Tafseer e Namoona

Topic

											

									  پرتعیش زندگی اور اس کے منحوس نتائج

										
																									
								

Ayat No : 31-41

: المؤمنون

ثُمَّ أَنْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ ۳۱فَأَرْسَلْنَا فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ أَفَلَا تَتَّقُونَ ۳۲وَقَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِلِقَاءِ الْآخِرَةِ وَأَتْرَفْنَاهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا مَا هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ ۳۳وَلَئِنْ أَطَعْتُمْ بَشَرًا مِثْلَكُمْ إِنَّكُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ ۳۴أَيَعِدُكُمْ أَنَّكُمْ إِذَا مِتُّمْ وَكُنْتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا أَنَّكُمْ مُخْرَجُونَ ۳۵هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ ۳۶إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ ۳۷إِنْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا وَمَا نَحْنُ لَهُ بِمُؤْمِنِينَ ۳۸قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ ۳۹قَالَ عَمَّا قَلِيلٍ لَيُصْبِحُنَّ نَادِمِينَ ۴۰فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنَاهُمْ غُثَاءً ۚ فَبُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۴۱

Translation

اس کے بعد پھر ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا. اور ان میں بھی اپنے رسول کو بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تو کیا تم پرہیزگار نہ بنو گے. تو ان کی قوم کے ان رؤسائ نے جنہوں نے کفر اختیار کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کا انکار کردیا تھا اور ہم نے انہیں زندگانی دنیا میں عیش و عشرت کا سامان دے دیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ تو تمہارا ہی جیسا ایک بشر ہے جو تم کھاتے ہو وہی کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو وہی پیتا بھی ہے. اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے بشر کی اطاعت کرلی تو یقینا خسارہ اٹھانے والے ہوجاؤ گے. کیا یہ تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور خاک اور ہڈی ہوجاؤ گے تو پھر دوبارہ نکالے جاؤ گے. حیف صد حیف تم سے کس بات کا وعدہ کیا جارہا ہے. یہ تو صرف ایک زندگانی دنیا ہے جہاں ہم مریں گے اور جئیں گے اور دوبارہ زندہ ہونے والے نہیں ہیں. یہ ایک ایسا آدمی ہے جو خدا پر بہتان باندھتا ہے اور ہم اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں. اس رسول نے کہا کہ پروردگار تو ہماری مدد فرما کہ یہ سب ہماری تکذیب کررہے ہیں. ارشاد ہوا کہ عنقریب یہ لوگ پشیمان ہوجائیں گے. نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ایک برحق چنگھاڑنے اپنی گرفت میں لے لیا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ بنادیا کہ ظالم قوم کے لئے ہلاکت اور بربادی ہی ہے.

Tafseer

									مذکورہ بالا آیتوں میں اشراف کی پر تعیش زندگی اور قیامت ومعاد سے انکار میں ایک خاص ربط نظر آتا ہے، حقیقت بھی یہی ہے، پُرتعیش زندگی بسر کرنے والے عام طور پر ماوٴ پدر آزادی چاہتے ہیں، حیوانی لذّات اور مادی جذبات کی تسکین کے لئے ہر ہتھکنڈے کو جائز سمجھتے ہیں، واضح ہے کہ الله کی نگرانی اور قیامت کی عدالت پر ایمان ان کے اس طرزِعمل میں زبردست رکاوٹ پیدا کرتا ہے ۔
ان کے دل مطمئن رہتے ہیں اور عوام الناس کو ان کے خلاف زبان کھولنے کی جرئت ہوتی ہے، اسی سبب سے ایسے مبداء اور الله کی طرف بازگشت کاانکار کردیتے ہیں اور اس کی بندگی کا جواز یکسر اپنے گلے سے اتار پھینکتے ہیں اور مذکورہ بالا آیت کے بقول وہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ زندگی اسی دنیا کی زندگی ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں اور جو شخص بھی اس کے علاوہ کچھ کہتا ہے ۔ وہ جھوٹا ہے، اس دنیا میں جتنا وقت بھی ملے اس کو غنیمت جانو، چار دن کی زندگی ہنسی خوشی گزار دو، ہر درخت کا پھل چکھو، لذّت کا ذریعہ استعمال کرو اور ہر لذّت کا لطف اٹھاوٴ.... وغیرہ وغیرہ۔ یوں وہ اپنی سیاہ کاریوں اور بداعمالیوں کی توجیہہ کرتے رہتے ہیں ۔
علاوہ بریں ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی کے وسائل دوسروں کے حقوق نصب کرکے ہی مہیّا کئے جاسکتے ہیں اور ان پر ہر طرح کا ظلم روا رکھا جاتا ہے، انبیاء کی نبوت اور قیامت کا انکار کئے بغیر طمطراق سے زندگی بسر ہی نہیں ہوسکتی اور وہ یہ مقام ہے جہاں تک پہنچنے والوں کی اکثریت عام مشاہدہ کے مطابق ہر حقیقت سے صرف نظر آتی ہے اور قابلِ احترام حقائق کو نہایت تحقیرکے ساتھ روندتی چلی جاتی ہے ۔ یہ دل کے اندھے اور بہرے، ہوس نفسانی کے چنگل میں پوری طرح جکڑے ہوتے ہیں ۔ الله کی اطاعت اور لطف وکرم سے محروم ہوجاتے ہیں، مگر شہوات حیوانی کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں، دوسروں کے غلاموں کی بندگی کرتے ہیں، یہ لوگ کوتاہ فکر ، پست خیال، کورہ ذہن، غلیظ رُوح اور تاریک دل ہوتے ہیں، ان کی زندگی کا دور منتظر اور ظاہر شاید بعض لوگوں کے لئے خوش نماز اور جاذبِ نظر ہو، مگر قریب کا منظر اور حقیقی حال وحشتناک اور گھناوٴنا ہوتا ہے، کیونکہ ارتکاب گناہ اور جرائم کی وجہ سے برابر مضطرب اور بے چین رہتے ہیں ۔ اور تعیش وعیش پرستی کے وسائل چھن جانے اور موت آنے کا خوف ہمہ گیر خوف ان کو مسلسل بے قرار رکھتا ہے ۔