۱۔ نفاق کی بیماری
لَقَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ ۚ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ۴۶وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌ مِنْهُمْ مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ۴۷وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ ۴۸وَإِنْ يَكُنْ لَهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ ۴۹أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ ۚ بَلْ أُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۵۰
یقینا ہم نے واضح کرنے والی آیتیں نازل کی ہیں اور اللہ جسے چاہتا ہے صراظُ مستقیم کی ہدایت دیدیتا ہے. اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لے آئے ہیں اور ان کی اطاعت کی ہے اور اس کے بعد ان میں سے ایک فریق منہ پھیرلیتا ہے اور یہ واقعا صاحبانِ ایمان نہیں ہیں. اور جب انہیں خدا و رسول کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو ان میں سے ایک فریق کنارہ کش ہوجاتا ہے. حالانکہ اگر حق ان کے ساتھ ہوتا تو یہ سر جھکائے ہوئے چلے آتے. تو کیا ان کے دلوں میں کفر کی بیماری ہے یا یہ شک میں مبتلا ہوگئے ہیں یا انہیں یہ خوف ہے کہ خدا اور رسول ان پر ظلم کریں گے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی ظالمین ہیں.
یہ وہ مقام نہیں کہ جہاں قرآن مجید نے نفاق کو ایک ”مرض“ قرار دیا ہے، بلکہ اس سے پہلے سورہٴ بقرہ کی ابتداء میں منافقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:
<فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ فَزَادَھُمْ اللّٰہُ مَرَضًا
ان کے دلوں میں ایک قسم کی بیماری ہے اور الله ان کی بیماری بڑھا دیتا ہے ۔
جیسا کہ پہلی جلد میں ہم اس آیت کے ذیل یں کہہ چکے ہیں کہ نفاق درحقیقت ایک بیماری اور انحراف ہے، جو انسان صحیح اور صحت مند ہو اس کا اس کا ایک ہی چہرہ ہوتا ہے، اس کی روح اس کا جسم آپس میں ہم آہنگ ہوتے ہیں، اگر وہ مومن ہے تو اس کے تمام وجود سے ایمان کی صدا بلند ہوتی ہے اور اگر وہ منحرف ہے تو اس کا ظاہر وباطن انحراف کا مظہر ہے، لیکن جس کا ظاہر ایمان ہے اور باطن کفر کی لو دیتا ہے، یہ تو ایک قسم کی بیماری ہے اور ایسے لوگ چونکہ اپنی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کی وجہ سے لطف وہدایت کے مستحق نہیں ہیں، لہٰذا خداوندعالم انھیں ا ن کی حالت پر چھوڑدیتا ہے تاکہ ان کی بیماری میں اضافہ ہو ۔
واقعاً کسی معاشرے کے خطرناک ترین افراد یہی منافقین ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے بار ے میں انسان پر اپنی شرعی ذمہ داری واضح نہیں ہوتی، نہ وہ حقیقی دوست ہوتے ہیں اور نہ ظاہراً دشمن، مومنین کے وسائل سے استفادہ کرتے ہیں اور کفّار کے عقاب سے بھی مامون ہوتے ہیں، لیکن ان کے اعمال کفار سے بدتر ہیں ۔
ہم جانتے ہی کہ یہ ظاہر وباطن کے کی ناہماہنگی ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی، آخرکار پردے ہٹ جاتے ہیں اور ان کی بدباطنی ظاہر ہوجاتی ہے جیسا کہ ہم زیرِ بحث آیات اور ان کی شانِ نزول میں ملاحظہ کرچکے ہیں کہ ایک مسئلہ پیش آنے سے ان کی قلعی کھُل گئی اور ان کا خبث باطن ظاہر ہوگیا۔