۳۔ ”صدیق“ سے کون مراد ہے؟
لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۶۱
نابینا کے لئے کوئی حرج نہیں ہے اور لنگڑے آدمی کے لئے بھی کوئی حرج نہیں ہے اور مریض کے لئے بھی کوئی عیب نہیں ہے اور خود تمہارے لئے بھی کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں اور نانی دادی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالو .... اور تمہارے لئے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ سب مل کر کھاؤ یا متفرق طریقہ سے کھاؤ بس جب گھروں میں داخل ہو تو کم از کم اپنے ہی اوپر سلام کرلو کہ یہ پروردگار کی طرف سے نہایت ہی مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے اور پروردگار اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح طریقہ سے بیان کرتا ہے کہ شاید تم عقل سے کام لے سکو.
اس میں شک نہیں کہ دوستی کا ایک وسیع مفہوم ہے، یہاں ”صدق“ سے مراد خاص اور قریبی دوست ہیں، جن کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ہے، جن کے درمیان قریبی تعلقات اور روابط کا تقاضا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ہاں آئیں جائیں اور ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھائیں، یہاں تک کہ اس میں اجازت شرط نہیں ہے صرف اتنا کافی ہے کہ یقین ہو کہ ان کی عدم رضامندی نہیں ہے ۔
اسی لئے اس جملے کے ذیل میں بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مراد ایسا دوست ہے کہ جو اپنی دوستی میں مخلص اور سچّا ہے ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد ایسا دوست ہے کہ جو آپ سے ظاہر وباطن میں ایک جیسا ہو ۔
ظاہراً ان سب تفسیروں کا ایک ہی مفہوم نکلتا ہے ۔
مناسب ہے کہ اس مقام پر دوستی کے مفہوم اور ا س کی مکمل شرائط امام صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں پڑھیں، آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
”لاتکون الصداقة الّا بحدودھا، فمن کانت فیہ ھذہ الحدود اٴو شیء منھا فانسبہ الی الصداقة ومن لم یکن فیہ شیء منھا فلاتلبسہ الیٰ شیء من الصداقة، فاوّلھا ان تکون سریرتہ وعلانیتہ لک واحدة، والثانی اٴن یریٰ زینک زینہ وشینک شینہ، والثالثة اٴن لاتغیرہ علیک ولایة ولامال، والرابعة اٴن لایمنک شیئاً تنالہ مقدرتہ، والخامسة وھی تجمع ھٰذہ الخصال اٴن لایسلمک عند النکبات“.
”دوستی کے کچھ شرائط اور حدود ہیں جن کے بغیر دوستی کا مفہوم نہیں، جس شخص میں یہ شرائط یا ان کا کچھ حصّہ ہو اسے دوست سمجھو جس میں ان شرائط اور خصوصیات میں سے کوئی بھی شرائط نہ اس میں دوستی والی کوئی کوئی بات نہیں ہے
پہلی شرط یہ ہے کہ اس کا ظاہر وباطن ایک جیسا ہو ۔
دوسری شرط یہ ہے کہ تیرے وقار اور آبرو کا اپنا وقار اور آبرو سمجھے، اور تیری برائی اور نقصان کو اپنی برائی اور نقصان سمجھے ۔
تیسری شرط یہ ہے کہ مقام ومنصب اور مال و دولت کی وجہ سے وہ تجھ سے برتاوٴ میں تبدیلی نہ کرے ۔
چوتھی شرط یہ ہے کہ جو کچھ اس کے اختیار میں ہے اس میں تیرے لئے دریغ نہ کرے ۔
پانچویں شرط یہ ہے کہ جس میں یہ تمام شرطیں ہیں یہ ہے کہ جب زمانہ تجھ سے منھ موڑ لے وہ تجھے تنہا نہ چھوڑے(1)۔
1۔ اصول کافی، ج۲، ص۴۶۷.