Tafseer e Namoona

Topic

											

									  جزا اور سزا ، حساب اور استحقاق کے مطابق ہوگی

										
																									
								

Ayat No : 21-25

: النور

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۚ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَىٰ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۲۱وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۲۲إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۲۳يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۲۴يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ ۲۵

Translation

ایمان والو شیطان کے نقش قدم پر نہ چلنا کہ جو شیطان کے قدم بہ قدم چلے گا اسے شیطان ہر طرح کی برائی کا حکم دے گا اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں کوئی بھی پاکباز نہ ہوتا لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک و پاکیزہ بنادیتا ہے اور وہ ہر ایک کی سننے والا اور ہر ایک کے حال هه دل کا جاننے والا ہے. اور خبردار تم میں سے کوئی شخص بھی جسے خدا نے فضل اور وسعت عطا کی ہے یہ قسم نہ کھالے کہ قرابتداروں اور مسکینوں اور راسِ خدا میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ کوئی سلوک نہ کرے گا. ہر ایک کو معاف کرنا چاہئے اور درگزر کرنا چاہئے کیا تم یہ نہیں چاہتے ہو کہ خدا تمہارے گناہوں کو بخش دے اور اللہ بیشک بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے. یقینا جو لوگ پاکباز اور بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت دونوں جگہ لعنت کی گئی ہے اور ان کے لئے عذابِ عظیم ہے. قیامت کے دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں سب گواہی دیں گے کہ یہ کیا کررہے تھے. اس دن خدا سب کو پورا پورا بدلہ دے گا اور لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا یقینا برحق اور حق کا ظاہر کرنے والا ہے.

