سوره شعراء / آیه 185 - 191
قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ ۱۸۵وَمَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَإِنْ نَظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ ۱۸۶فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ۱۸۷قَالَ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ۱۸۸فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۱۸۹إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۱۹۰وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۱۹۱
ان لوگوں نے کہا کہ تم تو صرف جادو زدہ معلوم ہوتے ہو. اور تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو اور ہمیں تو جھوٹے بھی معلوم ہوتے ہو. اور اگر واقعا سچے ہو تو ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا نازل کردو. انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے. پھر ان لوگوں نے تکذیب کی تو انہیں سایہ کے دن کے عذاب نے اپنی گرفت میں لے لیا کہ یہ بڑے سخت دن کا عذاب تھا. بیشک اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار بہت بڑا عزت والا اور مہربان ہے.
(185) قَالُـوٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ
(186) وَمَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُـنَا وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِيْنَ
(187) فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِيْنَ
(188) قَالَ رَبِّـىٓ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
(189) فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُـمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّـلَّـةِ ۚ اِنَّهٝ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْـمٍ
(190) اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۖ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ
(191) وَاِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْـمُ
ترجمہ
(185) انھوں نے کہا تو تو بس پاگل ہے۔
(186) (اس کے علاوہ) تو فقط ہم جیسا انسان ہے تیرے بارے میں ہمارا گمان صرف یہی ہے کہ تو جھوٹاہے۔
(187) اگر تو سچاہے تو آسمان سے ہم پر پتھر برسادے۔
(188) (شعیب نے) کہا : میرا پروردگاران اعمال سے زیادہ آگاہ ہے جوتم انجام دیتے ہو۔
(189) آخر کار انھوں نے اسے جھٹلایا اور "سایہ دار بادل" کے دن نے انھیں آلیا اور وہ عظیم دن کا عذاب تھا۔
(190) اس واقعے میں آیت اور نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثرایمان نہیں لائے ۔
(191) اور تیرا پروردگار عزیز و رحیم ہے۔