شعیب اور اہل ایکہ
كَذَّبَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ ۱۷۶إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلَا تَتَّقُونَ ۱۷۷إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ۱۷۸فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ۱۷۹وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۱۸۰أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ ۱۸۱وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ۱۸۲وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ۱۸۳وَاتَّقُوا الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْأَوَّلِينَ ۱۸۴
اور جنگل کے رہنے والوں نے بھی مرسلین کو جھٹلایا. جب ان سے شعیب نے کہا کہ تم خدا سے ڈرتے کیوں نہیں ہو. میں تمہارے لئے ایک امانتدار پیغمبر ہوں. لہذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو. اور میں تم سے اس کام کی کوئی اجرت بھی نہیں چاہتا ہوں کہ میرا اجر تو صرف رب العالمین کے ذمہ ہے. اور دیکھو ناپ تول کو ٹھیک رکھو اور لوگوں کو خسارہ دینے والے نہ بنو. اور وزن کرو تو صحیح اور سچیّ ترازو سے تولو. اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کیا کرو اور روئے زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو. اور اس خدا سے ڈرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے والی نسلوں کو پیدا کیا ہے.
تفسیر
شعیب اور اہل ایکہ
اس سورت میں انبیاء کے واقعات کا ساتواں اور آخری حصہ ہے۔ یہ اللہ کے عظیم نبی شعیب علیہ السلام اور ان کی سرکش قوم کی داستان ہے
اللہ کے ےی بنی مدین (شامات کے جنوب میں ایک شہر کا نام) اورایکہ (بروزن لیلہ ، مدین کے نزدیک ایک آبادی کا نام ) میں رہتے تھے۔
سورة حجر کی آیت 79 اس بات کی گواہ ہے کی سرزمین ایکہ حجاز سے شام کی طرف جانے والے راستے میں تھی۔
پہلے فرمایا گیا ہے: ایکہ والوں نے خدا کے رسولوں کی تکذیب کی (کذب اصحاب الأيكة المرسلين)۔
انھوں نے نہ صرف جناب شعیب علیہ اسلام کی تکذیب کی جوان کی طرف مبعوث ہونے کی دعوت کی یگانگت اور وحدت و کی وجہ سے دوسرے انبیاء بھی ان کی تکذیب سے محفوظ رہ سکے یا انھوں نے کسی بھی آسمانی دین کوقبول نہیں کیا تھا ۔
"ایکہ" دراصل ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں پر گھنے جنگلات ہوں کہ جسے فارسی میں "بشہ" (اور اردو میں کچھار ۔ مترجم ) کہتے ہیں ۔ یہ علاقہ مدین کے پاس تھا۔ پانی اور گھنے درختوں کی وجہ سے "ایکہ" کے نام سے مشہور ہوگیا ۔ قرائن بتلاتے ہیں کہ ایکہ کے رہنے والے بڑے خوشحال اور ثروت مند لوگ تھے۔ اور یہی خوشحالی اور ثروت ہی شاہدان کے غرور اور غفلت میں غرق ہوجانے کا سبب بن گئی۔
پهراس اجمال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :جب شعیب نے انھیں کہاکہ آیا تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہو (اذ قال لهم شعيب الاتتقون).
