سوره نور / آیه 35 - 38
اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُورٌ عَلَىٰ نُورٍ ۗ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۳۵فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ۳۶رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ ۳۷لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۳۸
اللرُ آسمانوں اور زمین کا نور ہے .اس کے نور کی مثال اس طاق کی ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو اور قندیل ایک جگمگاتے ستارے کے مانند ہو جو زیتون کے بابرکت درخت سے روشن کیا جائے جو نہ مشرق والا ہو نہ مغرب والا اور قریب ہے کہ اس کا روغن بھڑک اٹھے چاہے اسے آگ مس بھی نہ کرے یہ نور بالائے نور ہے اور اللہ اپنے نور کے لئے جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے اور وہ ہر شے کا جاننے والا ہے. یہ چراغ ان گھروں میں ہے جن کے بارے میں خدا کا حکم ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے کہ ان گھروں میں صبح و شام اس کی تسبیح کرنے والے ہیں. وہ مرد جنہیں کاروبار یا دیگر خرید و فروخت ذکر خدا, قیام نماز اور ادائے زکٰوِ سے غافل نہیں کرسکتی یہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن کے ہول سے دل اور نگاہیں سب الٹ جائیں گی. تاکہ خدا انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزا دے سکے اور اپنے فضل سے مزید اضافہ کرسکے اور خدا جسے چاہتا ہے رزق بے حساب عطا کرتا ہے.
۳۵ اَللهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ مَثَلُ نُورِہِ کَمِشْکَاةٍ فِیھَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِی زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ کَاٴَنَّھَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَکَةٍ زَیْتُونِةٍ لَاشَرْقِیَّةٍ وَلَاغَرْبِیَّةٍ یَکَادُ زَیْتُھَا یُضِیءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ نُورٌ عَلیٰ نُورٍ یَھْدِی اللهُ لِنُورِہِ مَنْ یَشَاءُ وَیَضْرِبُ اللهُ الْاٴَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ
۳۶ فِی بُیُوتٍ اٴَذِنَ اللهُ اٴَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیھَا اسْمُہُ یُسَبِّحُ لَہُ فِیھَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
۳۷ رِجَالٌ لَاتُلْھِیھِمْ تِجَارَةٌ وَلَابَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِیتَاءِ الزَّکَاةِ یَخَافُونَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیہِ الْقُلُوبُ وَالْاٴَبْصَارُ
۳۸ لِیَجْزِیَھُمْ اللهُ اٴَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَیَزِیدَھُمْ مِنْ فَضْلِہِ وَاللهُ یَرْزُقُ مَنْ یَشَاءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ
ترجمہ
۳۵۔ الله آسمانوں او زمین کا نور ہے، نور خدا کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی (روشن) چراغ کسی طاق میں رکھا ہو اور وہ چراغ فروزاں ستارے کی طرح شفاف اور درخشندہ فانوس میں ہو اور اس چراغ کو روشن کرنے کے لئے تیل، زیتون کے ایسے مبارک درخت سے لیا گیا ہو کہ جو نہ شرقی ہے نہ غربی ہے (اس کا روغن ایسا صاف اور ایسا خالص ہو کہ) اگرچہ آگ اسے چھوئے بھی نہ لیکن وہ روشن ہوجاتا ہو، نور کے اوپر نور ہے الله جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت کرتا ہے اور وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے اور وہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے ۔
۳۶۔ (یہ روشن چراغ) ایسے گھروں میں ہے کہ جن کے متعلق الله نے حکم دیا ہے کہ ان کی دیواریں بلند کی جائیں (تاکہ وہ شیطانوں اور ہوس پرستوں سے امان میں ہوں) ایسے گھر کہ جن میں الله کا نام لیا جاتا ہے اور جن میں صبح وشام اس کی پاکیزگی بیان ہوتی ہے ۔
۳۷۔ ایسے جوانمرد کہ جنھیں تجارت اور خرید وفروخت یادِ خدا، قیامِ نماز اور ادائے زکوٰة سے غافل نہیں کرسکتا وہ اس دن سے ڈرتے ہیں کہ جب دل اور آنکھیں زیر وزبر ہوجائیں گی۔
۳۸۔ مقصد یہ ہے کہ الله انھیں ان کے بہترین اعمال کی جزا دے اور اپنے فضل سے اس پر اضافہ بھی کردے اور الله جسے چاہتا ہے رزقِ بے حساب دیتا ہے (اور اپنی بے انتہا نعمات سے نوازتا ہے) ۔