Tafseer e Namoona

Topic

											

									  بھلائیوں میں سبقت کرنے والے

										
																									
								

Ayat No : 55-61

: المؤمنون

أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ ۵۵نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ ۚ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ ۵۶إِنَّ الَّذِينَ هُمْ مِنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُشْفِقُونَ ۵۷وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ ۵۸وَالَّذِينَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُونَ ۵۹وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ ۶۰أُولَٰئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ ۶۱

Translation

کیا ان کا خیال یہ ہے کہ ہم جو کچھ مال اور اولاد دے رہے ہیں. یہ ان کی نیکیوں میں عجلت کی جاری ہے . نہیں ہرگز نہیں انہیں تو حقیقت کا شعور بھی نہیں ہے. بیشک جو لوگ خوف پروردگار سے لرزاں رہتے ہیں. اور جو اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں. اور جو کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہیں بناتے ہیں. اور وہ لوگ جو بقدر امکان راسِ خدا میں دیتے رہتے ہیں اور انہیں یہ خوف لگا رہتا ہے کہ پلٹ کر اسی کی بارگاہ میں جانے والے ہیں. یہی وہ لوگ ہیں جو نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہیں اور سب کے آگے نکل جانے والے ہیں.

Tafseer

									گذشتہ آیات میں ان مختلف ہٹ دھرم متعصّب اور خود پسند گروہوں کے بارے میں گفتگو کی گئی تھی کہ جو صرف اپنے عقائد سے چمٹے رہتے ہیں، انہی میں مگن اور خوش رہتے ہیں اور جنھوں نے تحقیق وجستجو کا ہر راستہ اپنی عقل کے لئے بند رکھا ہے، زیرِ نظر آیات میں ان کے بعض متکبرانا خیالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کیا ان کا گمان ہے کہ ہم نے جو انھیں مال و اولاد دی ہے (اٴَیَحْسَبُونَ اٴَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہِ مِنْ مَالٍ وَبَنِینَ) ۔
یہ اس لئے ہے کہ ہم نے بڑی تیزی کے ساتھ ان کے لئے بھلائیوں کے دروازے کھول دیئے ہیں (نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرَاتِ) ۔
کیا وہ زیادہ مال واولاد کو اپنی حقانیت کی دلیل خیال کرتے ہیں اور اسے بارگاہِ الٰہی ہیں قرب وعظمت کی برہان سمجھتے ہیں؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے”بلکہ وہ نہیں سمجھتے ہیں“ (بَل لَایَشْعُرُونَ) ۔
وہ نہیںسمجھتے کہ یہ مال و اولاد کی فراوانی در حقیقت ان کے لئے ایک طرح سے عذاب وسزا کی تمہید ہے، وہ نہیں جانتے کہ خدا چاہتا ہے کہ انھیں ناز ونعمت میں غرق کردے تاکہ جب عذاب الٰہی میں گرفتار ہو تو یہ عذاب برداشت کرنا ان کے لئے اور بھی سخت ہوجائے کیونکہ اگر انسان پر نعمت کے دروازے بند ہوں اور اس میں مشکلات گورا کرنے کی صلاحیّت پیدا ہوجائے تو پھر سزا اس کے لئے زیادہ سخت نہیں ہوں معنیٰ اور اگر کوئی ناز ونعمت کی زندگی گزار رہا ہو اور پھر اُسے کسی تاریک وحشتناک زندان میں ڈال دیا جائے تو یہ اُس کے لئے انتہائی سخت مرحلہ ہوگا ۔
علاوہ ازیں نعمت کی یہ فراوانی ایسے انسان کی آنکھوں پر غفلت وغرور کے پردوں کو زیادہ ضخیم کردیتی ہے، یہاں تک کہ اُسے واپسی کی راہ سجھائی نہیں دیتی، اس چیز کو قرآن میں ”استدراج در نعمت“ قرار دیا گیا ہے (1) ۔ 
ضمناً ”نمد“ ”امداد“ اور ”مد“ کے مادہ سے کسی چیز کے نقصان اور کمی کو پورا کرنے اور اس کے خاتمے کو روکنے کے معنیٰ میں ہے ۔
غفلت میں پڑے ہوئے ان خود پسند لوگوں کے خیالات کی نفی کے بعد مومنین اور اچھائیوں میں تیزی کرنے والوں کے بارے میں چند آیات میں ان کے بنیادی اوصاف بیان کئے گئے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو اپنے پروردگار کے خوف سے لرزاں ہیں (إِنَّ الَّذِینَ ھُمْ مِنْ خَشْیَةِ رَبِّھِمْ مُشْفِقُونَ(