Tafseer

									صراحتاً تو یہ آیات واقعہٴ افک کے بارے میں نہیں ہیں تاہم انھیں اسی بحث کا تتمہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔ یہاں تمام مومنین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ بعض اوقات شیطانی افکار واعمال تردیجی طور پر غیر محسوس طریقے سے اثر انداز ہوجاتے ہیں ۔ اگر شروع ہی میں ان پر کنٹرول نہ کیا جائے تو پھر انسان اس وقت متوجہ ہوتا ہے جب معاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے ۔ لہٰذا جب گناہوں اور بدکاریوں کے وسوسوں کی ابتداء ہی ہو تو ان کا مقابلہ کرنا چاہیے تاکہ وہ وسعت اختیار نہ کرجائیں ۔
زیرِ نظر پہلی آیت میں روئے سخن مومنین کی طرف ہے ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان لانے والو! شیطان کے نقشِ قدم پر مت چلو کہ کوئی بھی اس کی پیروی کرے گا وہ گمراہی، بدکاری اور نافرمانی کی طرف کھینچتا چلا جائے گا کیونکہ شیطان بدکاری وبرکائی کی دعوت دیتا ہے (یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ وَمَنْ یَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ فَإِنَّہُ یَاٴْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ)(1) ۔
”شیطان“ اپنے وسیع تر معنی میں ہر موذی، تباہ کار، ویران گر اور ضرر رساں وجود کو کہتے ہیں ۔ اس آیت میں اس لفظ کو اگر اس معنی میں لیا جائے تو پوری زندگی کے تمام پہلووٴں کے لئے اس تنبیہ کی وسعت واضح ہوجائے گی۔ ایک پاکباز مومن کبھی بھی یک دم برائی کی آغوش میں نہیں پڑجاتا بلکہ قدم بقدم جاتاہے مثلاً:
پہلا قدم: آلودہ گناہ افراد سے ملنا جلنا اور ان سے دوستی۔
دوسرا قدم: ان کی محفلوں میں شرکت۔
تیسرا قدم: گناہ کے بارے میں سوچنے لگنا۔
چوتھا قدم: مشکوک ومشتبہ کام کرنے لگنا۔
پانچواں قدم: گناہان صغیرہ کا ارتکاب۔
بالکل ایسے جیسے انسان اپنی باگ ڈور کسی گناہ گار مجرم کے حوالے کردے جو قدم بقدم اسے ہلاکت کے گھڑے کی طرف لے جائے تاکہ انسان اس میں گرفتار ہوجائے، جی ہاں! یہ ہیں ”خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ“(2). 
اس کے بعد راہِ ہدایت کی طرف انسانوں کی طرف رہبری کی عظیم نعمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: اگر فضل ورحمتِ الٰہی تم پر نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہوتا مگر الله جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے اور خدا تو سننے والا اور جاننے والا ہے ( وَلَوْلَافَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ مَا زَکَا مِنْکُمْ مِنْ اٴَحَدٍ اٴَبَدًا وَلَکِنَّ اللهَ یُزَکِّی مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ) ۔
اس میں شک نہیں کہ خدا کا فضل ورحمت ہی ہے کہ جو انسانوں کی برائیوں، انحرافوں اور گناہوں سے نجات کا سبب ہے، کیونکہ ایک تو اس نے انسان کو نعمتِ عقل سے نوازا ہے اور پھر رسول بھیجے ہیں اور ان کے ساتھ یہ احکام بھی بطریق وحی نازل فرمائے ہیں، علاوہ ازیں اس کی خاص توفیقات اور غیبی امداد بھی ہے کہ جو اہل اور مستحق انسانوں کے شاملِ حال ہوتی ہے، یہ سب پاکیزگی اور تزکیہ کے نہایت اہم حامل ہیں ۔
جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے ”من یشا ء“ کا مطلب بلاوجہ اور بے بنیاد نہیں ہے بلکہ جب تک بندوں کی طرف سے کوشش نہ ہو تب تک الله کی طرف سے ہدایت ونعمت پذیر نہیں ہوتی۔ جو شخص اس راہ کا طالب ہوتا ہے، اس راستے پر قدم رکھتا ہے اور جہاد کرتا ہے الله بھی اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے، اسے شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھتا ہے اور منزل مقصود تک پہنچاتا ہے ۔
