قوم لوط کا انجام
قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا لُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ ۱۶۷قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُمْ مِنَ الْقَالِينَ ۱۶۸رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ ۱۶۹فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ ۱۷۰إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَابِرِينَ ۱۷۱ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ ۱۷۲وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ ۱۷۳إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۱۷۴وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۱۷۵
ان لوگوں نے کہا کہ لوط اگر تم اس تبلیغ سے باز نہ آئے تو اس بستی سے نکال باہر کردیئے جاؤ گے. انہوں نے کہا کہ بہرحال میں تمہارے عمل سے بیزار ہوں. پروردگار ! مجھے اور میرے اہل کو ان کے اعمال کی سزا سے محفوظ رکھنا. تو ہم نے انہیں اور ان کے اہل سب کو نجات دے دی. سوائے اس ضعیفہ کے کہ جو پیچھے رہ گئی. پھر ہم نے ان لوگوں کو تباہ و برباد کردیا. اور ان کے اوپر زبردست پتھروں کی بارش کردی جو ڈرائے جانے والوں کے حق میں بدترین بارش ہے. اور اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت بہرحال مومن نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار عزیز بھی ہے اور رحیم بھی ہے.
تفسیر
قوم لوط کا انجام
قوم لوط کے افراد جو بادہ شہوت غرور سے مست ہوچکے تھے، اس رہبر الٰہی کی نصیحتوں کو جان ودل سے قبول کرنے اور خود کو اس دلدل سے باہر نکالنے کی بجائے اس کے مقابلے پر تل گئے
اور انھیں کہااے لوط ! کافی ہو چکا ہے ، اب خاموش رہو اگر ان باتوں سے بازنہ آئے تو تمھارا شمار بھی اسی شہر سے نکال دیئے جانے والوں میں سے ہوگا (قالوا لئن لم تنته الوط لنكونن من
المخرجين) ۔
تمھاری باتیں ہماری فکر اور آرام میں خلل ڈال رہی ہیں ہم ان باتوں کے سننے کے ہرگز روادار نہیں : اگر تمھاری یہی حالت رہی تو ہم تہمیں سزا دیں گے جو کم از کم جلاوطنی کی
صورت ہوسکتی ہے۔
"قرآن مجید کے ایک اور مقام پر ہے کہ انھوں نے اپنی اس دھمکی گوعملی جامہ بهی پہنایا اور حکم دیاکہ لوطؑ کے خاندان کو شہر سے باہر نکال دو کیونکہ وہ پاک لوگ ہیں اورگتاہ نہیں
کرتے۔
اخرجوهم من قربتکم انهم اناس بتطهرون (الاعراف : 86)
ان گمراه اورگناه آلود لوگوں کی جسارت اس حد تک جاپہنچی کہ تقوٰی اور طہارت ان کے درمیان بہت بڑاعیب سمجھاجانے لگا اور ناپاکی اور گناہ سے آلودگی سرمایہ افتخار! اور یہ
کسی معاشرے کی تباہی کی علامت ہوتی ہے جو تیزی کے ساتھ برائیوں کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔
"لتكوعن من المخرجين" سے معلوم ہوتا ہے کسی فاسق و فاہرگروہ نے ایسے پاک و پاکیرہ لوگوں کو پہلے باہر نکال دیا جو ان کے بیہودہ اعمال سے روکا کرتے تھے لہذا انھوں نے
حضرت لوط کو بھی یہی دھمکی دی کہ اگر تم نے اپنے اس تبلیغی سلسلے کو جاری رکھا تو تمھارا بھی دہی انجام ہوگا۔
بعض تفسیروں میں صراحت کے ساتھ تحریر ہے کہ وہ پاک دامن لوگوں کو بدترین طریقے سے جلاوطن کردیا کرتے تھے ۔ ؎1
لیکن حضرت لوط علیہ اسلام نے ان دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور اپنا کام جاری رکھا اور کہا : میں تمھارے ان کاموں کا دشمن ہوں ۔(قال اني لمملكم من القالين).
