Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ اس حکمِ اسلامی کا فلسفہ

										
																									
								

Ayat No : 61

: النور

لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۶۱

Translation

نابینا کے لئے کوئی حرج نہیں ہے اور لنگڑے آدمی کے لئے بھی کوئی حرج نہیں ہے اور مریض کے لئے بھی کوئی عیب نہیں ہے اور خود تمہارے لئے بھی کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں اور نانی دادی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالو .... اور تمہارے لئے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ سب مل کر کھاؤ یا متفرق طریقہ سے کھاؤ بس جب گھروں میں داخل ہو تو کم از کم اپنے ہی اوپر سلام کرلو کہ یہ پروردگار کی طرف سے نہایت ہی مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے اور پروردگار اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح طریقہ سے بیان کرتا ہے کہ شاید تم عقل سے کام لے سکو.

Tafseer

									یہ ہوسکتا ہے غصب کے بارے میں اسلام کے واضح اور شدید احکام سے اس حکم کا موازنہ کیا جائے تو سوال پیدا ہوگا کہ اسلام نے دوسروں کے مال میں تصرف کے بارے میں اتنا سخت موٴقف اختیار کرنے کے باوجود اس امر کو کیسے جائز شمار کیا ہے ۔
ہمارا خیال ہے کہ یہ سوال سو فیصد مادی امور پر نظر رکھنے کی وجہ سے اس معاشرے سے متعلق ہے جو آج کے مغربی ممالک کے ماحول کی طرح ہوں کہ جہاں اپنی حقیقی اولاد کو کچھ بڑا ہوجانے پر گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور ان کے کسی حق کا احترام نہیں کیا جاتا اور نہ ان سے کوئی اظہار محبّت کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں تمام مسائل مادی اور اقتصادی محور پر چکر لگاتے ہیں اور انسانی احساسات کا وہاں نام ونشان تک نہیں ہے لیکن مغربی تہذیب کی جو صورتِ حال ہے اس کے پیش نظر ایسا ہونا کوئی باعث تعجب نہیں لیکن اسلامی تہذیب اور سماجی نظام میں انسانی احساسات کو بہت اہمیت دی گئی ہے، خاص طور پر قریبی رشتہ داروں اور خاص دوستوں کے بارے میں اسلام بہت حساس ہے اسلامی کی نظر میں قرابتداری اور دوستی کے رشتے ان مادی حوالوں سے بہت بلند ہیں یہ رشتے اسلام کی نظر میں بہت مقدس ہیں، اسلام تنگ نظری، خود غرضی اور خود پرستی کو پاک کردینا چاہتا ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ غصب کے بارے میں اسلامی احکام ان حدود سے باہر ہیں، اسلام نے ان خاص حالات میں انسانی رشتوں اور احساسات کو غصب کے احکام پر مقدم شمار کیا ہے ۔