Tafseer e Namoona

Topic

											

									  توحید کی نشانیوں کا ایک بار پھر تذکرہ

										
																									
								

Ayat No : 17-22

: المؤمنون

وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِينَ ۱۷وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَسْكَنَّاهُ فِي الْأَرْضِ ۖ وَإِنَّا عَلَىٰ ذَهَابٍ بِهِ لَقَادِرُونَ ۱۸فَأَنْشَأْنَا لَكُمْ بِهِ جَنَّاتٍ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ لَكُمْ فِيهَا فَوَاكِهُ كَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ ۱۹وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُورِ سَيْنَاءَ تَنْبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِلْآكِلِينَ ۲۰وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۖ نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهَا وَلَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ كَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ ۲۱وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ ۲۲

Translation

اور ہم نے تمہارے اوپر تہ بہ تہ سات آسمان بنائے ہیں اور ہم اپنی مخلوقات سے غافل نہیں ہیں. اور ہم نے آسمان سے ایک مخصوص مقدار میں پانی نازل کیا ہے اور پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیا ہے جب کہ ہم اس کے واپس لے جانے پر بھی قادر تھے. پھر ہم نے اس پانی سے تمہارے لئے خرمے اور انگور کے باغات پیدا کئے ہیں جن میں بہت زیادہ میوے پائے جاتے ہیں اور تم ان ہی میں سے کچھ کھا بھی لیتے ہو. اور وہ درخت پیدا کیا ہے جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے اس سے تیل بھی نکلتا ہے اور وہ کھانے والوں کے لئے سالن بھی ہے. اور بیشک تمہارے لئے ان جانوروں میں بھی عبرت کا سامان ہے کہ ہم ان کے شکم میں سے تمہارے سیراب کرنے کا انتظام کرتے ہیںاور تمہارے لئے ان میں بہت سے فوائد ہیں اور ان میں سے بھی تم کھاتے ہو. اور تمہیں ان جانوروں پر اور کشتیوں پر سوار کیا جاتا ہے.