دوسرے لفظوں میں (الله کا فضل ورحمت کبھی تشریعی صورت میں ہوتا ہے اور کبھی تکوینی صورت میں، تشریعی صورت میں اس طرح سے کہ وہ انبیاء کو مبعوث کرتا ہے، آسمانی کتابیں نازل کرتا ہے، احکام بیان کرتا ہے اور نذرات وبشارت کی حکمت اختیار کرتا ہے جبکہ روحانی اور غیبی امداد اس کے فضل ورحمت کا تکوینی طریقہ ہے ۔
”من یشاء“ سے یوں لگتا ہے کہ زیرِ بحث آیات کا اشارہ دوسرے طریقے کی طرف ہے ۔
ضمناً توجہ رہے کہ ”زکوة“ اور ”تزکیة“ دراصل نشو ونما پانے کے معنی میں ہے لیکن بہت سے مواقع پر یہ لفظ پاک ہونے اور پاک کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے دونوں معانی کی بازگشت ایک ہی بنیادی مفہوم کی طرف ہو کیونکہ جب تک کوئی چیز موانع، رکاوٹوں، رذائل اور خرابیوں سے پاک نہیں ہوتی اس کے لئے نشو ونما اور رشد وارتقاء ممکن ہی نہیں ۔
بعض مفسرین نے زیرِ بحث دوسری آیت کے لئے ایک شان نزول بیان کی ہے کہ جس سے اس آیت کا گزشتہ آیات سے تعلق واضح ہوتا ہے ۔ مذکورہ شانِ نزول کچھ یوں ہے:
یہ آیت چند صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی کہ جنھوں نے واقعہٴ افک کے بعد قسم کھائی تھی کہ جو لوگ اس واقع میں ملوث تھے اور اس عظیم تہمت کو پھیلانے میں سرگرم تھے ان میں سے کسی کی مالی امداد نہیں کریں گے اور ان میں سے کسی سے ہمدردی نہ کریں گے ۔
اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں اس شدّت عمل سے سختی سے روک دیا گیا اور عفو ودرگزر کا حکم دیا گیا۔
یہ شانِ نزول قرطبی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس اور ضحاک کے حوالے سے نقل کی ہے نیز مرحوم طبرسی نے اسے ابن عباس اور دیگر افراد سے نقل کیا ہے اور یہ شانِ نزول عمومی پہلو رکھتی ہے ۔ لیکن کچھ اہل سنّت مفسرین کا اصرار ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعہ افک کے بعد انھوں نے مسطح بن اثاثہ کی مالی امداد بندکردی تھی۔ مسطح ان کی خالہ یا بہن کا بیٹا تھا، لیکن آیت میں تمام جمع کی ضمیریں استعمال ہوئی ہیں، جمع کے یہ صیغے نشاندہی کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے اس واقعے کے مجرمین کی مالی امداد بند گردی تھی اور الله تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے انھیں کام سے منع کیا، بہرحال ہم جانتے ہیں کہ آیاتِ قرآن شانِ نزول ہی سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ ان کا دامن وسیع ہے اور ان کا پیغام قیامت تک کے مومنین کے لئے ہے، تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے مواقع پر احساسات وجذبات کی اس شدّت میں گرفتار نہ ہوں اور گنہگاروں کی لغزش اور غلطیوں پر ایسے فیصلے نہ کریں ۔
اس شانِ نزول کی طرف توجہ کے ساتھ ہم آیت کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں:
قرآن کہتا ہے: جو لوگ مالی لحاظ سے خوشحال ہیں وہ یہ قسم نہ کھالیں (اور فیصلہ نہ کرلیں) کہ اپنے رشتہ داروں، محتاجوں اور راہِ خدا کے مہاجروں کی امداد نہیں کریں گے (وَلَایَاٴْتَلِ اٴُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَةِ اٴَنْ یُؤْتُوا اٴُوْلِی الْقُرْبیٰ وَالْمَسَاکِینَ وَالْمُھَاجِرِینَ فِی سَبِیلِ اللهِ) ۔
اس آیت کے الفاظ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث بعض افراد راہِ خدا میں ہجرت کرنے والے بھی تھے جو منافقین کے دھوکے میں آگئے اور ان کے سابقہ کارنامے کی وجہ سے الله نے اجازت دی کہ انھیں اسلامی معاشرے سے دھتکار دیا جائے اور ان کے استحقاق سے بڑھ ان کے خلاف فیصلہ کیا جائے ۔
