سوره مؤمنون / آیه 62 - 67
وَلَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَلَدَيْنَا كِتَابٌ يَنْطِقُ بِالْحَقِّ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ۶۲بَلْ قُلُوبُهُمْ فِي غَمْرَةٍ مِنْ هَٰذَا وَلَهُمْ أَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذَٰلِكَ هُمْ لَهَا عَامِلُونَ ۶۳حَتَّىٰ إِذَا أَخَذْنَا مُتْرَفِيهِمْ بِالْعَذَابِ إِذَا هُمْ يَجْأَرُونَ ۶۴لَا تَجْأَرُوا الْيَوْمَ ۖ إِنَّكُمْ مِنَّا لَا تُنْصَرُونَ ۶۵قَدْ كَانَتْ آيَاتِي تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُونَ ۶۶مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ ۶۷
اور ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ہیں اور ہمارے پاس وہ کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا ہے. بلکہ ان کے قلوب اس کی طرف سے بالکل جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ان کے پاس دوسرے قسم کے اعمال ہیں جنہیں وہ انجام دے رہے ہیں. یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے مالداروں کو عذاب کی گرفت میں لے لیا تو اب سب فریاد کررہے ہیں. اب آج واویلا نہ کرو آج ہماری طرف سے کوئی مدد نہیں کی جائے گی. جب ہماری آیتیں تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو تم الٹے پاؤں واپس چلے جارہے تھے. اکڑتے ہوئے اور قصہّ کہتے اور بکتے ہوئے.
۶۲ وَلَانُکَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَھَا وَلَدَیْنَا کِتَابٌ یَنطِقُ بِالْحَقِّ وَھُمْ لَایُظْلَمُونَ
۶۳ بَلْ قُلُوبُھُمْ فِی غَمْرَةٍ مِنْ ھٰذَا وَلَھُمْ اٴَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذٰلِکَ ھُمْ لَھَا عَامِلُونَ
۶۴ حَتَّی إِذَا اٴَخَذْنَا مُتْرَفِیھِمْ بِالْعَذَابِ إِذَا ھُمْ یَجْاٴَرُونَ
۶۵ لَاتَجْاٴَرُوا الْیَوْمَ إِنَّکُمْ مِنَّا لَاتُنصَرُونَ
۶۶ قَدْ کَانَتْ آیَاتِی تُتْلَی عَلَیْکُمْ فَکُنتُمْ عَلیٰ اٴَعْقَابِکُمْ تَنکِصُونَ
۶۷ مُسْتَکْبِرِینَ بِہِ سَامِرًا تَھْجُرُونَ
ترجمہ
۶۲۔ اور ہم کسی شخص کو اس کی توانائی سے زیادہ ذمہ داری نہیں دیتے اور ہمارے پاس کتاب ہے (کہ جس میں تمام بندوں کے اعمال درج ہیں) اور جو بھی بات کہتی ہے، لہٰذا ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا ۔
۶۳۔ بلکہ ان کے دل اس نامہٴ اعمال (اور روز حساب اور آیاتِ قرآن) سے غفلت میں ہیں اور اس کے علاوہ وہ ایسے (بُرے) اعمال میں مبتلا ہیں کہ جنھیں وہ ہمیشہ انجام دیتے رہتے ہیں ۔
۶۴۔ یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کو گرفتارِ عذاب کریں گے، تو اس وقت وہ بڑی دردناک فریاد کریں گے ۔
۶۵۔ (لیکن ان سے کہا جائے گا) بندکرو یہ آہ وفغاں، آج ہماری طرف سے تمھاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی ۔
۶۶۔ (کیا تمھیں یاد نہیں کہ) میری آیتیں تمھیں سنائی جاتی تھیں تو تم منھ پھیر لیتے تھے اور اُلٹے پاوٴں بھاگ جاتے تھے ۔
۶۷۔ جبکہ آیتوں کے مقابلے میں تم غرور کرتے تھے اور راتوں کو اپنی بیٹھکوں میں تم بدگوئی کیا کرتے تھے .