Tafseer

									ہم نے اوپر بیان کیا کہ مومنین کے اوصاف بیان کرنے کے بعد قرآن مجید ایمان کے حصول کے طریقے بیان کرتا ہے گذشتہ آیتوں میں الله کی قدرت وعظمت کی وہ نشانیاں جو خود ہمارے جسموں میں موجود ہیں کا تذکرہ کیا گیا ۔ زیرِ بحث آیتوں میں انسان سے باہر کی کائنات میں الله کی نشانیوں میں سے زمین وآسمان میں اس کی عظمتِ قدرت کے مظاہر تذکرہ ہے ۔
سب سے پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے تمھارے اوپر سات راستے بنائے ہیں (وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ) ۔
”طرائق“ طرقہ کی جمع ہے اور اس کا مطلب راستہ یا عمارت کی منزل ہے اوّل الذکر معنیٰ کی بنیاد پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے تمھارے اُوپر سات راستے بنائے ۔ شاید یہ فرشتوں کی آمد ورفت کا ذکر ہو یا ستاروں اور سیاروں کے مداروں کا ذکر ہو ۔ موٴخر الذکر معنیٰ کی بنیاد پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے تمھارے اوپر سات منزلیں (سات آسمان) بنائے ۔
سات آسمان کے بارے میں ہم بہت کچھ بیان کرچکے ہیں ۔ یہاں صرف اشارہ عرض ہے کہ اگر سات کے عدد کو تکثیر کے معنیٰ میں لیں تو اس کا مفہوم ہوگا کہ تمھارے اوپر بہت سے کرّات سماوی، اجرامِ فلکی، عوالم، ستارے اور سیّارے ہیں ۔
منزلوں کا مفہوم کسی بھی طرح بطلیموسی نظریئے پر منطبق نہیں ہوتا کہ جس کے مطابق سات آسمان پیاز کے چھلکوں کی طرح ایک دوسرے کے اوپر موجود ہیں اور نہ ہی یہ تصوّر ہوسکتا ہے قرآن مجید ایک باطل مفروضے کو اپنی گفتگو کی بنیاد بنائے، بلکہ طرائق اور طبقات اس حقیقت کی طرف اشارہ ہیں کہ ہم سے مختلف فاصلوں پر مختلف عوالم اور جہان آباد ہیں اور ہمارے لحاظ سے ان میں سے ہر ایک دوسرے اُوپر ہے، بعض بہت دور ہیں اور بعض بہت نزدیک۔
اور ”سبع“ کے معنیٰ صرف سات لیں تو مفہوم یہ ہوگا کہ جس کائنات کو ہم دیکھتے ہیں (جو ہماری کہکشاوٴں ، سیاروں اور ستاروں کا مجموعہ ہے) اس کے علاوہ اور عالم ہیں جو ہمارے اوپر بنائے گئے ہیں اور جن تک ابھی انسان کو دسترس حاصل نہیں ہوئی ہے ۔
اگر نظام شمسی کا بغور جائزہ لیں، سورج کے گرد مختلف سیاروں کی ترتیب کا گہرا مطالعہ کریں تو ایک اور تفسیر بھیکی جاسکتی ہے وہ یہ کہ سورج کے گرد گھومنے والے سیاروں کی کل تعداد ۹ ۹ہے، عطارد اور زہرہ نامی دو سیاروں کا مدار زمین کے نیچے ہے اور باقی چھ سیاروں کا مدار زمین کے اُوپر عین اس طرح ہے جس طرح چند منزلہ عمارت کی منزلیں ہوتی ہیں ۔ مزید برآں چاند کا مدار بھی زمین کے اوپر ہی ہے، اس طرح زمین کے اوپر منزل بہ منزل کل سات مدار ہوئے گویا زمین کے اوپر سات منزلیں قرار پاتی ہیں (غور کیجئے گا) (1)۔
مختلف کہکشاوٴں اور عوالم کی کثرتِ وسعت سے شاید کسی کے ذہن میں یہ سوال اُبھرے کہ ان کا پیدا کرنے والا کہیں ان سے غافل نہ ہوجائے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے آیت کے آخری حصّے میں ارشاد ہوتا ہے: ہم اپنی پیدا کردہ خلقت سے غافل نہ تھے اور نہ ہیں (وَمَا کُنَّا عَنْ الْخَلْقِ غَافِلِینَ) ۔
یہاں لفظ ”خلق“ استعمال کرکے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے کہ”خلقت“ کا وجود بجائے خود دلیل ہے کہ پیدا کرنے والے کے علم میں سب کچھ ہے اور اس کی پوری توجہ اس کی طرف مبذول ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ پیدا کرنے والا اپنی مخلوق سے غافل ہو ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کی تفسیر یہ ہو کہ ہم نے فرشتوں کی آمد ورفت کے لئے تمھارے اوپر بہت سے راستے بنا رکھے ہیں، ہم تمھارے حالات سے بے خبر نہیں اور ہمارے فرشتے بھی تمھاری حرکات وسکنات کے گواہ ہیں ۔
