Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2۔ عادلانہ فیصلہ صرف خدا کا ہوتا ہے ۔

										
																									
								

Ayat No : 46-50

: النور

لَقَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ ۚ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ۴۶وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌ مِنْهُمْ مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ۴۷وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ ۴۸وَإِنْ يَكُنْ لَهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ ۴۹أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ ۚ بَلْ أُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۵۰

Translation

یقینا ہم نے واضح کرنے والی آیتیں نازل کی ہیں اور اللہ جسے چاہتا ہے صراظُ مستقیم کی ہدایت دیدیتا ہے. اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لے آئے ہیں اور ان کی اطاعت کی ہے اور اس کے بعد ان میں سے ایک فریق منہ پھیرلیتا ہے اور یہ واقعا صاحبانِ ایمان نہیں ہیں. اور جب انہیں خدا و رسول کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو ان میں سے ایک فریق کنارہ کش ہوجاتا ہے. حالانکہ اگر حق ان کے ساتھ ہوتا تو یہ سر جھکائے ہوئے چلے آتے. تو کیا ان کے دلوں میں کفر کی بیماری ہے یا یہ شک میں مبتلا ہوگئے ہیں یا انہیں یہ خوف ہے کہ خدا اور رسول ان پر ظلم کریں گے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی ظالمین ہیں.

Tafseer

									اس میں شک نہیں کہ انسان کو اپنے آپ کو محبّت ونفرت، خود خواہی اور ذاتی اغراض سے الگ کرنا چاہیے جو لاشعوری طور پر ان امور کے زیرِ اثر آجاتا ہے، سوائے اس کے وہ معصوم ہو اور پروردگار کی طرف سے محفوظ ہو، اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ حقیقی قانون گزار صرف خدا ہی ہے، کیونکہ وہ اپنے بے پایاں علم کی وجہ سے انسان کی تمام ضروریات کو بھی جانتا ہے اور ان ضروریات کو پوار کرنے کاراستہ بھی جانتا ہے، خود اس کی اپنی کوئی احتیاجات بھی نہیں اور محبت ونفرت کی بناء پر وہ کبھی انحراف اور کجی کا شکار نہیں ہوتا، لہٰذا عادلانہ ترین فیصلہ خدا، نبی اور امام معصوم ہی کا ہوسکتا ہے اور ان کے بعد ایسے افراد کا کہ جو ان کی راہ پر چلتے ہیں اور ان سے شباہت رکھتے ہیں، لیکن یہ خود غرض انسان ایسے عادلانہ فیصلے کا متمنی ہوتا ہے کہ جو اس کی خواہش اور حرص کو زیادہ سے پورا کرے، ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن نے کیا عمدہ بات کہی ہے کہ:
”اٴُوْلٰئِکَ ھُمْ الظَّالِمُونَ“
”حقیقی ظالم یہی لوگ ہیں“۔
نیز حقیقی عادلانہ فیصلے ہر انسان کے معیار ایمان کی بھی کسوٹی ہوتی ہیں ۔
یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ قرآن ایک مقام پر کہتا ہے کہ اے رسول! حقیقی مومنین نہ صرف تیرے فیصلے پر سرتسلیم خم کرتے ہیں، بلکہ دل میں تیرے فیصلوں پر بوجھ اور ناراحتی محسوس نہیں کرتے، اگرچہ ظاہراً ان کے نقصان میں ہوں، ارشاد الٰہی ہے:
<فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوا فِی اٴَنفُسِھِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیمًا
”تیرے رب کی قسم! کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے جھگڑوں میں تجھے قاضی اور فیصل قرار نہ دے، نیز تیرے فیصلے کے ضروری ہے کہ اپنے دل میں کوئی بوجھ اور ناراحتی محسوس نہ کرے اور ظاہر وبطان میں حق کے سامنے تسلیم خم کرے“۔
لیکن وہ لوگ کہ جو الله اور رسول کا حکم اس صورت میں مانتے ہیں کہ جب ان کا فائدہ ہو، حقیقت میں وہ مشرک ہیں کہ جو اپنے مفادات کے بندے ہیں، اگرچہ وہ ایمان کا دم بھرتے ہوں اور مومنین کی صفوں میں اٹھتے بیٹھتے ہوں ۔