۳۔آیت ”فما لنا من شافعین ولا صدیق حمیم “ کا مفہوم
يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ۸۸إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ۸۹وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ ۹۰وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ ۹۱وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ۹۲مِنْ دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنْصُرُونَكُمْ أَوْ يَنْتَصِرُونَ ۹۳فَكُبْكِبُوا فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ ۹۴وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ ۹۵قَالُوا وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ ۹۶تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ۹۷إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ۹۸وَمَا أَضَلَّنَا إِلَّا الْمُجْرِمُونَ ۹۹فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِينَ ۱۰۰وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ ۱۰۱فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۱۰۲إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۱۰۳وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۱۰۴
جس دن مال اور اولاد کوئی کام نہ آئے گا. مگر وہ جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو. اور جس دن جنتّ پرہیزگاروں سے قریب تر کردی جائے گی. اور جہنمّ کو گمراہوں کے سامنے کردیا جائے گا. اور جہنّمیوں سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے. خدا کو چھوڑ کر وہ تمہاری مدد کریں گے یا اپنی مدد کریں گے. پھر وہ سب مع تمام گمراہوں کے جہنّم میں منہ کے بل ڈھکیل دیئے جائیں گے. اور ابلیس کے تمام لشکر والے بھی. اور وہ سب جہنمّ میں آپس میں جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے. کہ خدا کی قسم ہم سب کھلی ہوئی گمراہی میں تھے. جب تم کو رب العالمین کے برابر قرار دے رہے تھے. اور ہمیں مجرموں کے علاوہ کسی نے گمراہ نہیں کیا. اب ہمارے لئے کوئی شفاعت کرنے والا بھی نہیں ہے. اور نہ کوئی دل پسند دوست ہے. پس اے کاش ہمیں واپسی نصیب ہوجاتی تو ہم سب بھی صاحب هایمان ہوجاتے. اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت بہرحال مومن نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار سب پر غالب بھی ہے اور مہربان بھی ہے.
اس کا معنی ٰ نہ تو ہمارے شفاعت کرنے والے موجود ہیں نہ ہی محبت بھرے دوست متعدد روایات اس ضمن میں بیان ہوئی ہیں جن میں سے بعض روایات میں صراحت کے ساتھ آیا ہے :
الشافعون الائمة و الصدیق من الموٴمنین
شافع تو آئمہ ہیں اور صدیق مومنین ہیں(1).
ایک اور حدیث میں جابر بن عبد اللہ انصاری منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول ِخدا کو فرماتے سنا ہے :۔
ان الرجل یقول فی الجنة مافعل صدیقی فلان ،وصدیقہ فی الجحیم، فیقول اللہ اخرجوا لہ صدیقہ الیٰ الجنة فیقول من بقی فی النار فما لنا من شافعین ولا صدیق حمیم۔
بعض بہشتی لوگ کہیں گے کہ ہمارے دوستے کا کیا انجام ہوا ہے جبکہ ان کے دوست جہنم میں ہوں گے۔خدا وند ِ عالم ا س مومن کے دل کو خوش کرنے کےلئے حکم دے گا کہ ان کے دوستوں کو جہنم سے نکال کر بہشت میں بھیج دیا جائے تو ایسے موقع پر جہنم میں باقی رہ جانے والے لوگ کہین گے ہائے افسوس ! نہ تو کوئی ہماری شفاعت کرنے والا ہے او رنہ ہی کو ئی مہر بان دوست ہے (2) ۔
ظاہر ہے کہ نہ تو شفاعت کسی معیار کے بغیر ہو گی او رنہ ہی بے حساب دوستوں کے بارے میں ان کی درخواست شفاعت ہو گی بلکہ شفاعت کرنے اور شفاعت کئے جانے والوں کے درمیان کسی قسم کا معنوی اور روحانی رابطہ ہونا ضروری ہے تاکہ شفاعت کا مقصد پورا ہو ۔( شفاعت کے بارے میں مزید تفصیل کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد اول میں سورہ بقرہ کی آیت ۴۸ کی تفسیر کا مطالعہ فرمائیں )۔
1۔”محاسن ِ برقی “منقول از تفسیر نور اسی آیت کے ضمن میں ۔
2۔ تفسیر مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں ۔