بعد کی آیت زمین وآسمان کی ان گنت برکتوں اور نعمتوں اور الله کی قدرت کاملہ کے لاتعداد مظاہر میں سے ایک مظہر بارش کے بارے میں کہہ رہی ہے: ہم نے آسمان سے ایک معین مقدار میں پانی اتارا (وَاٴَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ) ۔ نہ اتین زیادہ بارش کہ بہالے جانے والا سیلاب بن جائے اور نہ اتنی کم کہ نباتات وحیوانات کی پیاس بھی نہ بجھے ۔ اس میں شک نہیں کہ آسمانوں کے بعد جب زمین پر نظریں کریں تو عطیات پروردگار میں سے اہم ترین عطیہ پانی ہے جو تمام زندہ موجودات کی زندگی کا ضامن ہے ۔ اس کے بعد اس سلسلے کا ایک اور زیادہ اہم مسئلہ یعنی زیرِ زمین پانی کے ذخائر کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے اس پانی کو زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں محفوظ کیا ہے، حالانکہ اگر ہم چاہتے کہ اسے ختم کردیں تو ہمیں ایسا کرنے کی پوری طاقت ہے (فَاٴَسْکَنَّاہُ فِی الْاٴَرْضِ وَإِنَّا عَلیٰ ذَھَابٍ بِہِ لَقَادِرُونَ) ۔
ہم جانتے ہیں کہ زمین کی دو بالکل مختلف طبقوں سے تشکیل پائی ہے ایک پانی کو اپنے اندر جذب کرنے اور دوسرا جذب نہ کرنے والا ۔ اگر زمین کا کرلسیٹ (THECROST) ہر جگہ جاذب ہوتا تو چاہے کتنا ہی مینھ برستا زمین زمین کے اندر ہی جذب ہوکر اس کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ۔ وسیع وعریض زمین کی تمام سطح خشک رہتی اور پانی کا ایک قطرہ تک نہ ملتا ۔
اس کے برعکس اگر ہر جگہ زمین کی سطح غیر جاذب اور سنگلاخ ہوتی تو بارش کا سارے کا سارا پانی سطح زمین کے اوپر ہی رہتا اور رطوبت تعفّن کا یہ عالم ہوتا کہ عرصہٴ زمین انسان کے تنگ ہوجاتا اور زندگی کا ضامن پانی انسان کی ہلاکت کا ذریعہ بن جاتا لیکن احسان کرنے والے عظیم الله نے زمین کی سطح کے اوپر کے حصّے کو جاذب آب اور نچلے حصّے کو غیر جاذب بنایا تاکہ سطح زمین سے پانی نیچے چلا جائے، مگر اتھاہ گہرایئوں میں کم ہونے کی بجائے ایک خاص گہرائی تک جاکر غیر جاذب سطح پر رُک کر اکھٹا ہوجائے تاکہ بعد میں کنووٴں اور چشموں اور ٹیوپ ویلوں کی صورت میں فضا کو مکدر کئے بغیر انسان کے لئے قابلِ استفادہ بن سکے ۔
یہ خوشگوار اور مزیدار پانی جو آج ہم گہرے کنووٴں سے نکال کر اپنے اندر نئی توانائی پیدا کرتے ہیں شاید ہزاروں برس پہلے برسنے والی گھٹاوٴں کا ہو جو متعفن ہوئے بغیر آج کے لئے جمع کیا گیا ہو، بہرحال وہ ذات بابرکات جس نے انسان کو زندگی کے لئے پیدا کیا ہے اور پانی کو زندگی کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے، اس نے انسان سے بہت پہلے اس مادہٴ جیات کو جمع کرنے کے لئے اہم ذخائر پیدا کئے اور ان میں پانی جمع کیا ۔
البتہ ”برف“ کی صورت میں اس مادہٴ حیات کا ایک حصّہ پہاڑوں کی چوتیوں پر بھی ہے جو یا تو سال بھر برابر پگھل پگھل کر دریاوٴں کا منبع قرار پاتا ہے یا صدیوں بلکہ ہزاروں سال ”گلیشیر“ کی صورت می وہیں رُکا رہتا ہے، حتّیٰ کہ موسمی تغیر وتبدل کے ذریعے اسے نیچے پھیلنے کا حکم دیا جاتا ہے تاکہ پیاسے اور خشک بیابانوں کو سیراب کرے ۔
لیکن ”فی الارض“ میں ”ارض“ ”فی“ پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ آیت زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی طرف اشارہ کررہی ہے نہ کہ اوپر کے ذخائر کی طرف۔