ضمناً ”یَاٴْتَل“ ”الیہ “ (بروزن ”عطیہ“) کے مادے سے قسم کھانے کے معنی میں ہے یا پھر ”الو“ (بروزن ”دلو“) کے مادے سے کوتاہی کرنے اور ترک کرنے کے معنی میں ہے، لہٰذا پہلے معنی کے اعتبار سے اس آیت میں ایسی امداد روکنے کی قسم کھانے سے منع کیا گیا ہے(۳) ۔
دوسرے معنی کے لحاظ سے اس عمل میں کوتاہی اوراسے ترک کرنے سے ممانعت کی گئی ہے ۔
اس کے بعد مسلمانوں کو ایسے نیک کام جاری رکھنے کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے: انھیں معاف کردینا چاہیے اور چشم پوشی کرنا چاہیے (وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا) ۔
کیا تمھیں پسند نہیں کہ الله تم سے درگزر کرے (اٴَلَاتُحِبُّونَ اٴَنْ یَغْفِرَ اللهُ لَکُمْ) ۔
تو جیسے تم چاہتے ہو کہ الله تمھاری لغزشیں معاف کردے ایسے ہی دوسروں کی کوتاہیوں سے بھی صرفِ نظر کرلیا کرو ۔
اور الله تو غفور ورحیم ہے (وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ) ۔
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ایک طرف تو ایسے تند وتیز لہجے میں واقعہٴ افک کے ذمہ داروں کی مذمت کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف افراط پسند افراد کو تجاوز کرنے سے روکا گیا ہے اور ایسے ہی تین جملوں کے ذریعے ان کے احساسات وجذبات کو کنٹرول کیا گیا ہے کہ جن میں سے ہر ایک دوسرے سے وسیع تر اور جاذب تر ہے ۔
پہلے عفو ودرگزر کا حکم دیا گیا ہے، پھر کہا گیا تم خود نہیں چاہتے کہ الله تمھیں بخش دے پس تم بھی بخش دو ۔
اور آخر میں الله کی دو صفات غفو ورحیم کا ذکر کرکے تاکید مزید کی گئی ہے ۔
یہ اس طرح اشارہ ہے کہ حکمِ خدا سے بڑھ کر تمھاری تپش نہیں ہوسکتی، الله کہ جو اس حکم کا اصلی مالک ہے وہ غفو ورحیم ہے، وہ حکم دیتا ہے کہ امداد نہ روکو، اب تم کیا کہتے ہو ۔
اس میں شک نہیں کہ جو مسلمان واقعہٴ افک میں ملوث ہوگئے تھے وہ تمام اس کی سازش میں شریک نہ تھے صرف چند مسلمان نما منافقین اس کے بانی تھے اوز یادہ تر مسلمان ان کے دھوکے میں آکر ان پیچھے لگ گئے تھے، اس میں شک نہیں کہ یہ سب ذمہ دار اور گنہگار تھے تاہم ان دونوں گروہوں کے درمیان بہت فرق تھا۔ لہٰذا سب سے ایک جیسا سلوک نہیں کیا جاسکتا۔
بہرحال ان آیات میں آج اور کل کے مسلمان کے لئے بہت بڑا درس ہے کہ اگر کچھ لوگ گناہ ولغزش کا شکار ہوجائیں تو انھیں سزا دیتے ہوئے حدّاعتدال سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دشمنوں کے دامن میں جاگریں اور ان کی صف میں جاشامل ہوں ۔
یہ آیات درحقیقت اسلام کی قوتِ جاذبہ اور قوتِ دافعہ کے اعتدال کی عکاسی کرتی ہیں، آیات افک پہلے مرحلے میں تے لوگوں کی ناموس پر تہمت لگانے والوں کے لئے سخت سزا کو بیان کرتی ہیں اور اس طرح دافعہ کی عظیم قوت کا مظہر ہیں اور دوسرے مرحلے میں عفو ودرگزر اور الله کے غفور ورحیم ہونے کا تذکرہ ہے اس مقام پر قوت جاذب کا مظہر ہیں ۔
اس کے بعد پھر قذف کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور موضوع پھر پاکدامن عورتوں کی ناموس پر تہمت لگانے کی طرف لوٹتا ہے، قطعی اور اٹل فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جو لوگ پاکدامن اور ہرگناہ سے بے خبر مومن عورتوں پر ناروا تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا وآخرت میں رحمتِ الٰہی سے دور ہیں اور عذاب عظیم ان کے انتظار میں ہے (إِنَّ الَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ) ۔
اس آیت میں دراصل عورتوں کی تین صفات بیان کی گئی ہیں، ان میں سے ہر صفت اس ظلم کی اہمیت پر ایک دلیل ہے کہ جو ان پر تہمت لگاکر کیا گیا ہے ۔
”محصنات“ پاکدامن عورتیں
