نوح علیہ اسلام نجات پا گئے اور مشرک غر ق ہو گئے
قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ ۱۱۶قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ ۱۱۷فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِي وَمَنْ مَعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۱۱۸فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ۱۱۹ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ ۱۲۰إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۱۲۱وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۱۲۲
ان لوگوں نے کہا کہ نوح اگر تم ان باتوں سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے. نوح نے یہ سن کر فریاد کی کہ پروردگار میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے. اب میرے اور ان کے درمیان کھلا ہوا فیصلہ فرما دے اور مجھے اور میرے ساتھی صاحبانِ ایمان کو نجات دے دے. پھر ہم نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں نجات دے دی. اس کے بعد باقی سب کو غرق کردیا. یقینا اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار ہی سب پر غالب اور مہربان ہے.
حضرت نوح علیہ السلام کے سامنے اس گمراہ اور ہٹ دھرم قوم کا رد عمل بھی وہی ہے جو تاریخ میں دوسرے متکبرین کا رہا ہے یعنی وہی طاقت، اکڑاورجان سے ماردینے کی دھمکی چنانچہ حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم والے بولے ”اے نوح ! اب تک جو کچھ ہوا ہے کافی ہے اگر تم اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے اور ہمارے ماحول کو اپنی گفتگو سے پھر تلخ اور تاریک بنا یا تو یقینا تمہیں سنگسار کیا جائے “( قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَہِ یَانُوحُ لَتَکُونَنَّ مِنْ الْمَرْجُومِینَ)۔
”من المر جومین“ کی تعبیر بتاتی ہے کہ ان میں سنگسار کرنے کی رسم پرانے وقتوں سے چلی آرہی تھی ۔وہ درحقیقت نوح علیہ السلام سے یہ کہناچاہتے تھے کہ تم نے اپنے دعوت توحید کو جاری رکھا اور لوگوں کو اپنے دین کی طرف ایسے ہی بلا تے رہے تو تمہارا انجام بھی ہمارے دوسرے مخالفین کا سا ہوگا اور وہ ہے سنگسار جو قتل کی بد ترین صورت ہے ۔
جب نوح علیہ السلام نے یہ دیکھا کہ اس قدر و مدت مدیر تک میں انھیں دعوت دیتا رہاہوں ، اس واضح منطق کے ساتھ ان سے گفتگو کرتا رہا ہوں اور صبر و شکیبائی کی بھی حد کردی ،اس کے باوجوداس کا اثر صرف محدود ے چند لوگوں پر ہی ہوا ہے لہٰذا انھوں نے اپنی شکایت اللہ کی بارگاہ پیش کردی ۔ جس میں اپنا مفصل حال بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان بے منطق ظالم لوگوں کے چنگل سے نجات اور ان سے جدائی کی درخواست بھی کی ۔
انھوں نے عرض کیا پر وردگارا!” میری قوم نے مجھے جھٹلایا ہے “ ( قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِی کَذَّبُونِ )۔
یہ ٹھیک ہے کہ خدا وند عالم ہرچیز سے آگاہ ہے ، لیکن اپنی شکایت پیش کرنے اور اپنی بعدک کی درخواست پیش کرنے کے لئے مقدمہ کے طور پر یہ عرض کرتے ہیں ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ جناب نوح علیہ السلام اپنی درخواست میں اپنی ذات پر نازل ہونے والے مصائب کی شکایت نہیں کرتے بلکہ انھیں غم ہے تو صرف اس بات کا کہ لوگوں نے انھیں جھٹلا یا او رخدا ئی پیغام قبول نہیں کیا ۔
