۲۔ ”وَالصَّالِحِینَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَائِکُمْ“ کی تفسیر
وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ۳۲وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ۖ وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ ۚ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۳۳وَلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ وَمَثَلًا مِنَ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ ۳۴
اور اپنے غیر شادی شدہ آزاد افراد اور اپنے غلاموں اور کنیزوں میں سے باصلاحیت افراد کے نکاح کا اہتمام کرو کہ اگر وہ فقیر بھی ہوں گے تو خدا اپنے فضل و کرم سے انہیں مالدار بنادے گا کہ خدا بڑی وسعت والا اور صاحب هعلم ہے. اور جو لوگ نکاح کی وسعت نہیں رکھتے ہیں وہ بھی اپنی عفت کا تحفظ کریں یہاں تک کہ خدا اپنے فضل سے انہیں غنی بنا دے اور جو غلام و کنیز مکاتبت کے طلبگار ہیں ان میں خیر دیکھو تو ان سے مکاتبت کرلو بلکہ جو مال خدا نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ انہیں بھی دے دو اور خبردار اپنی کنیزوں کو اگر وہ پاکدامنی کی خواہشمند ہیں تو زنا پر مجبور نہ کرنا کہ ان سے زندگانی دنیا کا فائدہ حاصل کرنا چاہو کہ جو بھی انہیں مجبور کرے گا خدا مجبوری کے بعد ان عورتوں کے حق میں بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے. اور ہم نے تمہاری طرف اپنی کھلیِ ہوئی نشانیاں اور تم سے پہلے گزر جانے والوں کی مثال اور صاحبانِ تقویٰ کے لئے نصیحت کا سامان نازل کیا ہے.
یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیرِ بحث آیات میں جہاں غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کی شادی کرنے کے بارے میں فرمایا گیا ہے اور ایک عمومی حکم دیا گیا ہے وہاں جب غلاموں اور کنیزوں کی شادی کا ذکر آتا ہے تو اس کے ساتھ ”صالح“ ہونے کی شرط عائد کردی جاتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟
تفسیر المیزان کے موٴلف گرامی اور صاحبِ تفسیر صافی نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان میں سے جو شادی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن اگر معاملہ یونہی ہو تو پھر یہ شرط آزاد عورتوں اور مردوں کے لئے بھی ضروری ہے ۔
بعض دیگر نے کہا ہے کہ اس سے مراد اخلاق واعتقاد کے لحاظ سے صالح ہونا ہے کیونکہ اس سلسلے میں ”صالحین“ ایک خاص اہمیت کے حامل ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر غلاموں کے علاوہ دوسروں کے لئے یہ شرط کیوں عائد نہیں کی گئی۔
ہمارا خیال ہے کہ اس سے ایک اور چیز مراد ہے اور وہ یہ کہ اس دور میں تمدّنی، ثقافتی اور اخلاقی لحاظ سے غلام اور کنیزیں بہت پست تھیں انھیں مشترک زندگی کی ذمہ داری کا کوئی احساس نہ تھا اگر ایسی صورت حال میں ان کی شادی کردی جاتی تو وہ آسانی سے شریکِ حیات کو چھوڑ کر اسے پریشان وسرگرداں چھوڑ دیتے ان کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ اخلاقی صلاحیّت رکھتے ہیں تو ان کی شادی کے لئے اقدام کیا جائے تاکہ وہ ازدواجی زندگی کے اہل ہوسکیں اور پھر ان کی شادی کی جائے ۔