”غافلات“ ہر قسم کے گناہ سے دور اور
”موٴمنات“ باایمان عورتیں
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی پاکباز عورتوں کی طرف ناروا نسبتیں دینا کس قدر ظالمانہ اور بزدلانہ فعل ہے اور عذاب عظیم کا باعث ہے (۴) ۔
ضمناً یہ بات بھی کہہ دی جائے کہ ”غافلات“ ایک جاذب نظر اور عمدہ تعبیر ہے کہ جو ان کی ہر قسم سے انحراف اور بے عفتی سے انتہائی پاکیزگی کی غماز ہے، یعنی وہ جنسی قباحتوں سے اس قدر بے اعتنا ہیں کہ گویا انھیں ان کی خبر تک نہیں کیونکہ بعض اوقات گناہوں کے بارے میں انسان کی کیفیت ایسی ہوجاتی ہے کہ اصلاً ان کا تصور تک اس کی فکر ونظر سے نکل جاتا ہے اور ان کی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ گویا ایسا کوئی عمل وجود ہی نہیں رکھتا اور یہ تقویٰ کا اعلیٰ مرحلہ ہے ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ ”غافلات“ سے مراد ایسی عورتیں ہیں کہ جنھیں خبر بھی نہیں کہ ان پر ایسی ناروا تہمتیں لگائی گئی ہیں لہٰذا وہ اپنا دفاع تک نہیں کرسکتیں، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو زیرِ بحث آیت ایک نئے مطلب کی طرف اشارہ کررہی ہے، گویا یہ ایک اور طرح کی تہمت ہے جبکہ گزشتہ آیات میں ایسے تہمت لگانے والوں کا ذکر تھا کہ جو جانے پہچانے اور انھیں سزا دی گئی تھی۔ لیکن اب یہاں ان تہمت ساز افراد کے بارے میں گفتگو ہے کہ جنھوں نے مخفی طور پر یہ حرکت کی اور اپنے آپ کو حدّ شرعی سے بچائے رکھا۔ قرآن کہتا ہے کہ ایسے لوگ یہ سمجھیں کہ اس عمل پر وہ ہمیشہ الله کی سزا سے بچے رہیں گے بلکہ خدا اس دنیا میں انھیں اپنی رحمت سے دور رکھے گا اور آخرت میں بھی ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ۔
یہ آیت اگرچہ واقعہٴ افک کے بعد آئی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس واقعے سے غیر مربوط بھی نہیں یہ بھی ان تمام آیات کی طرح ہے کہ جو خاص مواقع پر نازل ہوئیں مگر ان کا مفہوم عمومی ہوتا ہے، یہ آیتیں معیّن موقع کے لئے نہیں ہیں ۔
تعجب کی بات ہے کہ تفسیر کبیر میں فخر رازی نے اور بعض دیگر مفسرین نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اس آیت کے مفہوم کو ازواج پیغمبر پر تہمت لگانے کے ساتھ محدود سمجھا جائے اور اس گناہ کو سرحدِکفر میں قرار دیا جائے، اس آیت میں جو لفظ ”لعن“ آیا ہے اسے انھوں نے اپنے اس دعویٰ کے لئے دلیل قرار دیا ہے ۔
حالانکہ تہمت لگانا اگرچہ بہت بڑا گناہ ہے اور اگر یہ تہمت ازواج پیغمبر پر لگائی جائے تو بہ گناہ کہیں بڑا ہوجاتا ہے تاہم تنہا یہ گناہ موجب کفر نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے ساتھ رسولِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے وہ سلوک نہیں کیا جو مرتد کے ساتھ کیا جاتا ہے بلکہ بعد والی آیتوں میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ ان پر حد سے زیادہ سختی کرنے سے منع فرمایا گیا اور اگر کفر کا مسئلہ ہوتا تو یہ بات اس سے مناسبت نہیں رکھتی تھی۔
رہی بات ”لعن“ (لعنت) کی تو اس سے مراد رحمتِ خدا سے دوری ہے کہ جو کافروں اور گناہانِ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والوں پر صادق آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انہی آیات میں کہ جو حد قذف کے بارے میں گزری ہیں ”لعان“ سے مربوط احکام میں دو مرتبہ جھوٹ بولنے والوں کے لئے ”لعن“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔
مشہور حدیث ہے کہ:
لعن الله فی الخمر عشر طوائف.....
شراب کے بارے میں الله نے دس گروہوں پر لعنت کی ہے ۔