یعنی میں اپنا احتجاج برابر جاری رکھوں گا ، تم جو کچھ میرا بگاڑنا چاہتے ہو بگاڑنا چاہتے ہو بگاڑلو مجھے راہ خدا اور برائیوں کے خلاف جہاد کے سلسلے میں ان دھمکیوں کی قطعًا
کو پرواہ نہیں ہے۔
"القالين" جمع کا صیغہ ہے جس معلوم ہوتاہے کہ اس احتجاج اور جہاد میں اور بھی بہت سے لوگ جناب لوط
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر روح المعانی او تفسیر کبیررازی ، اسی آیت کے ذیل میں۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
علیہ اسلام کے ہمنوا ہو چکے تھے اور بات ہے کہ سر کش قوم نے آخر کار انھیں جلا وطن کر دیا۔
"قالین" "قال" کی جمع اور "قلى" (بروزن حلق یا بروزن شرک) کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی اسی عداوت ہے جو انسان کی روح میں اتر جاتی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
جناب لوط علیہ اسلام کو ان کے اعمال سے کس قدر نفرت تھی؟
لائق توجہ بات یہ ہے کر حضرت لوط علیہ سلام فرماتے ہیں کہ "میں تمھارے اعمال کا دشمن ہوں" یعنی مجھے تمھاری ذات سے دشمنی نہیں بلکہ تمھارے شرمناک اعمال سے نفرت
ہے اگر ان اعمال کو اپنے سے دور کر دو پھر تم میرے پکے دوست ہو۔
بہرحال جناب لوطؑ کی کسی بھی نصیحت نے ان پرکوئی اثرنہ کیا ان کی تمام معاشرواس متعفین دلدل میں پھنس کر رہ گیا بڑی حد تک اتمام حجت بھی کی گئی مگر بے فائدہ - اب لوط
علیہ اسلام کی زمہ داری کا آخری مرحلہ آن پنہچا لہذا وقت آپہنچا کہ جناب کوط علیہ اسلام خود کوبھی اور جو لوگ ان پر ایمان لاچکے ہیں انھیں بھی اس گناہ آلود علاقے سے باہر نکال کرلے جائیں
تاکہ ہولنک عذاب اس بے حیا قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لے ۔
حضرت لوط علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں دست دعابلند کرکے کہا :-
پروردگارا ! جو کچھ لوگ کہہ رہے ہیں مجھے اور میرے خاندان کو اس سے نجات دے (رب نجنی و اهلی مما يعملون )۔
بعض مفسرین کا خیال ہے کہ "اہل" سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو آپ پر ایمان لاچکے تھے لیکن سورة " ذاریات" کی آیت 36 کہتی ہے :۔
فما وجدنا فيهاغير بيت من المسلمين
صرف ایک ہی خاندان تھا جو ایمان لا چکا تھا۔
لیکن جیساکہ ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ زیرتفسیر آیت میں بعض ایسی تعبیرات پائی جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کچھ لوگ حضرت لوطؑ پرایمان لاچکے
تھے لیکن انھیں جلاوطن کر دیاگیا تھا۔
جو کچھ بتایاجاچکا ہے اس ضمنی طور پر حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ جناب لوط علیہ اسلام کی اپنے خاندان کے لیے دعا خاندانی شفقت اور رشتہ داری کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ
ایمان لانے کی بناء پر تھی۔
خداوندعالم نے ان کی دعا قبول فرمائی جب کہ قرآن کہتا ہے : ہم نے لوط اوران کے سب خاندان والوں کو نجات دی (فنجیناہ واهله اجمعين)۔
سوائے اس بڑھیا کے جو گمراہ لوگوں کے درمیان باقی رہ گئی تھی (الاعجرزًا في الغابرین)۔ ؎1
بچ رہنے والی یہ بڑھیا جناب لوط علی اسلام کی بیوی ہی تھی جو عقیدے اور مذہب کے لحاظ سے اس گمراہ قوم سے ہم آہنگ و
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "غابر" "غبور" کے مادہ سے ہے حس کا معنی ہے باقی ماندہ اوربچی کھچی چیز ۔ جب کوئی کی ایک گروہ کسی جگہ سے چل پڑے جوشخص وہیں پر رہ جائےاسے غابرکہتے ہیں اسی لیے
مٹی کے بچے کھچے حصے کو "غبار" کہتے ہیں اور حیوان کے پستان سے دودھ دوھ لینے کے بعد جو بچا رہے اسے غبرہ کہتے ہیں۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ہم خیال تھی ۔ وہ آخروم تک جناب لوطؑ پر ایمان نہیں لائی اور اسی گمراہ قوم کے انجام سے دوچار ہوگئی۔ اس تفصیل تفسیر نمونہ کی جلد 9 سورہ ہود کی مذکورہ آیات کے ذیل میں گزری ہے۔
ہاں تو خداوند عالم نے جناب لوط اور جوتھوڑے سے لوگ ان پر ایمان لے آئے تھے ان سب کونجات بخشی ۔چناچہ انھوں نے حکم الہی کے تحت گناه آلود لوگوں کے علاقہ سے رخت
