۲۔ ”تراب“ اور ”عظام“ کا مفہوم
ثُمَّ أَنْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ ۳۱فَأَرْسَلْنَا فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ أَفَلَا تَتَّقُونَ ۳۲وَقَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِلِقَاءِ الْآخِرَةِ وَأَتْرَفْنَاهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا مَا هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ ۳۳وَلَئِنْ أَطَعْتُمْ بَشَرًا مِثْلَكُمْ إِنَّكُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ ۳۴أَيَعِدُكُمْ أَنَّكُمْ إِذَا مِتُّمْ وَكُنْتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا أَنَّكُمْ مُخْرَجُونَ ۳۵هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ ۳۶إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ ۳۷إِنْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا وَمَا نَحْنُ لَهُ بِمُؤْمِنِينَ ۳۸قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ ۳۹قَالَ عَمَّا قَلِيلٍ لَيُصْبِحُنَّ نَادِمِينَ ۴۰فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنَاهُمْ غُثَاءً ۚ فَبُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۴۱
اس کے بعد پھر ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا. اور ان میں بھی اپنے رسول کو بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تو کیا تم پرہیزگار نہ بنو گے. تو ان کی قوم کے ان رؤسائ نے جنہوں نے کفر اختیار کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کا انکار کردیا تھا اور ہم نے انہیں زندگانی دنیا میں عیش و عشرت کا سامان دے دیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ تو تمہارا ہی جیسا ایک بشر ہے جو تم کھاتے ہو وہی کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو وہی پیتا بھی ہے. اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے بشر کی اطاعت کرلی تو یقینا خسارہ اٹھانے والے ہوجاؤ گے. کیا یہ تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور خاک اور ہڈی ہوجاؤ گے تو پھر دوبارہ نکالے جاؤ گے. حیف صد حیف تم سے کس بات کا وعدہ کیا جارہا ہے. یہ تو صرف ایک زندگانی دنیا ہے جہاں ہم مریں گے اور جئیں گے اور دوبارہ زندہ ہونے والے نہیں ہیں. یہ ایک ایسا آدمی ہے جو خدا پر بہتان باندھتا ہے اور ہم اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں. اس رسول نے کہا کہ پروردگار تو ہماری مدد فرما کہ یہ سب ہماری تکذیب کررہے ہیں. ارشاد ہوا کہ عنقریب یہ لوگ پشیمان ہوجائیں گے. نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ایک برحق چنگھاڑنے اپنی گرفت میں لے لیا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ بنادیا کہ ظالم قوم کے لئے ہلاکت اور بربادی ہی ہے.
”تراب“ کا مطلب مٹی اور ”عظام“ کا معنیٰ ہڈیاں ہے، مرنے کے بعد عام طور پر جسدِ خاکی پہلے بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوتا ہے اور اس کے بعد مٹی بن جاتا ہے لیکن مذکورہ آیت میں ”تراب“ کو ”عظام“ پر مقدم کیا گیا ہے، سوال کیا جاسکتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟
اس کا ایک جواب یہ ہوسکتا ہے کہ ”تراب“ کہ شاید آیت میں جسد خاکی کو دوحصّے مانا گیا ہو، یعنی گوشت اور ہڈیاں، گوشت پہلے ہڈیوں سے الگ ہوکر گرجاتا ہے اور مٹی میں فنا ہوجاتا ہے، ہڈیاں سالوں بعد فنا ہوتی ہیں ۔
دوسرا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ ”تراب“ سے مراد زمانہٴ قدیم کے لوگ ہوں جو بالکل مٹی ہوچکے ہیں اور ”عظام“ سے ماضی قریب کے اسلاف ہوں، جن کی بوسیدہ ہڈیاں ابھی باقی ہیں (1) ۔
1۔ تفسیر روح المعانی، زیر بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں