ سورہ اعراف کی آیت 91 میں "رجفة" (زلزلہ) سورہ ہود کی آیت 94 میں" میحۃ" (زبردست آواز) اور زیرگفتگوآیت میں "عذاب يوم الظلة " کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
ہر چند کہ قرطبی اور فخرازی جیسے مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ اصحاب ایکہ اور اصحاب مدین دومختلف قومیں تھیں اور دونوں کے لیے علیحدہ علیحدہ عذاب نازل ہوا، لیکن متعلقہ آیات میں غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ احتمال زیادہ قابل اعتماد نہیں اس داستان کے آخر میں بھی انھی الفاظ کو دہرایاگیا ہے جو چھ بزرگ انبیاء کی گزشتہ داستانوں میں آئے ہیں ۔
چنانچہ فرمایاگیا بے: سرزمین ایکہ کے لوگوں کی داستان ، ان کے مہربان بنی شعیبؑ کی محبت بھری تبلیغ ، ان لوگوں کی طرف سے ڈھٹائی ، سرکشی اور تکذیب اور انجام کار اس ظالم قوم کی گرجدار بجلی سے تباہی اور بربادی میں عبرت کی نشانی اور درس موجود ہے (ان في ذلك لاية)۔
لیکن ان میں سے اکثرلوگ ایمان نہیں لائے (وما كان اكثرهم مؤمنین)۔
اس کے باوجود خداوند رحیم و مہربان نے انھیں کافی مہلت دی تاکہ وہ سمجھ جائیں اور اپنی اصلاح کرلیں لیکن جب دو عذاب کے مستحق ہوگئے تو اس نے بھی اپنی قہاری قدرت کی شان دکھلائی اور ان پراپنی گرفت مضبوط کرلی ، یقینًا تیرا پروردگار ناقابل تسخیر اور رحیم ہے ( و ان ربك لهم العزیز الرحیم)۔