Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳۔ ”غثاء“ سے کیا مراد ہے

										
																									
								

Ayat No : 31-41

: المؤمنون

ثُمَّ أَنْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ ۳۱فَأَرْسَلْنَا فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ أَفَلَا تَتَّقُونَ ۳۲وَقَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِلِقَاءِ الْآخِرَةِ وَأَتْرَفْنَاهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا مَا هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ ۳۳وَلَئِنْ أَطَعْتُمْ بَشَرًا مِثْلَكُمْ إِنَّكُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ ۳۴أَيَعِدُكُمْ أَنَّكُمْ إِذَا مِتُّمْ وَكُنْتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا أَنَّكُمْ مُخْرَجُونَ ۳۵هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ ۳۶إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ ۳۷إِنْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا وَمَا نَحْنُ لَهُ بِمُؤْمِنِينَ ۳۸قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ ۳۹قَالَ عَمَّا قَلِيلٍ لَيُصْبِحُنَّ نَادِمِينَ ۴۰فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنَاهُمْ غُثَاءً ۚ فَبُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۴۱

Translation

اس کے بعد پھر ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا. اور ان میں بھی اپنے رسول کو بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تو کیا تم پرہیزگار نہ بنو گے. تو ان کی قوم کے ان رؤسائ نے جنہوں نے کفر اختیار کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کا انکار کردیا تھا اور ہم نے انہیں زندگانی دنیا میں عیش و عشرت کا سامان دے دیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ تو تمہارا ہی جیسا ایک بشر ہے جو تم کھاتے ہو وہی کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو وہی پیتا بھی ہے. اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے بشر کی اطاعت کرلی تو یقینا خسارہ اٹھانے والے ہوجاؤ گے. کیا یہ تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور خاک اور ہڈی ہوجاؤ گے تو پھر دوبارہ نکالے جاؤ گے. حیف صد حیف تم سے کس بات کا وعدہ کیا جارہا ہے. یہ تو صرف ایک زندگانی دنیا ہے جہاں ہم مریں گے اور جئیں گے اور دوبارہ زندہ ہونے والے نہیں ہیں. یہ ایک ایسا آدمی ہے جو خدا پر بہتان باندھتا ہے اور ہم اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں. اس رسول نے کہا کہ پروردگار تو ہماری مدد فرما کہ یہ سب ہماری تکذیب کررہے ہیں. ارشاد ہوا کہ عنقریب یہ لوگ پشیمان ہوجائیں گے. نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ایک برحق چنگھاڑنے اپنی گرفت میں لے لیا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ بنادیا کہ ظالم قوم کے لئے ہلاکت اور بربادی ہی ہے.

Tafseer

									مذکورہ بالا آیت کے مطابق ”صیحہ آسمانی“ کی وجہ سے قومِ ثمود ”غثاء“ کی طرح ہوگئی ۔ ”غثاء“ کے لغوی معنیٰ ”بھوسے“ کے ہیں، جو سیلاب کے پانی کے اوپر انتہائی پراکندہ صورت میں نظر آتا ہے، اس جھاگ کو بھی ”غثاء“ کہتے ہیں جو پکّے ہوئے کھانے کی دیگ میں جوش کی صورت میں اوپر آجاتی ہے ۔ قوم ثمود کے بے جان لاشوں کو ”غثاء“ سے تشبیہ دینا اور در اصل ان کی نہایت کمزور شکستہ، منتشر اور ذلیل وپست کیفیت کو بیان کرنے کے لئے ہے ۔ کیونکہ سیل تندر کی طاقت وعظمت کے سامنے حقیر بھوسے کے تنکے کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے ۔ سیلاب کے وقت بھوسہ اپنے ارادے اور مرضی سے کوئی حرکت کرسکتا ہے اور نہ سیلاب کے بعد اس کا کوئی نام ونشان باقی رہتا ہے ۔
”صیحہٴ آسمانی“ کے بارے میں اس تفسیر کی جلد ۹میں سورہٴ ہُود آیت نمبر۶۷ کی تفسیر کے ذیل میں ہم مفصّل بیان کرچکے ہیں ۔ البتہ یہ عذاب صرف قومِ ثمود پر ہی نازل نہیں ہوا، بلکہ بعض دوسری نافرمان قوموں پر بھی آیا ہے، جن کی تفصیل اپنے مقام پر بیان کردی گئی ہے ۔