اگلی آیت میں تہمت لگانے والوں کی بارگاہِ الٰہی میں کیفیت بیان کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: اس روز ان پر عذابِ عظیم ہوگا کہ جس دن ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاوٴں ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے خلاف گواہی دیں گے (یَوْمَ تَشْھَدُ عَلَیْھِمْ اٴَلْسِنَتُھُمْ وَاٴَیْدِیھِمْ وَاٴَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ) ۔
وہ نہیں چاہیں گے مگر ان کی زبان حرکت میں آجائے گی اور حقائق بیان کرے گی، جب قطعی دلائل وشواہد سامنے آجائیں گے تو یہ مجرم نہ چاہتے ہوئے بھی صراحت سے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے اور خود تمام کاموں کو فاش کردیں گے اس لئے کہ انھیں انکار کی کوئی گنجائش سجھائی نہ دے گی۔
ان کے ہاتھ پاوٴں بھی بولیں گے یہاں تک کہ قرآنی آیات کے مطابق ان کے بدن کا چمڑا بھی کلام کرے گا، گویا یہ عالم ہوگا جیسے انسان کی ساری آوازیں ٹیپ ریکارڈ ہوچکی ہیں، اس کی ساری زندگی کے گناہوں کی فلم بن چکی ہے، جی ہاں، وہ دن کہ جسے ”یوم البروز“ کہتے ہیں (جو تمام بھیدوں کے آشکار ہوجانے کا دن ہے) اس روز یہ سب کچھ آشکار ہوجائے گا۔
بعض قرآنی آیات میں روزِ قیامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ:
<الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلیٰ اٴَفْوَاہِھِمْ وَتُکَلِّمُنَا اٴَیْدِیھِمْ وَتَشْھَدُ اٴَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ
آج ہم ان کی زبان پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ پاوٴں ہم سے گفتگو کریں گے کہ جن کے ذریعے یہ کام کرتے ہیں ۔(یٰسین/۶۵(
ایسی آیات زیرِ بحث آیات کے منافی نہیں ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ پہلے تو زبان خاموش ہوجائے اور باقی اعضاء گواہی دیں اور جب ہاتھ پاوٴں کی گواہی سے حقائق آشکار ہوجائیں تو پھر زبان کو اذنِ کلام مل جائے گا اور پھر جو کچھ کہنا ہو وہ کہے اور گناہوں کا اعتراف کرے ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اس دن خدا انھیں بے کم وکاست ان کی حقیقی جزاء انھیں دے گا (یَوْمَئِذٍ یُوَفِّیھِمْ اللهُ دِینَھُمَ الْحَقَّ) ۔
اور اس دن وہ جان لیں گے کہ الله حق مبین ہے (وَیَعْلَمُونَ اٴَنَّ اللهَ ھُوَ الْحَقُّ الْمُبِینُ) ۔
اگر آج ، اس دنیا میں انھیں پروردگار کی حقانیت کے بارے میں کوئی شک ہے یا آج لوگوں کی گرمراہی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں تو اس دن کی عظمت، قدرت اور حقانیت کی نشانیاں اتنی واضح ہوں گی کہ سخت ترین ہٹ دھرم افراد بھی اعتراف پر مجبور ہوجائیں گے ۔
1 .”وَمَنْ یَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ فَإِنَّہُ یَاٴْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ“ یہ جملہ درحقیقت محذوف رکھتا ہے (جزائے شرط) اور اس کی تقدیر یوں ہے:
”ومن یتتبع خطوات الشیطان ارتکب الفحشاء والمنکر فانّہ یاٴمر بھما“
جو شخص بھی شیطان کی پیروی کرے گا وہ بدکاریوں اور برائیوں کا مرتکب ہوگا کیونکہ وہ انہی چیزوں کا حکم دیتا ہے
)روح المعانی، ج۱۸، ص۱۱۲، زیرِ بحث آیات کے ذیل میں(
توجہ رہے کہ ”فَإِنَّہُ یَاٴْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ“ جزائے شرط نہیں ہوسکتا۔
۲ ۔ ”فحشاء“ اور ”منکر“ کے درمیان فرق کے سلسلے میں ہم تفسیر نمونہ کی گیارہویں جلد میں سورہٴ نحل کی آیت۹ کے ذیل میں بحث کرچکے ہیں ۔
۳۔ اس صورت میں لفظ ”لا“ کو ”یوٴتو“ سے مقدر مانا جائے گا اور تقدیر یوں ہوگی: ”ولا یاٴتل.... اٴن لایوٴتوا“
۴ ۔ المیزان، زیرِ بحث آیات کے ذیل میں، ج۱۵، ص۱۲۲.