سوره شعراء / آیه 60 - 68
فَأَتْبَعُوهُمْ مُشْرِقِينَ ۶۰فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ۶۱قَالَ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ ۶۲فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ ۶۳وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِينَ ۶۴وَأَنْجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَنْ مَعَهُ أَجْمَعِينَ ۶۵ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ ۶۶إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۶۷وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۶۸
پھر ان لوگوں نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کا صبح سویرے پیچھا کیا. پھر جب دونوں ایک دوسرے کو نظر آنے لگے تو اصحاب موسیٰ نے کہا کہ اب تو ہم گرفت میںآجائیں گے. موسیٰ نے کہا کہ ہرگز نہیں ہمارے ساتھ ہمارا پروردگار ہے وہ ہماری راہنمائی کرے گا. پھر ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا دریا میں مار دیں چنانچہ دریا شگافتہ ہوگیا اور ہر حصہّ ایک پہاڑ جیسا نظر آنے لگا. اور دوسرے فریق کو بھی ہم نے قریب کردیا. اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی. پھر باقی لوگوں کو غرق کردیا. اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور بنی اسرائیل کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار صاحبِ عزّت بھی ہے اور مہربان بھی.
۶۰۔ فَاٴَتْبَعُوہُمْ مُشْرِقِینَ ۔
۶۱۔ فَلَمَّا تَرَائَی الْجَمْعَانِ قَالَ اٴَصْحَابُ مُوسَی إِنَّا لَمُدْرَکُونَ ۔
۶۲۔ قَالَ کَلاَّ إِنَّ مَعِی رَبِّی سَیَھْدِینِی ۔
۶۳۔فَاٴَوْحَیْنَا إِلَی مُوسَی اٴَنْ اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْبَحْرَ فَانفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیمِ ۔
۶۴۔ وَاٴَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِینَ ۔
۶۵۔ وَاٴَنْجَیْنَا مُوسَی وَمَنْ مَعَہُ اٴَجْمَعِینَ ۔
۶۶۔ ثُمَّ اٴَغْرَقْنَا الْآخَرِینَ۔
۶۷۔ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً وَمَا کَانَ اٴَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِین۔
۶۸۔ وَإِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ ۔
ترجمہ
۶۰۔وہ(فرعون والے) بنی اسرائیل کے تعاقب میں چل پڑے اور طلوع ِ آفتاب کے وقت انھیں جالیا۔
۶۱۔جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے ہم تو فرعونیوں کے چنگل میں پھنس گئے ۔
۶۲۔(موسیٰ نے ) کہا ایسی کوئی بات نہیں بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے جو جلدی ہی میری راہنمائی کرے گا ۔
۶۳۔اس کے بعد ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ تم اپنا عصا دریا پر مارو، دریا پھٹ گیا اور اس کا ہر ایک حصہ ایک عظیم پہاڑ کی مانند تھا ۔
۶۴۔ اور وہاں پر ہم نے دوسرے لوگوں کو بھی دریا کے نزدیک کردیا۔
۶۵۔ہم نے موسیٰ او رجو لو گ ان کے ساتھ تھے ( سب کو ) نجات بخشی ۔
۶۶۔ پھر دوسروں کو ہم نے غرق کر دیا ۔
۶۷۔ اس واقعے میں ( حق طلب افراد کے لئے ) واضح نشانی ہے ۔ لیکن ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے ۔
۶۸۔اور تیرا پر وردگار عزیز اور رحیم ہے ۔