۲۔آیات کی ترتیب:
وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ ۵۲فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ ۵۳إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ ۵۴وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ ۵۵وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُونَ ۵۶فَأَخْرَجْنَاهُمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ۵۷وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ ۵۸كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ ۵۹
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ کہ تمہارا پیچھا کیا جانے والا ہے. پھر فرعون نے مختلف شہروں میں لشکر جمع کرنے والے روانہ کردیئے. کہ یہ تھوڑے سے افراد کی ایک جماعت ہے. اور ان لوگوں نے ہمیں غصہ دلا دیا ہے. اور ہم سب سارے سازوسامان کے ساتھ ہیں. نتیجہ میں ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کردیا. اور خزانوں اور باعزّت جگہوں سے بھی. اور ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں اور ہم نے زمین کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا.
قرآن مجید والی آیات میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے غرق ہونے کو تفصیل کے ساتھ بیان کر رہا ہے یہ بات اس سوال ک اسبب بن جاتی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ قرآن ِ مجید فرعونیوں کے اپنے محلات اور جائیداد سے باہر نکال دینے اور بنی اسرائیل کے ان کے وارث ہو نے کو تو پہلے بیان کر رہا ہے اور فرعون وغیرہ کے غرق ہو نے کو بعد میں ؟ جبکہ اس کی طبیعی ترتیب اس کے بر عکس ہے ۔
اس سلسلے میں ممکن ہے کہ یہاں اجمال بیان کرنے کے بعد تفصیل بیان کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہو۔
یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے نتیجہ اور پھر اس کی تفصیل کے ذکر کا انداز ہو۔ (غورکیجئے گا)۔