Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ سن رسیدہ عورتوں کے لئے پردے کا حکم

										
																									
								

Ayat No : 58-60

: النور

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۚ مِنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ۚ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ ۚ طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۵۸وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۵۹وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ ۖ وَأَنْ يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَهُنَّ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۶۰

Translation

ایمان والو تمہارے غلام و کنیز اور وہ بچے ّجو ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچے ہیں ان سب کو چاہئے کہ تمہارے پاس داخل ہونے کے لئے تین اوقات میں اجازت لیں نماز صبح سے پہلے اور دوپہر کے وقت جب تم کپڑے اتار کر آرام کرتے ہو اور نماز عشائ کے بعد یہ تین اوقات پردے کے ہیں اس کے بعد تمہارے لئے یا ان کے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک دوسرے کے پاس چکر لگاتے رہیں کہ اللہ اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح کرکے بیان کرتا ہے اور بیشک اللہ ہر شے کا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے. اور جب تمہارے بّچے حد بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اسی طرح اجازت لیں جس طرح پہلے والے اجازت لیا کرتے تھے پروردگار اسی طرح تمہارے لئے اپنی آیتوں کو واضح کرکے بیان کرتا ہے کہ وہ صاحب هعلم بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی ہے. اور ضعیفی سے بیٹھ رہنے والی عورتیں جنہیں نکاح سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ان کے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اپنے ظاہری کپڑوں کو الگ کردیں بشرطیکہ زینت کی نمائش نہ کریں اور وہ بھی عفت کا تحفظ کرتی رہیں کہ یہی ان کے حق میں بھی بہتر ہے اور اللہ سب کی سننے والا اور سب کا حال جاننے والا ہے.

Tafseer

									علمائے اسلام کے درمیان اس بات میں اختلاف نہیں ہے کہ عمر رسیدہ عورتیں پردے کے حکم سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ قرآن نے اس سلسلے میں واضح حکم دیا ہے، البتہ اس استثناء کی تفصیلات میں اختلاف موجود ہے مثلاً:
ان عورتوں کی عمر کیا ہے اور یہ کہ کس حد تک پہنچ جائیں تو ”قواعد“ کا لفظ ان پر صادق آتا ہے، اس میں اختلاف ہے بعض اسلامی روایات میں ان کے لئے لفظ ”مسنة“ (سن رسیدہ) استعمال ہوا ہے(1)۔
جبکہ بعض دوسری روایات میں ”قعود از نکاع“ کی تعبیر آئی ہے یعنی وہ شادی کے قابل نہ رہی ہوں(2) ۔
لیکن بعض فقہاء اور مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد ماہواری کا خاتمہ، بچہ جننے کے قابل نہ رہنا اور کسی سے اس کا نکاح کی خواہش نہ کرنا ہے (3) ۔
لیکن ظاہراً یہ سب تعبیرات ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور وہ یہ کہ عورتیں اس عمر کو پہنچ جائیں کہ جن میں عموماً کوئی عورت شادی نہیں کرتی اگرچہ ممکن ہے شاذ ونادر ایسا ہوجائے ۔
ایسی عورتوں کے لئے کس قدر بدن ظاہر کرنا جائز ہے اس سلسلے میں روایات مختلف ہیں جبکہ قرآن میں اجمالی طور پر فرمایا گیا ہے کہ کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنا لباس اتار دیں البتہ یہ بات واضح ہے کہ ا س سے اوپر والا لباس مراد ہے ۔
بعض روایات میں اس سوال کے جواب میں کہ وہ کونسا لباس اتارسکتی ہیں، امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
”الجلباب“
”چادر اور برقعہ“۔
جبکہ ایک اور روایت میں ”جلباب وخمار“(4)کے الفاظ ہیں ”خمار“ دوپٹے کو یا اس رومال کوکہتے ہیں جو عورتیں سر پر باندھتی ہیں) ۔
ظاہراً ایسی احادیث ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں ، مراد یہ ہے کہ کوئی حرج نہیں اگر وہ اپنا سر کھلا رکھیں اور اپنے بال وگردن اور چہرہ نہ چھپائیں، بعض احادیث اور کلماتِ فقہاء میں ان کی کلائی کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے لیکن اس سے زیادہ کے بارے میں استثناء کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔
بہرحال یہ سب اس صورت میں ہے کہ خود آرائی نہ کریں (غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِینَةٍ) ۔ اور اپنی پنہاں زینتوں کو دوسری عورتوں کی طرح چھپائیں اس طرح زیب وزینت کے لباس بھی نہ پہنیں ۔
دوسرے لفظوں میں ان کے لئے جائز ہے کہ وہ چادر اور دوپٹے کے بغیر سادہ لباس میں بغیر آرائش کے گھر سے باہر آئیں ۔ لیکن اس کے باوجود ایسا کرنا ان کے لئے ضروری نہیں بلکہ اگر وہ دوسری عورتوں کی طرح پردے کی پابندی کریں تو یہ بہتر ہے جیسا کہ زیرِ بحث آیت میں بھی اس سلسلے میں صراحت موجود ہے کیونکہ اگرچہ شاذونادر ہی ہو لغزش کا امکان بھی موجود ہے(5).
1۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، کتاب النکاح، باب۱۱۰، حدیث۴.
2 ۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، کتاب النکاح، باب۱۱۰، حدیث۵.
3۔ جواہر، ج۲۹، ص۸۵ اور کنز العرفان، ج۲، ص۲۲۶.
4۔ وسائل الشیعہ، کتاب النکاح، باب۱۱۰، حدیث۱.
5 ۔ وسائل الشیعہ، کتاب النکاح، باب۱۱۰، حدیث۲ و۴.