۱۔ اجازت لینے کا فلسفہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۚ مِنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ۚ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ ۚ طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۵۸وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۵۹وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ ۖ وَأَنْ يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَهُنَّ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۶۰
ایمان والو تمہارے غلام و کنیز اور وہ بچے ّجو ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچے ہیں ان سب کو چاہئے کہ تمہارے پاس داخل ہونے کے لئے تین اوقات میں اجازت لیں نماز صبح سے پہلے اور دوپہر کے وقت جب تم کپڑے اتار کر آرام کرتے ہو اور نماز عشائ کے بعد یہ تین اوقات پردے کے ہیں اس کے بعد تمہارے لئے یا ان کے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک دوسرے کے پاس چکر لگاتے رہیں کہ اللہ اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح کرکے بیان کرتا ہے اور بیشک اللہ ہر شے کا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے. اور جب تمہارے بّچے حد بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اسی طرح اجازت لیں جس طرح پہلے والے اجازت لیا کرتے تھے پروردگار اسی طرح تمہارے لئے اپنی آیتوں کو واضح کرکے بیان کرتا ہے کہ وہ صاحب هعلم بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی ہے. اور ضعیفی سے بیٹھ رہنے والی عورتیں جنہیں نکاح سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ان کے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اپنے ظاہری کپڑوں کو الگ کردیں بشرطیکہ زینت کی نمائش نہ کریں اور وہ بھی عفت کا تحفظ کرتی رہیں کہ یہی ان کے حق میں بھی بہتر ہے اور اللہ سب کی سننے والا اور سب کا حال جاننے والا ہے.
برائی اور بدکاری کی روک تھام کے لئے صرف مجرموں کو کوڑے لگانا کافی نہیں ہے کسی بھی معاشرتی مسئلے میں اس قسم کا طریقہٴ کار مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کرسکتا بلکہ ضروری ہے کہ فکری تربیت کا اہتمام ہو، اچھی ثقافت کی تعلیم، اخلاقی آداب سکھائے جائیں، صحیح اسلامی تعلیمات عام کی جائیں اورایک پاک صاف صحت مند معاشرہ اور ماحول پیدا کیا جائے، اس کے بعد سزا، حدود اور تعزیرات کو ان عوامل کے ساتھ ایک عامل کی حیثیت سے انتخاب کیا جائے ۔
سورہٴ نور میں اسی لئے یہی روش اختیار کی گئی ہے، پہلے تو اس میں زانی عورتوں اور مردوں کی سزا کا ذکر ہے اور پھر اس کے بعد صحیح طریقے سے شادی کے وسائل فراہم کرنے کا حکم ہے، پردے کا بیان ہے، نظر بازی سے منع کیا گیا ہے، تہمت کی ممانعت کی گئی ہے اور آخر میں ماں باپ کی خلوت میں جاتے وقت اولاد کے لئے اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا ہے، اس اعتبار سے مجموعی طور پر یہ عفت وپاکدامنی کی صورت میں ہے ۔
اس قدر تفصیلات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اسلام نے اس مسئلے سے مربوط چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بھی غفلت نہیں برتی۔
خدمت گاروں کی ذمہ داری ہے کہ جس کمرے میں بیوی اور شوہر موجود ہیں اس میں داخل ہوتے وقت اجازت لیں ۔
بالغ بچوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ بلا اجازت اند رنہ جائیں یہاں تک کہ نابالغ بچے بھی ہمیشہ ماں باپ کے پاس ہوتے ہیں کم از کم تین اوقات میں ان سے اجازت لئے بغیر ان کے کمرے میں نہ جائیں (نماز صبح سے پہلے، نماز عشاء کے بعد اور دوپہرکے وقت کہ جب ماں باپ آرام کررہے ہوں) ۔
یہ اسلامی آداب ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ زمانے میں ان کا بہت کم لحاظ رکھا جاتا ہے حالانکہ قرآن نے اس سلسلے میں بڑی صراحت سے کام لیا ہے ۔
تحریروں، تقریروں اور بیان کے احکام کے وقت بھی بہت کم دیکھا گیا ہے کہ اس اسلامی حکم اور اس کے ظاہری فلسفہ کے بارے میں بات ہوتی ہو، معلوم نہیں کہ اس قطعی حکم سے کس وجہ سے غفلت برتی جارہی ہے، اگرچہ آیت ظاہری اعتبار سے اس حکم کا واجب ہونا ظاہر کررہی ہے لیکن بالفرض اسے مستحب بھی سمجھا جائے تب بھی اس کے بارے میں گفتگو ہونا چاہیے اور اس کی تفصیلات پر بات ہونا چاہیے ۔
اس کے برخلاف یہ ہے کہ بعض سادہ لوح افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ چھوٹے بچے ایسے مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتے اور خادم وغیرہ بھی ان امور میں نہیں پڑتے لیکن بہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ چھوٹے بچے (چہ جائیکہ بڑے) اس مسئلے میں بہت حساس ہوتے ہیں ۔
بعض اوقات ماں باپ غفلت برتتے ہیں اور سہل انگاری سے کام لیتے ہیں اور بچوں کے سامنے ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ جو نہیں کرنا چاہئیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے بعض اوقات اخلاقی بے راہ روی کا یا نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
ہم خود ایسے افراد سے ملے ہیں کہ جنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ اس امر سے ماں باپ کی بے توجہی کی وجہ سے اور ماں باپ سے نفرت پیدا ہوئی کہ وہ انھیں قتل کرنے تک پر تل گئے اور بعض اوقات خود بھی خود کشی تک جاپہنچے ۔
ایسے ہی مقامات پر اس حکم اسلامی کی قدر وقیمت واضح ہوتی ہے، وہ مسائل کہ جن تک آج ماہرین اور دانشور پہنچے ہیں اسلام چودہ سو سال پہلے اپنے احکام میں ان کے بارے میں اپنا موقف واضح کرچکا ہے ۔
اس مقام پر ہم یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ماں باپ کو نصیحت کریں کہ ان آداب ورسوم کو سنجیدگی سے اپنائیں اور اپنی اولاد کو اپنے کمرے میں آنے کے لئے اجازت لینے کا عادی بنائیں ۔
ہاں یہ خیال رہے کہ دوسرے امور کے علاوہ عورت اور مرد کا اس کمرے میں سونا بھی بچوں میں تحریک کا سبب بنتا ہے جس میں ممیز بچے سوئے ہوئے ہوں ۔
ا س سلسلے میں جتنا ممکن ہو پرہیز کرنا چاہیے اور یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیے کہ تربیتی امورمیں ان احکام وآداب کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔
یہ بات لائق توجہ ہے ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں:
”ایّاکم وان یجامع الرجل امرئتہ والصبی فی المھد ینظر الیھا“.
”جب بچہ گہوارہ میں پڑا دیکھ رہا ہو تو اس وقت مباشرت نہ کرو“(1)۔
1۔ بحارالانوار، ج۱۰۳، ص۲۹۵.