Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔آیت”فکبکبواکا مفہوم

										
																									
								

Ayat No : 88-104

: الشعراء

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ۸۸إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ۸۹وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ ۹۰وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ ۹۱وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ۹۲مِنْ دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنْصُرُونَكُمْ أَوْ يَنْتَصِرُونَ ۹۳فَكُبْكِبُوا فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ ۹۴وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ ۹۵قَالُوا وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ ۹۶تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ۹۷إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ۹۸وَمَا أَضَلَّنَا إِلَّا الْمُجْرِمُونَ ۹۹فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِينَ ۱۰۰وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ ۱۰۱فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۱۰۲إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۱۰۳وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۱۰۴

Translation

جس دن مال اور اولاد کوئی کام نہ آئے گا. مگر وہ جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو. اور جس دن جنتّ پرہیزگاروں سے قریب تر کردی جائے گی. اور جہنمّ کو گمراہوں کے سامنے کردیا جائے گا. اور جہنّمیوں سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے. خدا کو چھوڑ کر وہ تمہاری مدد کریں گے یا اپنی مدد کریں گے. پھر وہ سب مع تمام گمراہوں کے جہنّم میں منہ کے بل ڈھکیل دیئے جائیں گے. اور ابلیس کے تمام لشکر والے بھی. اور وہ سب جہنمّ میں آپس میں جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے. کہ خدا کی قسم ہم سب کھلی ہوئی گمراہی میں تھے. جب تم کو رب العالمین کے برابر قرار دے رہے تھے. اور ہمیں مجرموں کے علاوہ کسی نے گمراہ نہیں کیا. اب ہمارے لئے کوئی شفاعت کرنے والا بھی نہیں ہے. اور نہ کوئی دل پسند دوست ہے. پس اے کاش ہمیں واپسی نصیب ہوجاتی تو ہم سب بھی صاحب هایمان ہوجاتے. اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت بہرحال مومن نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار سب پر غالب بھی ہے اور مہربان بھی ہے.

Tafseer

									حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام سے ”فکبکبوا فیھا ھم و الغاوون“ والی آیت کے ذیل میں بہت سی روایات منقول ہیں ۔
ھم قوم و صفوا عدلا بالسنتھم ثم خالفوہ الیٰ غیرہ
یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو حق و انساف کی زبان سے تو بڑی تعریف کرتے ہیں لیکن عمل میں اس کی مخالفت کرتے ہیں (1) ۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل کے بغیرباتیں کرنا کس قدر بُری اور قابل ِ مذمت بات ہے اور اس قسم کے شخص کو جہنم کی آگ میں دردناک طریقے سے ڈالا جائے گا اور وہ وہ لوگ ہو ں گے جو خود بھی گمراہ ہیں اوردوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ان کی باتیں تو لوگوں کو حق کی طرف بلاتی ہیں لیکن اعمال باطل کی طرف دعوت دیتے ہیں ، بلکہ ان کے اعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اپنی باتوں پر ایمان نہیں ہے ۔
ضمنی طور پر اس طرف بھی توجہ رہے کہ ”غوون“کو ”غی“ کے مادہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہر قسم کی گمراہی نہیں بلکہ”’مفردات“ میں ”راغب“ کے بقول یہ گمراہی اور جہالت وہ قسم ہے جس کا مر کز اور منبع فاسد عقیدہ ہوتا ہے ۔
 1۔ تفسیر نور الثقلین کے موٴلف نے اس روایت کو ”اصول کافی ”تفسیر علی بن ابراہیم“ اور ” محاسنِ برقی“ سے نقل کیا ہے ۔