درحقیقت جناب شعیب علیہ اسلام کی دعوت کا آغازبھی دوسرے انبیاء کی مانند تقوی اور پرہیزگاری سے ہوتا ہے کہ جو تمام اصلاحی کاموں کی بنیاد اور اخلاقی وسماجی برائیوں سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ جس طرح جناب صالح ، ہود، نوح اور لوط علیهم السلام کی داستانوں میں لفظ "اخوهم" آیا ہے یہاں پر دکھائی نہیں دیتا اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جناب شعیب علیہ اسلام کا وطن"مدین" تھا ان کی رشتے داری مدین والوں کے ساتھ تھی ، اہل ایکہ کے ساتھ نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ سورة سود کی آیہ 84 میں جب صرف "مدین" کا تذکرہ آتا ہے یوں کہا جاتا ہے:
والى مدين اخاهم شعيبًا
زیرنظر آیت میں چونکہ "ایکہ" والوں کا ذکر ہے اور شعیب علیہ اسلام سے ان کسی قسم کی رشتہ داری نہیں تھی لہذا یہاں پر وہ لفظ استعمال نہیں ہوا۔
پھرفرمایا گیا ہے۔ شعیب نے کہا: میں تمھارے لیے امین رسول ہوں ( انى لكم رسول امین)۔
تقویٰ اختیار کرو ، خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو (کیونکہ میری اطاعت اسی کی ہی اطاعت ہے) (فاتقوا الله واطيعون)۔
یہ بھی اچھی طرح جان لو کہ "میں اس دعوت کا اجرتم سے نہیں مانگتا میراجر تو صرف اور صرف عالمین کے رب کے پاس ہے" (وما اسئلکم عليه من اجر ان اجرى الاعلی رب العالمین)۔
وہی ایک جملہ اور ہرلحاظ سے جچاتلا جملہ جو دوسرے تمام انبیاء کی دعوت کے آغاز میں آیا ہے ، تقویٰ کی دعوت ، اپنی دیانت و امانت پرمنبی زندگی کا حوالہ اور اس بات پر خاص طور پر زرو کہ اس دعوت الہی کا سبب صرف اورصرف روحانی ہے کوئی مادی فائدہ پیش نظرنہیں ۔ یہ اس لئے فرمایا تاکہ بہانہ ساز اور بدگمان لوگوں کو بھاگنے کا موقع نہ مل سکے۔
حضرت شعیب علیہ سلام نے بھی دوسرے انبیاء کا ساطریقہ اختیار کیا ۔ پہلے انھوں نے تقویٰ اور اطاعت پروردگار پر ز منبی عمومی دعوت دی ۔ اپنی تعلیمات کے دوسرے حصے میں اس ماحول کی خرابیوں ، اخلاقی اور اجتماعی برائیوں کی نشاندہی کی اورانھیں اپنی تنقید کانشانہ بنایا ۔ اس خوشحال قوم کی اہم ترین خرابیاں اقتصادی ناہمواری ، کھلم کھلا ظلم ، حق کشی اور لوٹ کھسوٹ تھیں لہذا انھوں نے بھی اسی مسائل پر خاص زور دیا۔
پہلے فرماتے ہیں: پیمانے کا حق ادا کرو (ناپ تول میں کمی نہ کرو) (اوفوا الكيل )
اور لوگوں کو نقصان اور گھاٹا نہ پہنچاؤ (ولا تكونوا من المخسرين )۔
سیدھے اور صیح ترازو سے تولو (وزنوا بالقسطاس المستقيم) ۔ ؎1
لوگوں کا حق کم نہ کرو اور نہ ہی لوگوں کی اشیاء اور جنس میں عیب نکالو (و لا تبخسم الناس اشياءهم)۔
زمین پر خرابی نہ پھیلاتے پھرو (ولا تعشوا في الارض مفسدین )۔
ان تین آیات میں شعیب علیہ السلام نے ایک مختصراور جچی تلی عبارت میں اس گمراہ قوم کو "پانچ حکم" دیئے ہیں ۔ بعض مفسرین نے یہ تصور کیا ہے کہ یہ پانچ حکم ایک دوسرے کی تاکید کے طور پرآئے لیکن اگرخوب غور سے کام لیا جائے تومعلوم ہوگا کہ یہ پانچ حکم درحقیقت پانچ بنیادی اورمختلف مطالب کی طرف اشارہ ہے ان میں چارحکم ہیں اور ایک مجموعی کلیہ ہے۔