یہ بات قابل توجہ ہے کہ ”خشیہ“ ہر قسم کے خوف کو نہیں کہتے بلکہ یہ وہ خوف ہے جن میں تعظیم واحترام شامل ہو ”مشفق“ ، ”اشفاق“ ”شفق“ کے مادہ سے ہے، یہ ایسی روشنی کے معنیٰ میں ہے جس میں تاریکی ملی ہوئی ہو اور اس سے مراد ایسا خوف ہے کہ جس میں محبّت واحترام کی آمیزش ہو ”خشیہ“ زیادہ قلبی اور داخل پہلو رکھتی ہے اور ”اشفاق“ عملی پہلو کے لئے ہے، آیت میں ان دونوں کا ذکر علت ومعلول کے حوالے سے ہے، درحقیقت قرآن فرماتا ہے کہ وہ ایسے لوگ کہ جن کے دلوں میں عظمتِ خدا کی آمیزش رکھنے والا خوف جاگزیں ہے اور اس کے آثار سے پرہیز کرنے اور ذمہ داریاں انجام دینے پر اُبھارتا ہے ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا:وہ لوگ جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں (وَالَّذِینَ ھُمْ بِآیَاتِ رَبِّھِمْ یُؤْمِنُونَ) ۔
آیات پروردگار پر ایمان کے بعد اُسے ہر قسم کی شبیہ وشریک سے پاک سمجھنے کا مرحلہ آتا ہے، ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے بارے میں شرک نہیں کرتے (وَالَّذِینَ ھُمْ بِرَبِّھِمْ لَایُشْرِکُونَ) ۔
درحقیقت شرک کی نفی آیاتِ الٰہی پر ایمان لانے کا نتیجہ ہے، دوسرے لفظوں میں آیاتِ الٰہی پر ایمان اس کی ”صفاتِ ثبوتی“ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور شرک کی نفی ”صفات سلبی“ کی طرف اشارہ ہے، بہرحال اس جُملے میں ہر قسم کے شرک کی نفی موجود ہے چاہے وہ جلی ہو چاہے خفی ۔
اس کے بعد قیامت پر ایمان کا ذکر ہے، قیامت کے بارے میں سچّے مومنین خاص توجہ رکھتے ہیں، ایسی توجہ کہ جو عمل میں انھیں پوری طرح کنٹرول کرتی ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ کہ جو لوگوں اور الله کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہیں، اطاعت بجالانے میں اپنی پوری کوشش کرتے ہیں اور ان کے دل اس خیال سے ڈرتے رہتے ہیں آخرکار انھیں اپنے رب کی طرف لوٹ جانا ہے (وَالَّذِینَ یُؤْتُونَ مَا آتَوا وَقُلُوبُھُمْ وَجِلَةٌ اٴَنَّھُمْ إِلَی رَبِّھِمْ رَاجِعُونَ) ۔
یہ لوگ کوتاہ فکر لوگوں کی طرح نہیں ہیں کہ جو ایک چھوٹا سا عمل انجام دے کہ اپنے آپ کو مقرب پروردگار سمجھنے لگتے ہیں اور اپنے مقابلے میں سب لوگوں کو پست اور بے وقوف سمجھنے لگتے ہیں، جبکہ یہ اہل ایمان ایسے ہیں کہ اگر ایسا عظیم نیک عمل انجام دیں کہ جو تمام جن وانس کی عبادت کے برابر ہو تو بھی حضرت علی علیہ السلام کی طرح کہتے ہیں:
”آہ من قلة الزاد وبعد السفر“.
”آہ زادِ راہ کی کمی اور سفر کی طوالت“۔
یہ چار صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: ایسے لوگ ہیں کہ جو نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور دوسروں پر سبقت حاصل کرتے ہیں (اٴُوْلٰئِکَ یُسَارِعُونَ فِی الْخَیْرَاتِ وَھُمْ لَھَا سَابِقُونَ) ۔
در حقیقت حقیقی بھلائی اور سعادت وہ نہیں کہ جو عیش وعشرت میں غرق غافل ومغرور لوگ خیال کرتے ہیں، حقیقی خیر وسعادت اور برکت ان مومنین کے لئے ہے جو مندرجہ بالا اعتقادی اور اخلاقی اوصاف کے مالک ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اعمال صالح انجام دینے کے لئے پیش قدمی کرتے ہیں ۔
زیرِ بحث آیات میں ان پیش قدم مومنین کی بہت عمدہ، جاذب نظر، منطقی، مکمل اور منظم تصویر پیش کی گئی ہے ۔
یہ مومنین خدا سے ایسا خوف رکھتے ہیں کہ جس میں اخترام وتعظیم کی آمیزش ہے، یہ خوف آیات الٰہی پر ایمان لانے کا سبب بنتا ہے اور ہر قسم کے شرک ونفی کا ذریعہ قرار پایا ہے، یہ مومنین قیامت وعدالتِ الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو اساس ذمہ داری اور نیک کام کی بنیاد بن جاتا ہے، اس لحاظ سے اہلِ ایمان کی مجموعی طور پر چار صفات بیان کی گئی ہیں اور ایک نتیجہ پیش کیا گیا ہے ۔
ضمناً ”یُسَارِعُونَ“ کہ جو بابِ مفاعلہ سے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں تیزی کرنے کے معنیٰ ہے بہت عمدہ اور جاذب نظر تعبیر ہے، یہ تعبیر مومنین کے مثبت مقابلے کی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے کہ جو عظیم اور قیمتی مقصد کے لئے انجام پاتا ہے، یہ تعبیر ظاہر کرتی ہے کہ اہلِ ایمان کس طرح سے اعمال صالح میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کو کوشش کرتے ہیں اور توقف کے جدّ وجہد جاری رکھتے ہیں ۔
1۔ اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۷ میں سورہٴ اعراف کی ایہٴ ۱۸۲ کے ذیل میں رجوع فرمائیں ۔