۱۔ یادر رہے کہ گندے پانی کا زمین میں جذب ہونا اس کی تطہیر کا سبب بنتا ہے ۔
اس کے بعد بارش کے بابرکت اثرات اور اسے خونے والی پیداور کی طرف اارہ ہورہا ہے: اور اس کے ذریعے ہم نے تمھارے لئے کھجور اور انگور کے باغ اُگادیئے جن میں تمھارے کھانے کے لئے ڈھیر سارے پھل موجود ہیں (فَاٴَنشَاٴْنَا لَکُمْ بِہِ جَنَّاتٍ مِنْ نَخِیلٍ وَاٴَعْنَابٍ لَکُمْ فِیھَا فَوَاکِہُ کَثِیرَةٌ وَمِنْھَا تَاٴْکُلُونَ) ۔
بارش سے پیدا ہونے والے پھل صرف کھجور اور انگور ہی تو نہیں ہیں بلکہ طرح طرح کے ان گنت پھل ہیں اور دیگر پیداوار بھی ہے ۔ آیت میں صرف ان دو مجموعی پیداوار میں سے عمدہ اور اعلیٰ ہونے کی بناء پر کیا گیا ہے اور ”مِنْھَا تَاٴْکُلُونَ“ یعنی ”ان میں سے تم کھاتے ہو“ ، شاید اس طرف اشارہ ہو نعمتوں سے مالا مالان باغوں میں صرف پھل فروٹ ہی تو نہیں بلکہ یہ کھانے پینے کی چیزیں ان گنت پیداوار کا ایک حصّہ ہیں ۔
نخلستان سمین تمام باغات انسان کی غذائی ضروریات کے علاوہ اور بہت سے فوائد کے حامل ہیں ۔ مثلاً ان کے پتوں سے چتائیاں اور بعض اوقات کپڑے بھی بنتے ہیں، ان کی لکڑی سے گھر، فرینچر اور سواریاں بنتی ہیں ۔ بعض درختوں کی جڑی بوٹیوں سے دوائیاں تیار کی جاتی ہیں، انسان کے کام کرنے والے جانور پتّوں سے پیٹ پالتے ہیں اور لکڑیاں بطور ایندھن استعمال ہوتی ہیں ۔
فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں ”مِنْھَا تَاٴْکُلُونَ“ سے ایک اور احتمال کا اظہار کیا ہے ۔ بقول ان کے اس سے یہ مراد ہے کہ یہ باغات تمھارا ذریعہٴ معاش ہیں طرح ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص کام سے روتی کھاتا ہے ۔ یعنی اس کی زندگی گزر بسر اس کام پر ہے (2)۔ 
یہ نکتہ توجہ طلب ہے کہ زیرِ بحث آیت میں زندگی کا نقطہٴ آغاز ”نطفے کے پانی“ اور نباتاتی زندگی کا نقطہٴ ”بارش کا پانی“ بیان کیا گیا ہے، حقیقت بھی یہی ہے ۔ زندگی کے ان دونمونوں کا سرچشمہ پانی ہے، بیشک ہر جگہ الله کا ایک ہی قانون حکم فرما ہے ۔
اس کے بعد بارش کے پانی سے نمو پانے والے ایک اور بابرکت درخت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ کھجور انگور اور دیگر پھلوں کے درختوں کے علاوہ ”طور سینا سے اُگنے والا ایک اور درخت بھی ہے جس سے تیل اور سالن کھانے والوں کو حاصل ہوتا ہے“ (وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُورِ سَیْنَاءَ تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ وَصِبْغٍ لِلْآکِلِینَ) ۔
۱۔ صحرائے سینا میں موجود مشہور ”کوہ طور“ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید کے کوہِ طور سے اگنے والے درخت کو ”زیتون کا درخت“ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ حجاز کے عرب جب بے آب وگیاہ صحراوٴں سے گزرتے ہوئے شمال کی طرف بڑھتے تھے ۔ تو زیتون کے درختوں سے بھرا ہوا پہلا زرخیز علاقہ صحرائے سینا کے جنوب میں یہی طور طر یقہ تھا (نقشہ دیکھنے سے بات اچھی طرح سمجھ سکتی ہے) ۔
۲۔ طور سینا صفت استعمال ہوا ہے یہ اصطلاح بابرکت اور مقدس پہاڑ یا درختوں سے بھرا ہوا پہاڑ دریا خوبصورت وحسین پہاڑ کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے ۔ کیونکہ ”طور“ بمعنیٰ پہاڑ ہے اور ”سینا“ بابرکت، خوبصورت اور سرسبز وشاداب کے معنیٰ میں ہے ۔
”صبغ“ کا مطلب در اصل ”رنگ“ ہے عام طور پر کھانا کھاتے ہوئے انسان جب چپاتی سالن کے ساتھ کھاتا ہے تو وہ رنگین ہوجاتی ہے لہٰذا تمام قسم کے روٹی سالن کو ”صبغ“ کہا گیا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لفظ ”صبغ“ زیتون کے تیل کی طرف اشارہ کررہا ہو، جسے کھانے کے ساتھ کھایا جاتا ہے یا مختلف قسم کے کھانوں کی طرف اشارہ ہو جو مختلف درختوں سے تیار کئے جاتے ہیں ۔
اس مقام پر ایک سوال ذہن میں آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ طرح طرح کے بے شمار پھلوں میں سے صرف کھجور، انگور اور زیتون تین پھلوں کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ماہرین خوراک کی جدید تحقیق کے مطابق بہت کم پھل ایسے ہیں جو انسانی صحت کے لئے ان تین پھلوں کے برابر مفید اور موٴثر ہوں ۔ 
