Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۴۔ ”اٴَوْ مَا مَلَکْتُمْ“ کی تفسیر

										
																									
								

Ayat No : 61

: النور

لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۶۱

Translation

نابینا کے لئے کوئی حرج نہیں ہے اور لنگڑے آدمی کے لئے بھی کوئی حرج نہیں ہے اور مریض کے لئے بھی کوئی عیب نہیں ہے اور خود تمہارے لئے بھی کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں اور نانی دادی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالو .... اور تمہارے لئے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ سب مل کر کھاؤ یا متفرق طریقہ سے کھاؤ بس جب گھروں میں داخل ہو تو کم از کم اپنے ہی اوپر سلام کرلو کہ یہ پروردگار کی طرف سے نہایت ہی مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے اور پروردگار اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح طریقہ سے بیان کرتا ہے کہ شاید تم عقل سے کام لے سکو.

Tafseer

									متعدد شانہائے نزول میں آیا ہے کہ صدر اسلام میں جب مسلمان جہاد پر جاتے تھے تو کبھی کبھار اپنے گھر کی چابی ایسے افراد کو سونپ جاتے ہیں جومعذور ہونے کے باعث جہاد پر نہیں جاسکتے تھے، یہاں تک کہ انھیں یہ اجازت دے جاتے تھے کہ گھر میں موجود غذا بھی کھا سکتے ہیں اور لیکن وہ کبھی اس خوف کہ کہیں گناہ نہ ہو کھانے سے اجتناب کرتے تھے ۔
ان روایات کے مطابق ”اٴَوْ مَا مَلَکْتُمْ“(وہ گھر کہ جن کی چابیوں کے تم مالک ہو) سے یہی مراد ہے (1) ۔
ابن عبّاس سے بھی منقول ہے کہ اس سے مراد انسان کا وکیل اور نمائندہ ہے اور یہ وکالت پانی، جائداد، زراعت اور پالتو جانوروں میں ہوتی ہے، اس نمائندے کو اجازت دی گئی ہے کہ باغ کے پھلوں میں سے ضرورت کے مطابق کھالے اور جانوروں کا دودھ پی لے ۔
بعض نے اس سے گودام کا نگران مراد لیا ہے کہ جو حق رکھتا ہے کہ وہ غذا میں سے کھالے ۔
لیکن جن لوگوں کے نام اس آیت میں لئے گئے ہیں انھیں نظر میں رکھیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ افراد ہیں کہ جنھیں ان کے قریبی عزیز اعتماد اور تعلق کی بناء پر اپنے گھر کی چابی سپرد کردیتے ہیں، یہ قریبی ربط وتعلق اس بات کا سبب بنا کہ رشتہ داروں اور دوستوں کی فہرست میں انھیں بھی شمار کیا جائے ۔
بعض روایات کے مطابق اس سے مراد وہ وکیل ہے کہ جسے اوال کی سرپرستی سونپی جاتی ہے، یہ تفسیر در حقیقت اس جملے کا ایک مصداق ہے ۔
1۔ تفسیر قرطبی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں (وسائل الشیعہ، ج۱۶، ص۴۳۶، باب۲۴، از ابواب مائدہ میں بھی اس مضمون کی حدیث موجود ہے) ۔