Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۵۔ سلام وتحیّت

										
																									
								

Ayat No : 61

: النور

لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۶۱

Translation

نابینا کے لئے کوئی حرج نہیں ہے اور لنگڑے آدمی کے لئے بھی کوئی حرج نہیں ہے اور مریض کے لئے بھی کوئی عیب نہیں ہے اور خود تمہارے لئے بھی کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں اور نانی دادی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالو .... اور تمہارے لئے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ سب مل کر کھاؤ یا متفرق طریقہ سے کھاؤ بس جب گھروں میں داخل ہو تو کم از کم اپنے ہی اوپر سلام کرلو کہ یہ پروردگار کی طرف سے نہایت ہی مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے اور پروردگار اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح طریقہ سے بیان کرتا ہے کہ شاید تم عقل سے کام لے سکو.

Tafseer

									جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ”تحیّة“ بنیادی طور پر ”حیات“ کے مادہ سے ہے، یہ لفظ سلامتی کے لئے اور دوسری زندگی کے لئے دعا کرنے کا مفہوم رکھتا ہے چاہے یہ دعا ”سلام علیکم“ یا ”السلام علینا“ کی شکل میں ہو چاہے ”حیات الله“ کی صورت میں لیکن عام طور پر ہر قسم کے اظہار محبّت کو ”تحیّت“ کہتے ہیں کہ جو ابتدائے ملاقات میں لوگ ایک دوسرے سے کرتے ہیں ۔
”تَحِیَّةً مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبَارَکَةً طَیِّبَةً“ سے مراد یہ ہے کہ ”تحیّة“ کا ایک طرح سے الله سے رابطہ ہونا چاہیے یعنی ”سلام علیکم“ سے مراد یہ کہ ”الله کا تم پر سلام ہو“ ”الله تمھیں سلامت رکھّے“ کیونکہ موحّد اور خدا پرست جب بھی کوئی دعا مانگتا ہے تو آخر کار وہ الله ہی سے ہوتی ہے اور اسی سے درخواست ہوتی ہے، فطری بات ہے کہ جو دعا ایسی ہو وہ مبارک بھی ہے اور پاک وطیّب بھی 
(سلام اوراس کی اہمیت اور ہر قسم کے سلام وتحیّت کے جواب کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد چہارم میں سورہٴ نساء کی آیت۸۶ میں بحث کرچکے ہیں) ۔