پھر عرض کرتے ہیں : اب جبکہ اس گمراہ تولے کے لئے ہدایت کا کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا ”تومیرے اور ان کے درمیان جدائی ڈال دے اور ہمارے درمیان تو خود ہی فیصلہ فرما دے (فَافْتَحْ بَیْنِی وَبَیْنَھُمْ فَتْحًا)۔
جیسا کہ ارباب لغت کہتے ہیں :”فتح“ در اصل کھولنے اور تعلقات کو ختم کرنے کے معنی میں ہے اور اس کا استعمال دو طرح سے ہوتا ہے ، کبھی تو ا س کا حسی پہلو ہو تا ہے جیسے ” فتح المستغلق من العلوم “ کا معنی علمی موشگافیان ہے اور ”فتح القضیة“ کا معنی فیصلہ کرنا اور لڑائی جھگڑے کو ختم کرنا ہے ۔
پھر وہ بار گاہ رب العزت میں عرض کرتے ہیں مجھے اور جو مومنین میرے ساتھ ہیں انھیں نجات دے ( وَنَجِّنِی وَمَنْ مَعِی مِنْ الْمُؤْمِنِینَ )۔
اب یہاں پر رحمت الٰہی جناب نوح علیہ اسلام کی مدد کو پہنچتی ہے اور دردناک سزا کی وعید جھٹلا نے والوں کو تلاش کرتی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :
ہم نے انھیں بھی اور جو جو لوگ ان کے ہمراہ کشتی میں تھے اور وہ انسانوں اور جانوروں سے بھری ہوئی تھی،سب کو نجات عطا کی :( فَاٴَنجَیْنَاہُ وَمَنْ مَعَہُ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونِ )۔
”پھر دوسرے سب لوگوں کو غرق اور فنا کردیا“( ثُمَّ اٴَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِینَ )۔
”مشحون“ ”شحن“ (بروزن”صحن“) کے مادہ سے بھر دینے کے معنی میں ہے اور کبھی کبھی تیار کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے ”شحناء“ اس دشمنی کوکہتے ہیں جو انسان کے تمام وجود میں بھر جائے۔
اس مقام پرمراد یہ ہے کہ وہ کشتی افراد اور تمام وسائل سے بھری ہوئی تھی اور اس میں کسی قسم کی کوئی کمی باقی نہیں رہ گئی تھی ۔
یعنی جب کشتی ہر لحاظ سے تیار اور چلنے پر آمادہ ہو گئی تو خدا وند عالم نے طوفان بھیجا تاکہ نوح علیہ السلام اور دوسرے تمام کشتی نشین کسی قسم کی مشکل سے دوچار نہ ہوں یہ بجائے خود ایک نعمت الٰہی ہے ۔
اس تمام واقلے کے آخر میں قرآن کہتا ہے جو جناب موسیٰ علیہ السلام او رجناب ابراہیم علیہ السلام کے ماجرے کے آخر میں کہا ہے ، چنانچہ فرماتا ہے :۔
نوح کی داستان ، ان کی متواتر دعوتِ حق ، ان کا صبر و شکیبائی اور آخر کار ان کے مخالفین کی غرقابی اور تباہی وبربادی میں سب لوگوں کے لئے آیت اور نشانی ہے ( إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً )۔
”ہر چند کہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے(وَمَا کَانَ اٴَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِینَ) ۔
بنابریں آپ بھی اے پیغمبراسلام ! اپنی قوم کے مشرکین کی سخت مزاجی،ترشروئی اور روگردانی سے پریشان نہ ہوں ،صبر کا مظاہرہ کریں کیونکہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کا انجام بھی وہی ہوگا جو نوح اور ان کے ساتھیوں کاہوا اور گمراہوں کا انجام وہی ہوگا جو غرق ہونے والوں کا ہوا۔
اور جان لو”تمہارا پر وردگار ناقابلِ شکست اور رحیم ہے “( وَإِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ )
اس کی رحمت اس بات کی متقاضی ہے کہ انھیں بڑی حد تک مہلت عطا فرمائے اور اتمام حجت کرے اور ان کی عزت اس چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ انجام کار آپ کو کامیاب اور آپ کے دشمنوں کو شکست سے دوچار کردے ۔