۳۔ گناہ کو معمولی سمجھنا
يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۱۷وَيُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۱۸إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۱۹وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ۲۰
اللرُتم کو نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہو تو اب ایسی حرکت دوبارہ ہرگز نہ کرنا. اور اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیوں کو واضح کرکے بیان کرتا ہے اور وہ صاحبِ علم بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی ہے. جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ صاحبانِ ایمان میں بدکاری کا چرچا پھیل جائے ان کے لئے بڑا دردناک عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ سب کچھ جانتا ہے صرف تم نہیں جانتے ہو. اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی اور وہ شفیق اور مہربان نہ ہوتا.
زیرِ بحث آیات میں جہاں برائیاں پھیلانے جیسے گناہ کی مذمت کی گئی ہے وہاں اس گناہ کو معمولی سمجھنے کی بھی مذمت کی گئی ہے، واقعاً گناہ کو معمولی اور چھوٹا سمجھنا بذاتِ خود ایک گناہ ہے ۔ جو شخص گناہ کرتا ہے پھر اسے یہ خیال ستاتا ہے کہ اس سے بہت برا کام ہوگیا اور وہ اپنے کام پر بہت ناراحت ہوتا ہے ۔ ایسا شخص ہی توبہ کی طرف مائل ہوتا ہے لیکن جو شخص اپنے گناہ کو معمولی سمجھتا ہے اور اسے اہمیت نہیں دیتا یہاں تک کہ کہہ گزرتا ہے: کیا ہوا اگر میں نے یہ گناہ کیا ہے؟
اس شخص نے بہت خطرناک راستہ اختیار کرلیا ہے اور اس خیال کے باعث وہ گویا مسلسل گناہ جاری کھے ہوئے ہے ۔ اسی بناء پر ایک حدیث میں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اشدّ الذنوب ما استھان بہ صاحبہ“.
”سب سے بڑا گناہ وہ ہے کہ جسے انجام دینے والا معمولی سمجھے“(1)۔
1۔ نہج البلاغہ، کلمات قصار، نمبر۳۴۸.