سفر باندھا اور راتوں رات چل پڑے اور گناہ و بے شرمی میں غرق لوگوں کو اپنے حال پر باقی چھوڑ دیا ۔ علی الصباح عذاب کا حکم صادر ہوا ، وحشت ناک لے نے ان کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے
لیا جس سے ان کے آباد وشاد شہر ، خوبصورت محلات ، عیش و عشرت اور بے شمری و بے حیائی پرمبنی ان کی زندگی غرض سب کچھ مکمل طور بر تہ و بالا ہوگیا، جیسا کہ خداوندعالم نے اس
سلسلے میں ارشاد فرمایا ہے : پھر ہم نے ان تمام لوگوں کو نیست و نابود کر دیا۔ (ثم و دمرنا الأخرين) -
اور ان پر بارش برسائی (لیکں کسی بارش ؟ پتھروں کی بارش اور وہ بھی اس حدتک کہ ان کے کھنڈرات تک دکھائی نہ دیتے تھے (امطرنا علیهم مطرًا )۔
کس قدر بری بارش نے اس ڈرئے جانے والے گروہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا( فساء مطر العنذرین)۔
معمول کے مطابق برسنے والی بارشیں مردہ زمینوں کو زندہ کر دیتی ہیں اور ان میں تازہ روح پھینک دیتی ہیں۔ لیکن یہ وحشتناک بارش تباہ و برباد اور نسیت و نابود کرنے والی تھی۔
سورة ہود آیت 82 سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے قوم لوط کے شہر تہ وبالا ہوئے پھر ان پر پتھروں کی مسلسل بارش برسی اورجیسا کہ اسی آیت کی تفسیرمیں ہم بتاچکے ہیں
کہ پتھروں کی بارش ان پرشایداس لیے تھی کہ ان کے نام و نشان تک مٹ جائیں اور آبادوشاد شہروں کی بجائے پتتراور مٹی کے ٹیلے یادگار کے طور پر باقی رہ جائیں۔
آیا یہ پتھر عظیم طوفان کی وجہ سے بیابانوں سے اڑ اڑ کر برسنے لگے یاآسمانی فضا میں اڑتے پھرتے پھترتھے کے جو حکم خداوندی کے تحت وہاں پر برسے۔
یا بعض مفسرین کے بقول قریب ہی خاموش آتش فشاں تھا جو حکم پروردگار کے مطابق پھٹ پڑا ۔ اور اسی کے پتھربارش بن کر برسنے لگے ؟ یہ اچھی طرح معلوم نہیں ہے جو بات
مسلم وہ یہ کہ اس تباہ کن بارش نے اس گناہ آلود سرزمین میں سے زندگی کا نام و نشان تک مٹادیا۔
اس واقع تفصيل تفسیر نمونہ کی نویں جلد صفحہ 180 سے 186 اور گیارہویں جلد کے صفحہ 103 سے 100 تک میں مختلف نکات کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔
اس واقعے کے اختتام پر ایک بار پھر ان دوجملوں کا مطالعہ کرتے ہیں جو اس طرح کے دوسرے پانچ انبیاء کے واقعات کے آخر میں پڑھ چکے ہیں، ارشاد ہوتا ہے: اس ظالم اور بے حیا
قوم کی داستان اور ان کے منحوس انجام میں آیت ونشانی اوردرس عبرت ہے( ان في ذلك لاية)۔
لیکن ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے (وما کان اكثرهم مؤمنین)
اس سے بڑھ کر اور کون سی واضح اور روشن نشانی ہوتی ہے جو تمہیں اہم اور نتیجہ خیز مسائل سے آگاہ کرتی ہے اور تمہیں ذاتی تجربات کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔
یقینًا گزشۃ لوگوں کی تاریخ ایک درس عبرت ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک نشانی ہے۔ یہ ذاتی تجربہ بھی نہیں ہے کیونکہ ذاتی تجربے میں تو نقصان اٹھانے کے بعد نتائج
حاصل ہوتے ہیں لیکن اس میں دوسروں کے تجربوں سے فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔
اور تیرا پروردگار عزیزورحیم ہے (وان ربك لهم العزیز الرحیم ).
اس سے بڑھ کر اور رحمت کیا ہوسکتی ہے کہ اس قسم کے گناہوں سے آلودہ قوموں کو سزائیں نہیں دیتا بلکہ انھیں ہدایت و نظرثانی کے لیے کافی ڈھیل اور لمبی مہلت دیتاہے۔
اور پھر یہ کہ اس سے بڑھ کراور کیارحمت ہوکہ اس کی سزا میں سب خشک و تر نہیں جلتے حتٰی کہ اگر ہزاروں لاکھوں گنا ہگارخاندانوں میں صرف ایک ہی مومن خاندان ہے تو وہ
انہیں نجات عطا فرماتاہے۔
اورغلبہ وقدرت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ اس قسم کے گناہ آلود شہروں کو چشم زدن میں یوں تہ وبالا کردیتا ہے کہ صفحہ ہستی سے ان کا نام ونشان تک مٹ جاتا ہے
جو زمین گناہگاروں کی آسائش و آرام کا گہوارہ ہوتی ہے اسے پل بھر میں ان کی موت پر مامور کر دیتا ہے اورحیات بخش بارش کو موت کی بارش میں تبدیل کردیتاہے۔