اس فرق کومعلوم کرنے کے لیے اس حقیقت کی طرف توجہ ضروری ہے کہ قوم شعیبؑ (ایکہ اور مدین کے لوگ) ایک اہم تجارتی راستے پر رہتے تھے۔ جہان سے حجازسے شام اور شام سے حجاز اور دوسرے مقامات کی طرف تجارتی قافلوں کی آمدورفت ہواکرتی تھی۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "قسطاس" (بروزن مقباس) ترازو کے معنی میں ہے بعض لوگ اسے رومی اور کچھ لوگ عربی لفظ سمجھتے ہیں بعض کا خیال ہے قسطاس بڑے ترازو کو کہتے ہیں اورمیزان
چھوٹے کو اور چونکہ قسطاس ایسا ترازو ہوتا ہے جس کی سوئی کے مانند زبان ہوتی ہے لہذا صحیح صحیح وزن بتاتا ہے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
معلوم ہے کہ ایسے قافلوں کو راستے میں بہت سی چیزوں کی ضرورت پیش آتی ہے اوربعض اوقات راستے میں پڑنے والے شہروں کے لوگ ا مسافروں کی ضروریات اور مشکلات سے بہت ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ان کی اجناس کو کم قیمت پر خریدتے ہیں اور اپنی چیزیں و زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں (البتہ توجہ رہے کہ اس زمانے میں زیادہ تر کاروبار مال کے بدلے مال کی صورت میں ہوا کرتا تھا)۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کسی کا مال خریدتے ہیں اس میں ہزار عیب نکالتے ہیں، جب اپنامال بیچتے ہیں تواس کی ہزار تعریف کرتے ہیں۔ جب تولتے ہیں تو اپنامال پورا پورا یاکم تولتے ہیں اور دوسروں کا مال بے پرواہی سے تولتے ہیں یا زیادہ تولتے ہیں چونکہ فریق ثانی بے چارہ ضرورت مند ہوتا ہے لہذا مجبور ہوتا ہے کہ ایسی بے انصافیاں قبول کرے۔
قافلوں اور کاروانوں سے ہٹ کر بھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے علاقے کے غریب اوربے بس لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں اور معاشرے کے مالدار سرمایہ دار لوگ ایسے مجبور اور بے بس لوگوں کے ساتھ اسی قسم کا ظالمانہ سلوک کرتے ہیں غریب لوگ کوئی جنس بیچیں یا خریدیں اس کی قیمت دولت مندوں کی حسب منشا تعین ہوتی ہے اور پیمانہ بھی ہرحالت میں انھی کے اختیار میں ہوتا ہے اور بے بس اور بے نوا مستضعف " مرده بدست زندہ"۔ کے مصدق ان کے سامنے مجبوراور بے اختیار ہوتے ہیں ۔
مندرجہ بالا گفتگو کو پیش نظر رکھ کر اب ہم آیات زیر بحث کی طرف لوتٹے ہیں ۔
ایک مقام پرتوانھیں پیمانے کا حق اداکرنے کا حکم دیا جاتا ہے دوسری یہ جگہ پر صحیح طور پر تولنے کا اور ہم جانتے ہیں کہ سامان کو یا تو تولا جاتا ہے اور یا ناپا جاتاہے لہذا ہر دو صورتوں کی جداگانہ طور پر نشاندہی کی گئی ہے تاکہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرا دی جائے کہ کسی بھی موقع پر کم نہ بیچیں۔
اور پھر یہ کہ کم فروشی کے بھی کئی طریقے میں کبھی ترازو یاپیمانہ تو ٹھیک ہوتا ہے لیکن اس کا حق ادا نہیں ہوپاتا اور کبھی ترازو اور پیمانہ صحیح نہیں ہوتا بلکہ خود ساختہ اور جعلی ہوتا ہے ۔ مندرجہ بالا آیات میں ان سب باتوں کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔
