۳۔ عقد مکاتبہ
وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ۳۲وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ۖ وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ ۚ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۳۳وَلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ وَمَثَلًا مِنَ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ ۳۴
اور اپنے غیر شادی شدہ آزاد افراد اور اپنے غلاموں اور کنیزوں میں سے باصلاحیت افراد کے نکاح کا اہتمام کرو کہ اگر وہ فقیر بھی ہوں گے تو خدا اپنے فضل و کرم سے انہیں مالدار بنادے گا کہ خدا بڑی وسعت والا اور صاحب هعلم ہے. اور جو لوگ نکاح کی وسعت نہیں رکھتے ہیں وہ بھی اپنی عفت کا تحفظ کریں یہاں تک کہ خدا اپنے فضل سے انہیں غنی بنا دے اور جو غلام و کنیز مکاتبت کے طلبگار ہیں ان میں خیر دیکھو تو ان سے مکاتبت کرلو بلکہ جو مال خدا نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ انہیں بھی دے دو اور خبردار اپنی کنیزوں کو اگر وہ پاکدامنی کی خواہشمند ہیں تو زنا پر مجبور نہ کرنا کہ ان سے زندگانی دنیا کا فائدہ حاصل کرنا چاہو کہ جو بھی انہیں مجبور کرے گا خدا مجبوری کے بعد ان عورتوں کے حق میں بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے. اور ہم نے تمہاری طرف اپنی کھلیِ ہوئی نشانیاں اور تم سے پہلے گزر جانے والوں کی مثال اور صاحبانِ تقویٰ کے لئے نصیحت کا سامان نازل کیا ہے.
ہم کہہ چکے ہیں کہ اسلام نے غلاموں کی تدریجی زندگی کا پروگرام دیا تھا، لہٰذا اسلام نے ہر موقع سے ان کی آزادی کے لئے فائدے اٹھانے کے لئے اقدام کیا ہے ان میں سے ایک ”مکاتبت“ کا طریقہ ہے، زیرِ بحث آیت میں ایک حکم کے طور پر اس کا ذکر آیا ہے ۔
”مکاتبہ“ ”کتابت“ کے مادے سے ہے اور کتابت بنیادی طور پر ”کُتب“ (بروزن ”کسب“) کے مادے سے جمع کرنے کے معنی میں ہے اور جو لکھنے کو ”کتابت“ کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان حروف اور الفاظ کو ایک عبارت میں جمع کردیتا ہے اور مکاتبت میں چونکہ آقا وغلام کے درمیان قرارداد لکھی جاتی ہے لہٰذا اسے مکاتبت کہتے ہیں ۔
”عقد مکاتبہ“ ایک قسم کی قرارداد ہے کہ جو دو افراد کے درمیان طے پاتی ہے اس میں غلام ذمہ دار ہوتا ہے کہ آزاد محنت مزدوری کے ذریعے مال مہیّا کرے اور اسے قابل عمل قسطوں میں اپنے آقا کو ادا کرے اور آزاد ہوجائے، آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ یہ ساری قسطیں مل کر غلام کی قیمت سے زیادہ ہونا چاہییں ۔
بعض وجوہ کی بناء پر غلام اگر قسطیں ادا کرنے سے قاصر ہو تو وہ قسطیں بیت المال سے یا زکوٰة کے ایک حصّے سے ادا کی جائیں گی تاکہ وہ آزاد ہوجائے، بعض فقہاء نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ اگر زکوٰة خود آقا پر واجب الادا ہو تو وہ غلام کے ذمہ اقساط کا حساب زکوٰة سے کرلے یہ معاہدہ عقدِلازم ہے اور طرفین میں سے کوئی بھی اسے توڑنے کا حق نہیں رکھتا، واضح ہے کہ اس پروگرام کے تحت بہت سے غلام حاصل کرسکیں گے اور جس مدّت میں انھیں کام کرکے اقساط ادا کرنا ہے اس میں وہ اپنے پاوٴں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوجائیں گے اور ان مالکوں کا بھی کوئی نقصان نہیں ہوگا اور غلاموں کی کمی کی وجہ سے وہ کوئی منفی ردّعمل بھی ظاہر نہیں کریں گے ۔
مکاتبت کے بارے میں بہت سے فروعی احکام بھی ہیں کہ جن کی تفصیل فقہی کتب میں متعلق باب میں دیکھی جاسکتی ہے ۔