زیتون کا تیل انسانی بدن کی ساخت اور مفید رطوبتوں کے لحاظ سے بڑی قابل قدر شئے ہے، اس میں حرارتی عنصر بہت زیادہ ہے، جگر کے لئے مفید ہے اور گردوں کے کئی عارضوں کو ختم کرنے والا ہے، گردے کے درد اور پتھری کا بہترین نسخہ ہے ۔ اعصاب کے لئے مقوی ہے، مختصر یہ کہ انسانی صحت کے لئے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔
”کھجور“ کی اتنی تعریف کی گئی ہے کہ اس کتاب کی گنجائش سے باہر ہے، کھجور سے حاصل کی ہوئی چینی اعلیٰ اور مکمل چینی ہے ماہرینِ خوراک کی اکثریت کے مطابق کھجور ”مانع سرطان“ ہے، ماہرین نے اس میں تیرہ قسم کی حیاتیں اور پانچ قسم کے وٹامن کا انکشاف کیا ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ کھجور کی قیمتی غذا کے سرچشمہ کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔
اور ”انگور “ بعض ماہرین کے مطابق ایک فطری ”میڈیکل سٹور“ ہے، انسانی بدن کے لئے شیر مادر کی سی خاصیتیں رکھتا ہے، جسم میں گوشت سے دگنی حرارت پیدا کرتا ہے ، مصفیٰ خون ہے، بدن کے زیریلے مادے خارج کردیتا ہے اور اس میں موجود طرح طرح کے وٹامن انسان کو قوت وطاقت دیتے ہیں (3) ۔ 
نباتاتی نعمتوں کے بعد بارش کے پانی سے پلنے والی حیواناتی نعمتوں کے ایک اہم حصّہ کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے ۔ چوپایوں میں تمھارے لئے لمحہ فکریہ ہے (وَإِنَّ لَکُمْ فِی الْاٴَنْعَامِ لَعِبْرَةً ) (4)۔ 
پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ ان کے پیٹ میں ہے اس سے ہم تمھیں سیرا ب کرتے ہیں(نُسقِیکُمْ مِمَّا فِی بُطُونِھَا) ۔
بیشک خون اور اسی طرح کے کئی ایک غلاظتوں میں سے ”دودھ“ جیسی چیز مزیدار اور خوشگوار مقوی اور مکمل غذا نکالی جاتی ہے، تاکہ انسان سمجھ سکے کہ الله آلودہ چیزوں میں سے پاک اور مزیدار چیز کا نکالنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔
اس کے بعد مزید کہا جارہا ہے کہ جانوروں سے متعلق سبق آموز امور کی برکتیں اور نعمتیں صرف دودھ تک ہی محدود بلکہ ان میں تمھارے لئے اور بھی فائدے ہیں اور تم ان کا گوشت کھاتے ہو (وَلَکُمْ فِیھَا مَنَافِعُ کَثِیرَةٌ وَمِنْھَا تَاٴْکُلُونَ) ۔
حدّ اعتدال میں رہتے ہوئے گوشت کا استعمال جسم کی غذائی ضرورت کو پورا کرتا ہے، اس کے علاوہ ان کی کھالیں کئی قسم کے لباس اور شامیانے وغیرہ بنانے کے کام آتی ہیں، ان کے بالوں سے چٹائیاںن لباس، اون اور کئی طرح کے اوچھاڑ وغیرہ بنائے جاتے ہیں، ان کے بدن کے بعض اعضاء سے دوائیاں بنتی ہیں، حتّیٰ کہ ان کے گوبر سے ایندھن کے علاوہ درختوں اور فصلوں کے لئے بری مفید کھاد تیار کی جاتی ہے ۔، ان سب سے قطع نظر سواری کے لئے خشکی میں چوپایوں کو اور دریاوٴں میں کشتی کو استعمال کرتے ہو اور اپنی منزلوں تک پہنچتے ہو (وَعَلَیْھَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُونَ) ۔ 
جانوروں کی انواع ، خواص اور فوائد واقعی سرمایہٴ غور وفکر ہیں، ایک طرف یہ انسان کو ان نعمتوں کے پیدا کرنے والے کی معرفت دلاتے ہیں اور دوسری طرف اس کوشکرگزاری کی طرف بھی متوجہ کرتے ہیں ۔ 
یہاں صرف ایک سوال باقی رہتا ہے، وہ یہ کہ چوپائے اور کشتیاں ایک ہی صف میں کیسے کھڑی کردی گئی ہیں؟ ایک نقطے کو سمجھنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ انسان کو ساری زمین میں سواری کی ضرورت ہے، اس لئے بَرّی سواری کے ساتھ ساتھ بحری سواری کا بھی ذکر کردیا گیا ہے ۔ دراصل سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۷۰ میں بھی انسان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کے ذیل میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے: 
<وَحَمَلْنَاھُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
”ہم انھیں خشکیوں اور پانیوں میں اِدھر اُدھر لے جاتے ہیں“۔
1۔ سات آسمانوں کی مزید وضاحت کے لئے اسی تفسیر کی پہلی جلد میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۹ کی تفسیر ملاحظہ ہو ۔
2۔ پہلی تفسیر کی بناء پر ”من“ تبعیضیہ“ ہے اور دوسری کے مطابق ”نشویہ“ ہے ۔
3۔ ان تین حیات بخش پھلوں کی مزید تفصیلات کے لئے اس تفسیر کی جلد ۱۱ صفحہ۱۷۲ پر سورہٴ نحل کی آیت ۱۱ کی تفسیر ملاحظہ ہو ۔
4۔ یہاں ”عبرہ“ کا بطور نکرہ استعمال اس عظمت کے اظہار کے لئے ہے ۔