۲۔ اس حکمِ اسلامی کا فلسفہ
لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۶۱
نابینا کے لئے کوئی حرج نہیں ہے اور لنگڑے آدمی کے لئے بھی کوئی حرج نہیں ہے اور مریض کے لئے بھی کوئی عیب نہیں ہے اور خود تمہارے لئے بھی کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں اور نانی دادی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالو .... اور تمہارے لئے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ سب مل کر کھاؤ یا متفرق طریقہ سے کھاؤ بس جب گھروں میں داخل ہو تو کم از کم اپنے ہی اوپر سلام کرلو کہ یہ پروردگار کی طرف سے نہایت ہی مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے اور پروردگار اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح طریقہ سے بیان کرتا ہے کہ شاید تم عقل سے کام لے سکو.
یہ ہوسکتا ہے غصب کے بارے میں اسلام کے واضح اور شدید احکام سے اس حکم کا موازنہ کیا جائے تو سوال پیدا ہوگا کہ اسلام نے دوسروں کے مال میں تصرف کے بارے میں اتنا سخت موٴقف اختیار کرنے کے باوجود اس امر کو کیسے جائز شمار کیا ہے ۔
ہمارا خیال ہے کہ یہ سوال سو فیصد مادی امور پر نظر رکھنے کی وجہ سے اس معاشرے سے متعلق ہے جو آج کے مغربی ممالک کے ماحول کی طرح ہوں کہ جہاں اپنی حقیقی اولاد کو کچھ بڑا ہوجانے پر گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور ان کے کسی حق کا احترام نہیں کیا جاتا اور نہ ان سے کوئی اظہار محبّت کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں تمام مسائل مادی اور اقتصادی محور پر چکر لگاتے ہیں اور انسانی احساسات کا وہاں نام ونشان تک نہیں ہے لیکن مغربی تہذیب کی جو صورتِ حال ہے اس کے پیش نظر ایسا ہونا کوئی باعث تعجب نہیں لیکن اسلامی تہذیب اور سماجی نظام میں انسانی احساسات کو بہت اہمیت دی گئی ہے، خاص طور پر قریبی رشتہ داروں اور خاص دوستوں کے بارے میں اسلام بہت حساس ہے اسلامی کی نظر میں قرابتداری اور دوستی کے رشتے ان مادی حوالوں سے بہت بلند ہیں یہ رشتے اسلام کی نظر میں بہت مقدس ہیں، اسلام تنگ نظری، خود غرضی اور خود پرستی کو پاک کردینا چاہتا ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ غصب کے بارے میں اسلامی احکام ان حدود سے باہر ہیں، اسلام نے ان خاص حالات میں انسانی رشتوں اور احساسات کو غصب کے احکام پر مقدم شمار کیا ہے ۔