۵۔ سلام وتحیّت
لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۶۱
نابینا کے لئے کوئی حرج نہیں ہے اور لنگڑے آدمی کے لئے بھی کوئی حرج نہیں ہے اور مریض کے لئے بھی کوئی عیب نہیں ہے اور خود تمہارے لئے بھی کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں اور نانی دادی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالو .... اور تمہارے لئے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ سب مل کر کھاؤ یا متفرق طریقہ سے کھاؤ بس جب گھروں میں داخل ہو تو کم از کم اپنے ہی اوپر سلام کرلو کہ یہ پروردگار کی طرف سے نہایت ہی مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے اور پروردگار اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح طریقہ سے بیان کرتا ہے کہ شاید تم عقل سے کام لے سکو.
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ”تحیّة“ بنیادی طور پر ”حیات“ کے مادہ سے ہے، یہ لفظ سلامتی کے لئے اور دوسری زندگی کے لئے دعا کرنے کا مفہوم رکھتا ہے چاہے یہ دعا ”سلام علیکم“ یا ”السلام علینا“ کی شکل میں ہو چاہے ”حیات الله“ کی صورت میں لیکن عام طور پر ہر قسم کے اظہار محبّت کو ”تحیّت“ کہتے ہیں کہ جو ابتدائے ملاقات میں لوگ ایک دوسرے سے کرتے ہیں ۔
”تَحِیَّةً مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبَارَکَةً طَیِّبَةً“ سے مراد یہ ہے کہ ”تحیّة“ کا ایک طرح سے الله سے رابطہ ہونا چاہیے یعنی ”سلام علیکم“ سے مراد یہ کہ ”الله کا تم پر سلام ہو“ ”الله تمھیں سلامت رکھّے“ کیونکہ موحّد اور خدا پرست جب بھی کوئی دعا مانگتا ہے تو آخر کار وہ الله ہی سے ہوتی ہے اور اسی سے درخواست ہوتی ہے، فطری بات ہے کہ جو دعا ایسی ہو وہ مبارک بھی ہے اور پاک وطیّب بھی
(سلام اوراس کی اہمیت اور ہر قسم کے سلام وتحیّت کے جواب کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد چہارم میں سورہٴ نساء کی آیت۸۶ میں بحث کرچکے ہیں) ۔