۱۔ ”قلب سلیم“ ہی نجات کا سر مایہ ہے
يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ۸۸إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ۸۹وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ ۹۰وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ ۹۱وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ۹۲مِنْ دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنْصُرُونَكُمْ أَوْ يَنْتَصِرُونَ ۹۳فَكُبْكِبُوا فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ ۹۴وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ ۹۵قَالُوا وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ ۹۶تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ۹۷إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ۹۸وَمَا أَضَلَّنَا إِلَّا الْمُجْرِمُونَ ۹۹فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِينَ ۱۰۰وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ ۱۰۱فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۱۰۲إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۱۰۳وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۱۰۴
جس دن مال اور اولاد کوئی کام نہ آئے گا. مگر وہ جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو. اور جس دن جنتّ پرہیزگاروں سے قریب تر کردی جائے گی. اور جہنمّ کو گمراہوں کے سامنے کردیا جائے گا. اور جہنّمیوں سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے. خدا کو چھوڑ کر وہ تمہاری مدد کریں گے یا اپنی مدد کریں گے. پھر وہ سب مع تمام گمراہوں کے جہنّم میں منہ کے بل ڈھکیل دیئے جائیں گے. اور ابلیس کے تمام لشکر والے بھی. اور وہ سب جہنمّ میں آپس میں جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے. کہ خدا کی قسم ہم سب کھلی ہوئی گمراہی میں تھے. جب تم کو رب العالمین کے برابر قرار دے رہے تھے. اور ہمیں مجرموں کے علاوہ کسی نے گمراہ نہیں کیا. اب ہمارے لئے کوئی شفاعت کرنے والا بھی نہیں ہے. اور نہ کوئی دل پسند دوست ہے. پس اے کاش ہمیں واپسی نصیب ہوجاتی تو ہم سب بھی صاحب هایمان ہوجاتے. اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت بہرحال مومن نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار سب پر غالب بھی ہے اور مہربان بھی ہے.
آیات بالا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی گفتگو کے دوران قیامت کی کیفیت کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ سوائے ”قلب سلیم“ کے اور کچھ کام نہیں آئے گا ۔
”سلیم“ ” سلامت “کے مادہ سے ہے جس کا مفہوم واضح ہے یعنی وہ دل ہر قسم کی بیماری اور اخلاقی و اعتقادی بے راہروی سے پاک ہو ۔
قرآن مجید منافق لوگوں کے بارے میں یہ فرماتا ہے :
فی قلوبھم مرض فزادھم اللہ مرضاً
ان لوگوں کے دلوں میں ایک طرح کی بیماری ہے اور ان کی ہٹ دھرمی کی بناء پر خدا وندعالم ان کی بیماری میں اضافہ کردیتا ہے ۔(بقرہ /۱۰)
چند ایک احادیث میں قلب سلیم کا بخوبی تعارف کروایا گیا ہے :
۱۔ اسی آیت کے ذیل میں ہم حضرت امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں پڑھتے ہیں :
وکل قلب فیہ شرک او شک فھو ساقط
ہر وہ دل جس میں شرک اور شک ہو اور جو ساقط اور بے قدر و قیمت ہوتا ہے (1) ۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کا مادی چیزوں سے شدید تعلق ہے اور دنیا پرستی اسے ہر گناہ پر آمادہ او رہر قسم کی بے راہروی کا شکار بنادیتی ہے کیونکہ:
حب الدنیا راٴس کل خطیئة
دنیا سے محبت ہر برائی کا سرچشمہ ہے(2) ۔
لہٰذا ”قلب سلیم“ وہ دل ہوتا ہے جو ”حب دنیا“سے خالی ہو ، جیسا کہ اسی آیت کے ضمن میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک اور حدیث میں ہے :۔
ھوالقب الذی سلم من حب الدنیا
یہ وہ قلب ہوتا ہے جو دنیا کی محبت سے محفوظ ہو (3) ۔
اگر سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۷ کو مد نظر رکھا جائے ، جس میں خدا فرماتا ہے :
وتزوّدا فان خیر الزاد التقویٰ
اپنے لئے زاد راہ تیار کر لو کیونکہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے ۔
تو معلوم ہو گا کہ قلب ِ سلیم وہ قلب ہوتا ہے جس میں خدا کے علاوہ او رکوئی چیز نہ ہو۔
جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اسی آیت کے سلسلے میں کئے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :
القب السلیم یلقی ربہ و لیس فیہ احد سواہ
قلب سلیم وہ دل جو خدا کی ملاقات کرے جبکہ اس میں خدا کے سوال کوئی اور نہ ہو(4) ۔
واضح سی بات ہے کہ اس جیسے مقامات پر قلب سے مراد انسان کی روح اور جان ہو تے ہیں ۔
اسلامی روایات میں قلب ، اس کی سلامتی ، اس کو لاحق ہو نے والی آفتیں اور ان آفتوں کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں بہت سی باتیں مذکورہ ہیں جن سے اس اسلامی منطق کی تائید ہو تی ہے کہ اسلام ہر چیز سے پہلے فکری ، عقیدتی اور اخلاقی بنیادوں کو زبر دست اہمیت دیتا ہے کیونکہ انسان کے تمام اعمال کا دارو مدار انہی چیزوں پر ہے ۔
جس طرح کہ ظاہری دل کی سلامتی اور تند رستی سے تمام جسم صحیح و سالم اور تندررست رہتا ہے اور اس کے بیمار پڑجانے سے تمام اعضاء بیمار ہوجاتے ہیں کیونکہ بدن کے تمام خلیوں کو خون کے ذریعے ملتی ہے او ر خون ، دل کو ذریعے بدن کے تمام حصوں میں پہنچتا ہے ۔ بالکل اسی طرح انسانی زندگی کے سالم اور فاسد ہونے کا دارومدار بھی اس کے عقیدے اور اخلاق کے سالم اورفاسد ہونے پر ہے ۔
اس تفصیلی گفتگو کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں ۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں :
قلب چار قسم کے ہیں :۔
ایک وہ دل جس میں ایمان ہوتا ہے ور نفاق بھی ۔
ایک وہ دل جو الٹا ہورا ہے ۔
ایک وہ دل جس پر مہر لگی ہوتی ہے اورکوئی حق وہاں تک نہیں پہنچتا سکتا۔
ایک وہ دل جو نورانی اور ( غیر خدا سے ) خالی ہوتا ہے ۔
پھر فرماتے ہیں :۔
نورانی دل مومن کا ہوتا ہے جس طرح خدا فرماتا ہے ”افمن یمشی مکباً علی وجھہ اھدیٰ امن یمشی سویّاً علیٰ صراط مستقیم “ یعنی آیا جو شخص زمین پر منہ کے بل چلتا ہے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا جو شخص سیدھے ہو کر صراط مستقیم پر گامزن ہے ؟“( المک ۲۲)
اور وہ دل جس میں ایمان بھی ہے اور نفاق بھی ، تویہ ایسے لوگوں کا دل ہے جو حق اور باطل کے بارے میں بالکل لاتعلق ہوتے ہیں اور ان کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اگر حق کے ماحول میں پہنچ جائیں تو حق کے تابع ہو جاتے ہیں اگر باطل کے ماحول میں پھنس جائیں تو اس کے طرفدار بن جاتے ہیں ۔
رہا وہ دل کہ جس پر مہر لگی ہوتی ہے وہ منافقین کا دل ہوتا ہے(5) ۔
1۔ مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں ۔
2۔ بحارر الانوارجلد ۷۰ ص ۲۳۹۔
3 ۔ تفسیر صافی اسی آیت کے ضمن میں ۔
4 ۔ صافی بحوالہ کافی ۔
5۔اسول کافی جلد ۲ صفحہ ۳۰۹ باب فی ظلمة قلب المنافق ۔