Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ بنی اسرائیل نے مصر میں حکومت کی ہے ؟

										
																									
								

Ayat No : 52-59

: الشعراء

وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ ۵۲فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ ۵۳إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ ۵۴وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ ۵۵وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُونَ ۵۶فَأَخْرَجْنَاهُمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ۵۷وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ ۵۸كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ ۵۹

Translation

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ کہ تمہارا پیچھا کیا جانے والا ہے. پھر فرعون نے مختلف شہروں میں لشکر جمع کرنے والے روانہ کردیئے. کہ یہ تھوڑے سے افراد کی ایک جماعت ہے. اور ان لوگوں نے ہمیں غصہ دلا دیا ہے. اور ہم سب سارے سازوسامان کے ساتھ ہیں. نتیجہ میں ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کردیا. اور خزانوں اور باعزّت جگہوں سے بھی. اور ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں اور ہم نے زمین کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا.

Tafseer

									آیات بالا میں خداوند عالم فرماتا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کوفرعون والوں کا وارث بنا یا ۔ اسی تعبیر کی بناء پر بعض مفسرین کی یہ رائے ہے کہ بنی اسرائیل کے افراد مصر کی طرف واپس لوٹ آئے اور زمامِ حکومت و اقتدار اپنے قبضے میں لے کر مدتوں وہاں حکومت کرتے رہے(1) ۔
آیات بالا کا ظاہری مفہوم بھی اسی تفسیر سے مناسبت رکھتا ہے ۔
جبکہ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ وہ لوگ فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد مقدس سرزمینوں کی طرف چلے گئے البتہ کچھ عرصے کے بعد مصر واپس آگئے اور وہاں پر اپنی حکومت تشکیل دی(2) ۔
تفسیر کے اسی حصے کے ساتھ موجودہ تو رات کی فصول بھی مطابقت رکھتی ہیں ۔
بعض دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل دوحصوں میں بٹ گئے۔ایک گروہ مصر میں رہ گیا اور وہیں پر حکومت کی اور ایک گروہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سر زمین مقدس کی طرف روانہ ہوگیا۔
یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کے وارث ہونے سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اور جناب حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں مصر کی وسیع و عریض سر زمین پر حکومت کی ۔
لیکن اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ ایک عظیم انقلابی پیغمبر تھے لہٰذا یہ بات بالکل بعید نظر آتی ہے کہ وہ ایسی سر زمین کو کلی طور پر خیر باد کہہ کر چلے جائیں جس کی حکومت مکمل طورپر انھیں کے قبضے اور اختیار میں آچکی ہو اور وہ وہاں کے بارے میں کسی قسم کا فیصلہ کئے بغیر بیابانوں کی طرف چل دیں خصوصاً جب کہ لاکھوں بنی اسرائیل عرصہ دراز سے وہاں پر مقیم بھی تھے اور وہاں کے ماحول سے اچھی طرح واقف بھی تھے ۔
بنابریں یہ کیفیت دو حال سے خالی نہیں یا تو تمام بنی اسرائیلی مصر میں واپس لوٹ آئے اور حکومت تشکیل دی ، یا کچھ لوگ جناب موسی ٰ علیہ السلام کے حکم کے مطابق وہیں رہ گئے تھے اور حکومت چلا تے رہے اس کے علاوہ فرعون اور فرعون والوں کے باہر نکال دینے اور بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنا دینے کا اور کوئی واضح مفہوم نہیں ہوگا ۔
1۔”تفسیر جمع البیان “ اور ” تفسیر قرطبی“ انہی آیات کے ذیل میں ۔ نیز” آلوسی“نے اپنی تفسیر ”روح المعانی“ میں اس موضوع پر ایک قابلِ قدر تفسیر نقل کی ہے ۔
2۔”تفسیر روح المعانی“ انہی آیات کے ذیل میں ۔