ان دو تعبیروں کے واضح ہوجانے کے بعد اب ہم "لاتبخسوا" کی بات کرتے ہیں چنانچه یہ "بخس" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے ظالمانہ طریقے سے کسی کے حقوق گھٹا دینا اور کبھی یہ لفظ فریب دہی کے معنی میں بھی آتا ہے جس کا انجام دو سروں حقوق ضائع کرنا ہوتا ہے بنابریں مندرجہ بالا جملے کا ایک وسیع معنی ہے جس میں لین دین میں کھوٹ ، ملاوٹ، ٹھگی، لوٹ کھسوٹ اور دھوکا دہی سب شامل ہیں ۔
رہا" لا تكونوا من المخسرین" کا جملہ توچونکہ" مخسر" کا معنی ہے ایسا شخص جو کسی زیز کو خسارہ پہنچاتا ہے اور اس کے بھی کئی معانی ہیں جس میں خریدوفروخت اولین دین میں ہر قسم کی کمی شامل ہے۔
اسی لحاظ سے ہر قسم کی ناجائز منافع خوری اور لین دین میں ظلم وستم ، ہرطرح کی دھوکا بازی اور نقصان پہنچانے کی کوشش خواه وہ کمیت میں ہو یا کیفیت میں، سب کچھ مندرجہ بالا حکم میں شال ہیں۔
اور چونکہ اقتصادی ناہمواری اجتماعی نظام کے منتشر ہوجانے کا سبب بن جاتی ہے لہذا ان احکام کے اخري میں مجموعی صورت کو بیان کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے" ولا تعثوا في الأرض مفسدین" یعنی زمین میں خرابی نہ کرو اورمعاشرے کوتباہی کی طرف نہ لے جاؤ ہرقسم کی لوٹ کھسوٹ اور ظالمانہ منافع خوری اور دوسروں کے حقوق ضائع کرنے سے پرہیز کرو۔
یہ احکام صرف شعیب علیہ اسلام کے دور کے متمول اور ظالم معاشرے کے لیے ہی کارآمد نہیں بلکہ ہردور اور ہرزمانے کے لیے کارساز ہیں اور معاشرتی مشکلات کاحل ہیں۔
"جناب شعیب علیہ اسلام اپنے آخری فرمان میں ایک بار پھر انھیں تقویٰ اور پرہیزگاری کی دعوت دیتے ہوئے کہتے ہیں : اس خدا سے ڈرو جس نے تمھیں بھی اور گزشتہ اقوام کوبهی پیدا کیا ہے . (واتقو الذي خلتكم والجبلة الاولين)۔
صرف تم ہی ایسی قوم نہیں ہو جس نے روئے زمین پر قدم رکھا ہے تم سے پہلے تمہارے آباؤاجداد اور دوسری قومیں آئیں اور چلی گئیں ان کے ماضی کو اور اپنے مستقبل کو فراموش مت کرو.
"جبلة" "جبل" سے ہے جس کامعنی ہے "پہاڑ" ۔اور اس کا اطلاق اس کثیر التعداد جماعت پر ہوتا ہے ، جس کی عظت پہاڑایسی ہوتی ہے۔ بعض مفسرین نے اس جماعت کی تعداد دس ہزار تک ذکر کی ہے ۔
انسان کی طبیعت اور فطرت کوبھی "جبلت" کہا جاتا ہے کیونکہ وہ پہاڑ کی مانند اٹل ہوتی ہے جسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاسکتا۔
شاید یہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہوکہ میں جو کہتا ہوں ظلم وفساد کو چھوڑ دو، حقوق العباد ادا کرو اور عدالت کو پیش نظر رکھو تو یہ سب کچھ روز اول ہی سے انسان کی فطرت میں شامل ہیں ۔ میں تو صرف اس پاکیزہ فطرت کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے آیا ہوں ۔
لیکن افسوس کہ اس ہمدرد اور بیدار کرنے والے پیغمبر کی نیصحتیں ان پرکارگر نہیں ہوئی ۔ اس منطقی گفتگو کا جو انھوں نے تلخ اور نازیبا جواب دیا وہ ہم اگلی آیات میں پڑھیں گے۔